Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بابُ الجہاد (تابندہ ستارے۔679)

بابُ الجہاد

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 679)

حضرت ہشام اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ جنگ اُحد کے دن جب مسلمانوں کوشکست ہوگئی تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آئیں، ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا جسے وہ مسلمانوں کے چہرے پر مار کر واپس کر رہی تھیں۔ اس پر حضورﷺ نے ( حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاکے صاحبزادے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے ) کہا:

اے زبیر! اس عورت کی حفاظت کرو( یہ تمہاری والدہ ہیں)

حضرت عبادہ ؒ فرماتے ہیں کہ ( غزوئہ خندق کے موقع پر) حضرت صفیہ بنتِ عبدالمطلب رضی اللہ عنہا حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے فارغ نامی قلعہ میں تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ بھی اس قلعے میں ہم عورتوں اور بچوں کے ساتھ تھے۔ ایک یہودی مرد ہمارے پاس گذرا اور وہ قلعہ کا چکر لگانے لگا۔ بنو قریظہ کے یہودیوں نے بھی ( حضورﷺ سے ) جنگ کر رکھی تھی اور حضورﷺ سے تعلقات توڑ رکھے تھے ۔ہمارے اور یہودیوں کے درمیان کوئی مسلمان مرد نہیں تھاجو ہمارا دفاع کرتا۔ حضورﷺ اور مسلمان دشمن کے سامنے تھے،انہیں چھوڑ کر ہمارے پاس نہیں آسکتے تھے۔ اتنے میں ایک یہودی ہماری طرف آیا۔ میں نے کہا:اے حسان!جیسے تم دیکھ رہے ہو یہ یہودی قلعہ کا چکر لگا رہا ہے اور اللہ کی قسم! مجھے اس کا خطرہ ہے کہ کہیں یہ ہمارے اندر کے حالات معلوم کر کے ان دوسرے یہودیوں کو نہ بتا دے جوہمارے پیچھے ہیں۔ جبکہ حضورﷺ اور آپﷺکے صحابہؓ( کفار سے جنگ میں) مشغول ہیں۔ آپ نیچے اُتر کر جائو اور اسے قتل کردو۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا:

اے بنتِ عبدالمطلب! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے! اللہ کی قسم! آپ جانتی ہیں کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا ہوں ۔ جب حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ جو اب دیااور مجھے ان میں کچھ ہمت نظر نہ آئی تو میں نے اپنی کمرکسی،پھر میں نے خیمہ کا ایک بانس لیا، پھر میں قلعہ سے اتر کر اس یہودی کی طرف گئی اور وہ بانس مار مارکر اسے قتل کردیا، جب میں اس سے فارغ ہو گئی تو میں قلعہ میں واپس آگئی ، پھر میں نے کہا : اے حسان! نیچے جائو اور اس کا سامان اور کپڑے اُتار لائو ، چونکہ یہ نا محرم مرد تھا اس لیے میں نے اس کے کپڑے نہیں اُتارے۔ تو حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا:

اے بنتِ عبدالمطلب!مجھے اس کے کپڑے وغیرہ اُتارنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

 ہشام بن عروہ کی روایت میں یہ ہے:حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا وہ سب سے پہلی مسلمان عورت ہیں جنہوں نے کسی مشرک مرد کوقتل کیا ہے۔

 حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ غزوئہ حنین کے دن حضورﷺ کو ہنسانے کے لیے آئے اور کہا:یا رسول اللہ! کیا آپﷺ نے اُمّ سلیم رضی اللہ عنہاکو نہیں دیکھا؟ان کے پاس ایک خنجر ہے، حضورﷺ نے حضرت اُمّ سلیم رضی اللہ عنہاسے کہا: اے اُمّ سلیم!تم خنجر سے کیاکرنا چاہتی ہو؟

انہوں نے کہا :اگر ان کافروں میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اسے یہ خنجر ماردوں گی۔

’’مسلم‘‘ کی روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت اُمّ سلیم رضی اللہ عنہانے ایک خنجر تیارکیا جو ان کے پاس تھا۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو عرض کیا:یارسول اللہ!یہ اُمّ سلیم کے پاس ایک خنجرہے، حضورﷺ نے اُمّ سلیم رضی اللہ عنہاسے پوچھا:یہ خنجر کیا ہے؟انہوں نے کہا:میں نے اس لیے لیاہے کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تومیں یہ خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دوں گی۔ یہ سن کر حضورﷺہنسنے لگے۔

حضرت مہاجر بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی چچازادبہن حضرت اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہانے خیمے کے بانس سے جنگِ یرموک کے دن نورومی کافر قتل کیے تھے۔

 عورتوں کے جہاد میں جانے پر نکیر

قبیلہ بنو قضاعہ کے خاندان عذرہ کی حضرت اُمّ کبشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:یارسول اللہ! آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں فلاں لشکر میں چلی جائوں؟

 آپﷺ نے فرمایا:نہیں۔انہوں نے کہا:یا رسول اللہ! میرالڑنے کا ارادہ نہیں ہے، میں تو چاہتی ہوں کہ زخمیوںکی مرہم پٹی کروں اور بیماروں کا علاج کروں یاان کوپانی پلا دوں ۔آپﷺنے فرمایا:اگر مجھے اس بات کا خطرہ نہ ہوتا کہ عورتوں کا جنگ میں جانا مستقل سنت بن جائے گا اور کہا جائے گا کہ فلاں عورت بھی توگئی تھی( اس لیے ہم بھی جنگ میں جائیں گی حالانکہ ہر عورت کا جہاد میں جانا مناسب نہیں ہے) تو میں تمہیں ضرور اجازت دے دیتا، اس لیے تم گھر بیٹھی رہو۔

’’بزار‘‘ میں روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا :میں عورتوں کی طرف سے آپﷺ کی خدمت میں نمائندہ بن کر آئی ہوں۔ یہ جہاد تو اللہ تعالیٰ نے مردوں پر فرض کیا ہے۔ اگر جہاد کر کے آئیں تو انہیں اجر ملتا ہے اور اگر یہ شہید ہوجائیں تویہ زندہ ہوتے ہیں اور انہیں ان کے رب کے پاس خوب روزی دی جاتی ہے اور ہم عورتیں ان مردوںکی ساری خدمتیںکرتی ہیں تو ہمیں اس میں کیا ملے گا؟(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor