Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔664)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 664)

حضرت سعدؓ نے حضرت ابو محجن کو بلا کر ان کی بیڑیاں کھول دیں اور ان سے فرمایا کہ( تم نے آج مسلمانوں کی شکست کو فتح میں بدل دیا ہے اس لیے اب) آیندہ تمہیں شراب پینے کی وجہ سے کبھی کوڑے نہیں ماریں گے۔ اس پر حضرت ابو محجن نے کہا:اللہ کی قسم! میں بھی اب آیندہ کبھی شراب نہیں پیوں گا۔ چوں کہ آپ مجھے کوڑے مارلیتے تھے اس لیے میںشراب چھوڑنا پسند نہیں کرتا تھا ۔چنانچہ اس کے بعد حضرت ابو محجن نے کبھی شراب نہ پی۔

حضرت محمد بن سعدؓ کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابو محجن رضی اللہ عنہ وہاں سے گئے اور مسلمانوں کے پاس پہنچ گئے۔ وہ جس طرف بھی حمل کرتے اللہ تعالیٰ اس طرف والوں کو شکست دے دیتے۔ لوگ ان کے زور دار حملوں کر دیکھ کر کہنے لگے کہ تو کوئی فرشتہ ہے۔ اور حضرت سعدؓ بھی یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ اس گھوڑے کی چھلانگ تو ( میرے گھوڑے) بلقا جیسی ہے اور اس آدمی کے حملہ کرنے کا انداز تو ابو محجن جیسا ہے لیکن ابو محجن تو بیڑیوں میں قید پڑا ہوا ہے۔ جب دشمن کو شکت ہوگئی تو حضرت ابو محجن نے واپس جا کر بیڑیوں میں پائو ڈال کر باندھ لیے۔ پھر حضرت بنتِ خصفہ نے حضرت سعد ؓ کو حضرت ابو محجن کی ساری بات بتائی۔ اس پر حضرت سعدؓ نے فرمایا کہ جس آدمی کہ وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا اِکرام فرمایا میں آیندہ اسے کبھی حد شرعی نہیں لگائوں گا۔ اور یہ کہہ کر انہیں چھوڑ دیا۔ اس پر حضرت ابو محجنؓنے فرمایا کہ چوں کہ مجھ پر حد قائم کی جاتی تھی، اور مجھے گناہ سے پاک کردیا جاتا تھا اس وجہ سے میں شراب پی لیتا تھا۔ اب جب کہ مجھے سزا نہ دینے کا فیصلہ ہواگیا ہے تو اللہ کی قسم! اب میں کبھی شراب نہیں پیوں گا۔

 او راسی واقعہ کو حضرت سیف نے’’فتوح‘‘میں ذکر کیا ہے اور کافی لمبا کر کے بیان کیا ہے اور مزید اشعار بھی ذکر کیے ہیں اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ حضرت ابو محجن رضی اللہ عنہ نے خوب زور دار لڑائی لڑی۔ وہ زور سے اللہ اکبر کہہ کر حملہ کرتے تو ان کے سامنے کوئی نہ ٹھہر سکتا تھا اور وہ اپنے زور دار وار حملوںسے دشمن کے آدمیون کو خو ب مارتے چلے جا رہے تھے ۔ مسلمانوں انہیں دیکھ کر بہت حیران ہو رہے تھے لیکن کوئی بھی انہیں پہنچان نہ سکا۔

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی بہادری

حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے جنگِ یمامہ کے دن حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو ایک چٹان پر دیکھا جس پر کھڑے ہوکر وہ زور زور سے مسلمانوں کو آواز دے رہے تھے:

’’اے مسلمانو! کیا تم جنت سے بھاگ رہے ہو؟ میں عمار بن یاسر ہوں، میری طرف آئو‘‘

 اور میں ان کے کان کو دیکھ رہا تھا کہ وہ کٹا ہوا تھا اور ہل رہا تھا اور وہ پورے زور سے جنگ کر رہے تھے ( انہیں کان کی تکلیف کا احساس بھی نہیں تھا)

حضرت ابو عبدالرحمن سلمی  رضی اللہ عنہ فرماتے کہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگِ صفین میں شریک ہوئے اور ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حفاظت کے لیے دو آدمی مقرر کیے تھے۔ جب ساتھیوں میں غفلت اور سستی آجاتی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ مخالفوں پر حملہ کردیتے اور تلوار کو خون میں اچھی طرح رنگ کر ہی واپس آتے اور فرماتے :اے مسلمانو! مجھے معذور سمجھو ،کیونکہ میں اسی وقت واپس آتا ہوں جب میری تلوارکند ہوجاتی ہے( اور مزید کاٹنا چھوڑ دیتی ہے) حضرت ابو عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عماررضی اللہ عنہ اور حضرت ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کودیکھا جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں صفوں کے درمیان دوڑ رہے تھے (یہ دیکھ کر) حضرت عماررضی اللہ عنہ نے فرمایا:

اے ہاشم! اللہ کی قسم! ان کے حکم کی خلاف ورزی کی جائے گی اور ان کے لشکر کی مدد چھوڑ دی جائے گی۔ پھر کہا: اے ہاشم! جنت ان چمک دار تلواروں کے نیچے ہے۔ آج میں اپنے محبوب دوستوں حضرت محمدﷺ اور ان کی جماعت سے (شہید ہو کر) ملاقات کروں گا۔ اے ہاشم! تو کانا ہے اور کانے آدمی میں خیر نہیں ہوا کرتی ہے ،وہ لڑائی کے میدان پرچھا نہیں سکتا( حضرت عمار کی ترغیب پر حضرت ہاشم جوش میں آگئے) اورانہوں نے جھنڈاہلایا اور یہ اشعار پڑھے:

یہ کانا اپنے گھروالوں کے لیے رہنے کی جگہ تلاش کرتا رہا ہے اس تلاش میں ساری زندگی گزار ڈالی اور اب وہ اس سے اکتا گیا ہے۔اب یہ کانایا تو دشمن کو شکست دے گا یا پھر شکست کھائے گا یعنی فیصلہ کن جنگ کرے گا۔

 پھر صفین کی ایک وادی میں چلے گئے۔ حضرت ابو عبدالرحمن سلمی راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمدﷺ کے صحابہ کو دیکھا کہ وہ سب حضرت عماررضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے چلتے تھے گویا کہ حضرت عماررضی اللہ عنہ ان کے لیے جھنڈا تھے۔

دوسری روایت میں حضرت ابو عبدالرحمن سلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عماررضی اللہ عنہ صفین کی جس وادی میں جاتے تو وہاں جتنے حضورﷺ کے صحابہ ہوتے وہ سب ان کے پیچھے چل پڑتے ۔ (جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor