Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔659)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 659)

ادھر ایک مسلمان ہتھیار لگائے ہوئے اس کا فر کا انتظار کررہا تھا ۔پھر میں وہاں سے چلا اور اس مسلمان کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور دیکھ کر اس کافر اور اس مسلمان کا اندازہ لگانے لگا تو یہی نظر آیا کہ کافر کے ہتھیار اور اس کی لڑائی کے لیے تیاری زیادہ ہے۔ میں دونوں کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ دونوں کا آمناسامنا ہو گیا اور مسلمان نے اس کافر کے کندھے پر اس زور سے تلوار ماری جو اسے چیرتی ہوئی اس کی سرین تک چلی گئی اور وہ کافر دوٹکڑے ہوگیا۔ پھر مسلمان نے اپنے چہرے سے (نقاب) ہٹا کر کہا:اے کعب! تم نے کیا دیکھا ؟ میں ابو دجانہ ہوں۔

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی بہادری

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کو ہدیہ میں ایک کمان ملی، آپﷺ نے وہ کمان اُحد کے دن مجھے دے دی۔ میں اس کمان کو لے کر حضورﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر خوب تیر چلاتا رہا یہاں تک کہ اس کا سرا ٹوٹ گیا۔ میں برابر حضورﷺ کے چہرے کے سامنے کھڑا رہا اور میں اپنے چہرے پر تیروں کو لیتا رہا۔جب بھی کوئی تیر آپ ﷺ کے چہرے کی طرف مڑ جاتا تو میں اپنے سر کو گھما کر تیر کے سامنے لے آتا اور حضورﷺ کے چہرے کو بچا لیتا ( چونکہ میری کمان ٹوٹ چکی تھی اس لیے) میں تیر تو چلا نہیں سکتا تھا۔ پھر آخر میں مجھے ایک تیر ایسا لگا جس سے میری آنکھ کا ڈیلا ہاتھ پر آگرا۔ میں اسے ہتھیلی پر رکھے ہوئے آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب آپﷺ نے آنکھ کا ڈیلا میری ہتھیلی میں دیکھا تو آپﷺ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپﷺ نے دعاء دی:اے اللہ! قتادہ نے اپنے چہرے کے ذریعہ آپ کے نبی کے چہرہ کو بچایا ہے ،لہٰذا تو اس کی اس آنکھ کوزیادہ خوبصورت اور زیادہ تیز بنادے۔

 چنانچہ ان کی وہ آنکھ دوسری آنکھ سے زیادہ خوبصورت اور تیز نظر والی ہوگئی۔

دوسری روایت میں ہے کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں غزوئہ اُحد کے دن حضورﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے چہرہ سے حضورﷺ کے چہرہ کی حفاظت کرتا رہا اور حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ اپنی پشت سے حضورﷺ کی پشت مبارک کی حفاظت کرتے رہے حتیٰ کہ ان کی پشت تیروں سے بھر گئی اور یہ بھی غزوئہ اُحد کے دن ہوا تھا۔

 حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی بہادری

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صلح ِ حدیبیہ کے زمانے میں حضورﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ آئے۔ پھر میں اور حضورﷺ کے غلام حضرت رباح رضی اللہ عنہ دونوں حضورﷺ کے اونٹوں کو لے کر باہر نکلے اور میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا گھوڑا لے کر نکلاتا کہ اس کو بھی ان اونٹوں کے ساتھ چرالائوں اور پانی پلالائوں۔ ابھی صبح ہوچکی تھی لیکن کچھ اندھیرا باقی تھا کہ عبدالرحمن بن عیینہ نے حضورﷺ کے اونٹوں کو (کافروں کے مجمع کے ساتھ) لوٹ لیا اور اونٹوں کے چروا ہے کو قتل کردیااور اپنے گھڑ سوار ساتھیوں سمیت ان اونٹوں کو ہانک کر لے گیا۔ میں نے کہا:اے رباح !تم اس گھوڑے پر بیٹھ جائو اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو یہ گھوڑا جا کر دے دو اور حضورﷺ کو بتا دو کہ ان کے اونٹوں کو لوٹ کر لے گئے ہیں۔

میں نے ایک پہاڑ پر چڑھ کر مدینہ منورہ کی طرف منہ کیا اور تین مرتبہ زور سے یہ آواز لگائی:

یا صبا حاہ! ( اے لوگو! دشمن نے لوٹ لیا ہے، مدد کے لئے آئو)پھر میں اپنی تلوار اور تیر لے کر ان کافروں کا پیچھا کرنے لگا اور تیر چلا کر ان کی سواری کے جانوروں کو مارنے لگا اور مجھے ان پر تیر چلانے کا موقع اس وقت ملتا جب گھنے درخت آجاتے۔ جب کوئی سوار میر ی طرف واپس آتا میں  اس کے جانور کو ضرور زخمی کرتا۔ میں ان کو تیر مارتا جاتا تھا اور یہ شعر پڑھتا جاتا تھا:

انا ابن الاکوع

والیوم یوم الرضع

میں اکوع کا بیٹا( سلمہ) ہوں۔ آج کا دن کمینوں ( کی ہلاکت) کا دن ہے۔

 پھر میں ان میں سے کسی ایک کے قریب ہوجاتا اور وہ سواری پر ہوتا تو میں اسے تیر مارتا۔وہ تیر اس آدمی کو لگ جاتا اور میں اس کے کندھے کو تیر سے چھید دیتا اور میں اس سے کہتا:

خذھا و انا ابن الاکوع

 والیوم یوم الرضع

اس تیر کو لے۔ میں اکوع کا بیٹا ہوں۔ آج کا دن کمینوں اور کنجوسوں( کی ہلاکت) کا دن ہے۔

 پھر جب میں درختوں کی اوٹ میں ہوتا تو میں تیروں سے ان کوبھون ڈالتا۔ جب کہیں تنگ گھاٹیاں آتیں تو میں پہاڑپر چڑھ کر ان پر پتھر برساتا۔ میر اان کے ساتھ یہی رویہ رہا۔میں ان کا پیچھا کرتا رہا اور رجزیہ اشعار پڑھتا رہا، یہاں تک کہ حضورﷺ کے تمام اونٹ میں نے ان سے چھڑالیے اور وہ اونٹ میرے پیچھے رہ گئے۔(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor