Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔661)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 661)

اور جاکر رات کے اندھیرے میں ان کافروں پر حملہ کردوں؟اس طرح( وہ سب ختم ہوجائیں گے) اور ان کی خبر دینے والا بھی کوئی باقی نہ رہے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا:اے سلمہ! کیا تم ایسا کر گزرو گے؟ میں نے کہا:جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو عزت عطا فرمائی ہے! اس پر آپﷺ اتنے زور سے ہنسے کہ آگ کی روشنی میں آپﷺ کے دانت مجھے نظر آنے لگے۔پھر آپ ﷺنے فرمایا: اس وقت تو ان کافروں کی قبیلہ بنو غطفان کے علاقے میں مہمانی تیار کی جار ہی ہے۔ چنانچہ غطفان کے آدمی نے آکر بتایا کہ ان کا فلاں غطفانی آدمی پر گزر ہوا۔ اس نے ان کے لیے اونٹ ذبح کیا لیکن جب وہ لوگ اس کی کھال اتاررہے تھے تو انہوں نے غبار اڑتے ہوئے دیکھا وہ اس اونٹ کو اسی حال میں چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گئے۔اگلے دن صبح کو حضورﷺ نے فرمایا: ہمارے سواروں میں سب سے بہترین حضرت ابو قتادہ ہیں اور ہمارے پیادوں میں سب سے بہترین حضرت سلمہ ہیں۔ چنانچہ حضورﷺ نے ( مجھے مالِ غنیمت میں سے ) سوار کا حصہ بھی دیا اور پیدل چلنے والے کا بھی اور مدینہ واپس جاتے ہوئے حضورﷺ نے مجھے عضبا اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھا لیا۔

جب ہمارے اور مدینہ کے درمیان اتنا فاصلہ رہ گیا جو سورج نکلے سے لے کر چاشت تک کے وقت میں طے ہوسکے تو انصار کے ایک تیز دوڑنے والے ساتھی جن سے کوئی آگے نہیں نکل سکتا تھا انہوں نے دوڑنے کے مقابلہ کی دعوت دی اور بلند آواز کہا:ہے کوئی دوڑ میں مقابلہ کرنے والا؟ ہے کوئی آدمی جو مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگائے ؟ اور یہ اعلان انہوں نے کئی بار کیا۔میں حضور ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اس آدمی سے کہا:کیاتم کسی کریم آدمی کا اِکرام نہیں کرتے ہو؟ کیا تم شریف آدمی سے ڈرتے نہیں ہو؟ اس آدمی نے کہا:رسول اللہﷺ کے علاوہ نہ میں کسی کا اکرام کرتا ہوں اور نہ میں کسی سے ڈرتا ہوں۔میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! میرے ماں باپ قربان ہوں! آپ مجھے اجازت دیں، میں اس آدمی سے دوڑ میں مقابلہ کرتا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا:اگر تم چاہتے ہو تو ٹھیک ہے۔

میں نے اس آدمی سے کہا:میں تمہارے مقابلہ میں کے لئے آرہا ہوں۔ وہ آدمی کود کر اپنی سواری سے نیچے آگیا۔ میں نے بھی پائوں موڑ کر اونٹنی سے نیچے چھلانگ لگادی۔ ( اور ہم دونوں نے دوڑنا شروع کردیا)شروع میں ایک دو دوڑوں تک میں نے اپنے آپ کو روکے رکھا یعنی زیادہ تیز نہیں دوڑا( جس سے وہ مجھ سے آگے نکلتا جارہا تھا)پھر میں تیزی سے دوڑا اور اس تک جا پہنچا اور اس کے دونوں کندھوں کے درمیان میں نے اپنے دونوں ہاتھ مارے اور میں نے اس سے کہا:اللہ کی قسم!میں تم سے آگے نکل گیاہوں۔ راوی کو شک ہے کہ یہی الفاظ کہے تھے یا ان جیسے الفاظ کہے تھے۔ اس پر وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا:اب میرا یہی خیا ل ہے۔ پھر ہم دونوں دوڑتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔ امام مسلم کی روایت میں یہ مضمون بھی ہے کہ میں اس سے پہلے مدینہ پہنچا۔اس کے بعد ہم لوگ مدینہ تین دن ہی ٹھہرے تھے کہ غزوئہ خیبر کے لئے روانہ ہوگئے۔

 حضرت ابو حدردیا حضرت عبداللہ بن ابی حدرد رضی اللہ عنہ کی بہادری

حضرت ابنِ ابی حدرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم کی عورت سے نکاح کیا اور اس کا مہردو سو درہم مقرر کیا، پھر حضورﷺکی خدمت میں مہر میں امداد لینے کے لیے حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:تم نے کتنا مہر مقرر کیا ہے؟میں نے کہا: دو سو درہم۔ آپﷺ نے ( اس مقدار کو میری حیثیت سے زیادہ سمجھتے ہوئے) فرمایا:سبحان اللہ! اگر تم وادی کی کسی عورت سے نکاح کرتے تو تمہیں اتنا زیادہ مہر نہ دینا پڑتا( تم نے اپنی قوم میں شادی کی ہے اس لیے اتنا زیادہ مہر دینا پڑرہا ہے جو تمہاری حیثیت سے زیاد ہ ہے)اللہ کی قسم !تمہاری مدد کرنے کے لیے اس وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ میں چند دن ( انتظار میں ) ٹھہرا رہا۔ پھر قبیلہ جثم بن معاویہ کا ایک آدمی آیا جس کا نا م رفاعہ بن قیس یا قیس بن رِفاعہ تھا۔ وہ قبیلہ جثم کے بڑے خاندان کو ساتھ لے کر آیا اور (مدینہ کے قریب) مقام غابہ میں اپنی قوم اور ساتھیوں کو لے کر ٹھہر گیا۔ وہ قبیلہ قیس کو حضورﷺ سے لڑنے کے لیے جمع کرنا چاہتا تھا اور قبیلہ جثم میں اس کا بڑا نام اور اونچا مقام تھا۔ حضورﷺ نے مجھے اور دو اور مسلمانوں کو بلایا اور فرمایا:تم لوگ جائو اور اس آدمی کے بارے میں پورے حالات معلوم کر کے آئو۔

 حضورﷺ نے ہمیں ایک دبلی اور بوڑھی اونٹنی عطاء فرمائی۔ہمارا ایک آدمی اس پر سوار ہوا تو اللہ کی قسم! وہ کمزوری کی وجہ سے اسے لے کر کھڑی نہ ہو سکی۔ تو کچھ آدمیوں نے اسے پیچھے سے سہارا دیا تب وہ کھڑی ہوئی ورنہ خود سے تو کھڑی نہ ہو سکتی تھی اور آپﷺ نے فرمایا:اسی پر بیٹھ کر تم وہاں پہنچ جائو۔(چنانچہ حضورﷺ کے اس ارشاد کی برکت سے ان حضرات نے اسی اونٹنی پر یہ سفر پورا کرلیا۔اللہ نے اس کمزور اونٹنی کو اتنی طاقت عطاء فرما دی) چنانچہ ہم چل پڑے اور ہم نے اپنے ہتھیار تیراور تلوار وغیرہ ساتھ لے لیے اور عین غروب کے وقت ان لوگوں کی قیام گاہ کے قریب پہنچے۔(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor