Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔660)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 660)

پھر میں ان پر تیر چلاتا رہا یہاں تک کہ وہ تیس سے زیادہ برچھے اور تیس سے زیادہ چادریں چھوڑ گئے، اس طرح وہ اپنا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے تھے مجھے ان سے جو چیز ملتی تو میں نشانی کے طور پر اس پر کوئی نہ کوئی پتھر رکھ دیتا اور حضورﷺ کے راستہ پر ان کو جمع کرتا جاتا۔ یہاں تک کہ جب دھوپ پھیل گئی یا چاشت کا وقت ہوگیا تو کافر اس وقت تنگ گھاٹی میں تھے کہ عیینہ بن بدرفزاری ان کافروں کی مدد کے لیے آدمی لے کر آیا۔میں ایک پہاڑ پر چڑھ گیا اور ان سے اونچا ہوگیا تو عیینہ نے کہا:

یہ آدمی کون دکھائی دے رہا ہے؟انہوں نے کہا:ہمیں ساری تکلیف اس( نو عمر بچے) کے ہاتھوں اٹھانی پڑی ہے۔ اس نے صبح سے اب تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا ہے اور اس نے ہماری ہر چیز لے لی ہے اور ساری چیزیں اپنے پیچھے رکھ آیا ہے۔

عیینہ نے کہا کہ اگر اس کا خیال یہ نہ ہوتا کہ اس کے پیچھے کمک( آرہی) ہے تو تمہارا پیچھا چھوڑجاتا۔ تم میں سے کچھ آدمی کھڑے ہو کر اس کے پاس چلے جائیں۔ چنانچہ چار آدمی کھڑے ہوئے اور پہاڑ پر چڑھنے لگے۔ جب وہ اتنے قریب آگئے کہ میری آواز ان تک پہنچ سکتی تھی تو میں نے ان سے کہا:کیاتم مجھے جانتے ہو؟انہوں نے کہا:تم کون ہو؟میں نے کہا:میں ابنِ اکوع ہوں اور اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمدﷺ کو عزت عطا فرمائی!تم میں سے کوئی بھی مجھے بھا گ کر نہیں پکڑ سکتا اور میں بھاگوں تو تم میں سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا ہے۔ ان میں سے آدمی نے کہا کہ میرا یہی گمان ہے۔ میں اپنی جگہ ایسے ہی بیٹھا رہا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ کے سوار درختوں کے بیچ میں سے چلے آرہے ہیں اور ان میں سب سے آگے اخرم اسدی رضی اللہ عنہ تھے، ان کے پیچھے حضورﷺ کے شہسوار حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اور ان کے پیچھے حضرت مقداد بن اسود کندی رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ ( چاروں) مشرک پشت پھیر کر بھاگ گئے اور میں نے پہاڑ سے نیچے اتر کر حضرت اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑلی اور میں نے ان سے کہا:ان لوگوں سے بچ کر رہو۔ مجھے خطرہ ہے کہ یہ تمہارے ٹکڑے کردیں گے اس لیے ذرا انتظار کرلو، یہاں تک کہ حضورﷺ اور آپ کے صحابہ آجائیں۔

حضرت اخرم نے کہا:اے سلمہ!اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پرایمان رکھتے ہو اور تمہیں یقین ہے کہ جنت حق ہے اور دوزخ کی آگ حق ہے تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ بنو۔ میں نے ان کے گھوڑے کی لگام چھوڑ دی اور وہ عبدالرحمن بن عیینہ پر حملہ آور ہوئے۔ عبدالرحمن نے مڑکر حملہ کیا دونوں نے ایک دوسرے کو نیزے مارے۔ حضرت اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں تو عبدالرحمن نے( گھوڑے سے گرتے ہوئے) حضرت اخرم کو نیزہ ما ر کر شہید کردیا اور حضرت اخرم کے گھوڑے پر جا بیٹھا اتنے میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ عبدالرحمن کے پاس پہنچ گئے۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ نیزے کے دو دو ہاتھ کیے۔

 عبدالرحمن نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے پائوں کاٹ ڈالے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن کو قتل کردیا اور حضرت اخرم کا گھوڑا اس سے لے کر خود اس پر بیٹھ گئے۔ پھر میں ان مشرکوں کے پیچھے دوڑنے لگا( دوڑتے دوڑتے اتنا آگے نگل گیا) کہ حضورﷺ کے صحابہ کے چلنے سے اڑنے والا گردوغبار مجھے نظر نہیں آرہا تھا اور وہ لوگ سورج ڈوبنے سے پہلے ایک گھاٹی میں داخل ہوئے جس میں پانی تھا اس پانی کو ذوقرد کہا جاتا تھا۔

ان مشرکوں نے اس پانی میں سے پینا چاہا کہ اتنے میں انہوں نے مجھے اپنے پیچھے دوڑتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس لیے وہ اس پانی کوچھوڑ کر ذی بئر گھاٹی پر چڑھ گئے اور سورج ڈوب گیا۔میں ایک آدمی کے قریب پہنچ گیا اور اس کو میں نے تیر مارا اور ساتھ یہ رجزیہ شعر پڑھا:

اس آدمی نے کہا :ہائے اکوع کی ماں کا صبح سویرے اپنے بچے کو گم کرنا۔ میں نے کہا:

ہاں او اپنی جان کے دشمن! یہ وہی آدمی تھا جسے میں نے صبح تیر مارا تھا اور اب اسے ہی دوسرا مارا تھا اور دونوں تیراس میں پیوست ہوگئے تھے۔ اسی دوران ان مشرکوں نے دو گھوڑے پیچھے چھوڑدیئے۔ میں ان دونوں کو ہانکتا ہوا حضورﷺ کی خدمت میں لے آیا۔ آپﷺ اس وقت ذی قرد پانی پر تشریف فرماتھے جہاں سے میں نے ان مشرکوں کو بھگایا تھا اور حضورﷺ کے ساتھ پانچ سو صحابہ تھے اور جو اونٹ میں چھوڑ گیا تھا حضرت بلال رضی اللہ عنہ ان میں سے ایک کو ذبح کر کے اس کی کلیجی اور کوہان حضورﷺ کے لیے بھون رہے تھے۔ میں نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا :یارسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کے صحابہ میں سے سو آدمی چن کر لے جائوں۔ (جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor