Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔662)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 662)

میںایک کونے میں چھپ گیا اور میں نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا تو وہ بھی ان کی قیام گاہ کے دوسرے کونے میں چھپ گئے۔میں نے ان سے کہا:جب تم دونوں سنو کہ میں نے زور سے اللہ اکبر کہہ کر اس لشکر پر حملہ کردیا ہے تو تم دونوں بھی زور سے اللہ اکبر کہہ کر حملہ کردینا۔ اللہ کی قسم! ہم اسی طرح چھپے ہوئے انتظار کر رہے تھے کہ کب ہم انہیں غافل پاکر ان پر حملہ کردیں یا کوئی اور موقع مل جائے۔

 رات ہوچکی تھی اور اس کی تاریکی بڑھ چکی تھی ۔ اس قبیلہ کا ایک چرواہا صبح سے جانور لے کر گیا ہوا تھا اور ابھی تک واپس نہیں آیا تھا تو انہیں اس کے بارے میں خطرہ ہوا۔ ان کا سردار رِفاعہ بن قیس کھڑا ہوا اور تلوار لے کر اپنے گلے میں ڈالی اور کہا:اللہ کی قسم! میں اپنے چروا ہے کہ بارے میں پکی بات معلوم کرکے آتا ہوں، اسے ضرور کوئی حادثہ پیش آیا ہے۔اس کے چند ساتھیوں نے کہا:آپ نہ جائیں، اللہ کی قسم! آپ کی جگہ ہم جائیں گے۔ اس نے کہا :نہیں میرے علاوہ اور کوئی نہیں جائے گا۔ ساتھیوں نے کہا:ہم آپ کے ساتھ جائیں گے۔ اس نے کہا:اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی بھی میرے ساتھ نہیں جائے گا او ر وہ چل پڑا یہاں تک کہ میرے پاس سے گزرا۔جب میں نے دیکھا کہ وہ عین میرے نشانے پر آگیا ہے تو میں نے اسے تیر مارا جو اس کے دل پر جا کر لگا اور اللہ کی قسم! اس کی زبان سے کوئی بات نہ نکلی۔ میں نے چھلانگ مار کر اس کا سرکاٹ لیا پھر میں نے لشکر کے اس کو نے پر اللہ اکبر زور سے کہہ کر لشکر پر حملہ کردیا اور میرے دونوں ساتھیوں نے بھی زور سے اللہ اکبر کہہ کر لشکر پر حملہ کردیا۔ اس اچا نک حملہ سے وہ لوگ گھبراگئے اور سب یہی کہنے لگے کہ اپنے آپ کو بچائو، اپنے آپ کو بچائو۔ عورتیں اور بچے اور ہلکا پھلکا سامان جو لے جا سکتے تھے وہ لے کر وہ لوگ بھاگ گئے اور بہت سارے اونٹ اور بکریاں ہمارے ہاتھ آئیں جنہیں لے کر ہم لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے اس کا سر بھی اپنے ساتھ لاد کر حضورﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔آپﷺ نے مجھے مہر ادا کرنے کے لیے اس مالِ غنیمت میں سے تیرہ اونٹ عطاء فرمائے ۔ اس طرح میں مہرادا کر کے اپنی بیوی کو اپنے گھر لے آیا۔

حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ  کی بہادری

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوئہ موتہ کے دن میرے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹی تھیں اور میر ے ہاتھ میں صرف ایک تلوار رہ گئی تھی جو یمن کی بنی ہوئی اور چوڑی تھی۔

 حضرت اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر مز سے زیادہ ( مسلمان) عربوں کا کوئی دشمن نہیں تھا۔ جب ہم مسیلمہ اور اس کے ساتھیوں(کو ختم کرنے ) سے فارغ ہوئے تو ہم بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو مقام کاظمہ پر ہمیں ہرمز ملا جو بہت بڑا لشکر لے کر آیاہوا تھا۔

 حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ مقابلہ کے لیے میدان میں نکلے اور اسے اپنے مقابلہ کی دعوت دی،چنانچہ وہ مقابلہ کے لیے میدان میں آگیا۔ حضرت خالدرضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا۔ یہ خوش خبری حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لکھی۔ جواب میں حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے لکھا کہ ہرمز کا تمام سامان ہتھیار، کپڑے، گھوڑا وغیرہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دے دیا جائے ۔ چنانچہ ہرمز کے ایک تاج کی قیمت ایک لاکھ درہم تھی ،کیونکہ اہل فارس جسے اپنا سردار بناتے اسے لاکھ درہم کا تاج پہناتے تھے۔

 حضرت ابو الزنادؒ فرماتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے اور فرمایا: میں اتنی اتنی ( یعنی بہت زیادہ)جنگوں میں شریک ہوا ہوں اور میرے جسم میں بالشت بھر جگہ ایسی نہیں ہوگی جس میں تلوار یا نیزے یا تیر کا زخم نہ ہو اور دیکھو! اب میں اپنے بستر پر ایسے مررہا ہوں جیسے کہ اونٹ مرا کرتا ہے یعنی مجھے شہادت کی موت نصیب نہ ہوئی۔ اللہ کرے بزدلوں کی آنکھوں میں کبھی نیند نہ آئے۔

حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ  کی بہادری

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جنگ یمامہ کے دن حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کہا:اے براء! کھڑے ہوجائو۔ یہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوگئے۔ پھر اللہ کی حمد وثنا بیان کی اس کے بعد فرمایا:

اے مدینہ والو! آج تمہارا مدینہ سے کوئی تعلق نہ رہے (یعنی مدینہ واپسی کا خیال دل سے نکال دو اور بے جگری سے مرجانے کے ارادے سے آج جنگ کرو)آج تو اللہ وحدہٗ کی زیارت کرنی ہے اور جنت میں جانا ہے، پھر انہوں نے دشمن پرزور سے حملہ کیا اور ان کے ساتھ اسلامی لشکر نے بھی حملہ کیا۔ پھر یمامہ والوں کو شکست ہوگئی۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor