Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری (تابندہ ستارے۔665)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہادری

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 665)

اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ وہ حضرت ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔

حضرت ہاشم رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ حضرت عماررضی اللہ عنہ نے فرمایا:اے ہاشم! آگے بڑھو۔ جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے اور موت نیزوں کے کنارے میں ہے۔ جنت کے دروازے کھولے جا چکے ہیں اور موٹی آنکھوں والی حوریں آراستہ ہو چکی ہیں۔ آج میںاپنے محبوب دوستوں حضرت محمدﷺ اور ان کی جماعت سے ملوں گا۔پھر حضرت عمار اور حضرت ہاشم رضی اللہ عنہمادونوں نے زور دارحملہ کیا اور دونوں شہید ہوگئے اللہ دونوں پر رحمت نازل فرمائے! اور اس دن حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ایک آدمی کی طرح اکٹھے حملہ کیااور حضرت عمار اور حضرت ہاشم رضی اللہ عنہما ان تمام لشکروالوں کے لیے گویا جھنڈے کی طرح تھے۔

 حضرت عمرو بن معدیکرب زبیدی رضی اللہ عنہ کی بہادری

حضرت مالک بن عبداللہ خثعمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس آدمی سے زیادہ شرافت والا کوئی آدمی نہیں دیکھا جو جنگِ یرموک کے دن( مسلمانوں کی طرف سے ) مقابلہ کے لیے میدان میں نکلا۔ ایک بڑا مضبوط عجمی کا فران کے مقابلہ کے لیے آیا۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔پھر کفار شکست کھا کر بھاگ اٹھے۔ انہوں نے ان کافروں کا پیچھا کیا اور پھر اپنے ایک بڑے اونی خیمہ میں واپس آئے اور اس میں داخل ہو کر( کھانے کے) بڑے بڑے پیالے منگوائے اور آس پاس کے تمام لوگوں کو( کھانے کے لیے) بلایا۔ یعنی وہ بہادر بھی بہت تھے اور سخی بھی بہت۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ یہ کون تھے؟ حضرت مالک نے فرمایا:

یہ حضرت عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ تھے

 حضرت قیاس بن ابی حازم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنگِ قادسیہ میں شریک ہوا۔ مسلمانوں کے لشکر کے امیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ صفوں کے سامنے سے گزرتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے:اے جماعت مہاجرین! زورآور شیر بن جائو ( اور حملہ ایسا کرو کہ مقابل سوار اپنا نیزہ پھینک دے) کیونکہ سوار آدمی جب نیزہ پھینک دیتا ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔ اتنے میں اہل فارس کے ایک سردار نے انہیں تیر مارا جو ان کی کمان کے کنارے پر آلگا حضرت عمرورضی اللہ عنہ نے اس پر نیزے کا ایسا وار کیا کہ جس نے اس کی کمر توڑدی اور نیچے اتر کر اس کا سامان لے لیا۔

ابن عساکرنے اسی واقعہ کو اس سے زیا لمبا بیان کیا ہے اور اس کے آخر میں یہ ہے کہ اچانک ایک تیر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی زین کے اگلے حصہ کو آلگا۔ انہوں نے تیر پھینکنے والے پر حملہ کیا اور اسے ایسے پکڑلیا جیسے کسی لڑکی کو پکڑا جاتا ، اور اسے ( مسلمانوں اور کافروں کی) دوصفوں کے بیچ میں رکھ کر اس کا سرکاٹ ڈالا اور اپنے ساتھیوں کو فرمایا :ایسے کیا کرو۔

واقدی نے روایت کی ہے کہ حضرت عیسیٰ خیاط ؒ فرماتے ہیں کہ جنگِ قادسیہ کے دن حضرت عمرو بن معد یکرب رضی اللہ عنہ نے اکیلے ہی دشمن پر حملہ کردیا اور ان پر خوب تلوار چلائی۔ پھر بعد میں مسلمانوں بھی ان تک پہنچ گئے تو دیکھا کہ دشمنوں نے حضرت عمرو کو چاروں طرف سے گھیررکھا ہے اور وہ اکیلے ان کا فروں پر تلوار چلارہے ہیں۔ پھر مسلمانو ںنے ان کافروں کو حضرت عمرورضی اللہ عنہ سے ہٹایا۔

طبرانی نے روایت کی ہے کہ حضرت محمد بن سلام جمحی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت سعدرضی اللہ عنہ کو یہ لکھا کہ میں تمہاری مدد کے لیے دو ہزار آدمی بھیج رہا ہوں۔ ایک حضرت عمرو بن معد یکرب اور دوسرے حضرت طلحہ بن خویلد( ان دونوں میں سے ہر ایک ، ایک ہزار کے برابر ہے)

حضرت ابو صالح بن وجیہؒ فرماتے ہیں کہ سن اکیس ہجری میں جنگ نہاوند میں حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے، پھر مسلمانوں کو شکست ہوگئی تھی۔ پھر حضرت عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ ایسے زور سے لڑے کہ شکست فتح میں تبدیل ہوگئی اور خود زخموں سے چور ہوگئے  آخر روزہ نامی بستی میں ان کا انتقال ہوگیا۔

 حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بہادری

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کاانتقال ہوگیا تو حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ نے یزید بن معاویہ کی اطاعت سے انکار کردیا اور یزید کو علی الاعلان برابھلا کہنے لگے۔ یہ بات یزید کو پہنچی تو اس نے قسم کھائی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر کو میرے پاس گلے میں طوق ڈال کرلایا جائے ورنہ میں ان کی طرف لشکر بھیجوں گا۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا ( کہ آپ یزید کی قسم پوری کردیں اور آپ کے مرتبہ کے مطابق اس کی صورت یہ ہے کہ) ہم آپ کے لیے چاندی کا طوق بنالیتے ہیں اس کو آپ کے گلے میں ڈال دیں گے اور اس کے اوپر آپ کپڑے پہن لیں۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor