Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق (تابندہ ستارے۔681)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 681)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کاباہمی اتحاد اور اتفاق رائے کا اہتمام کرنا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف دعوت دینے اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے میں آپس کے اختلاف اور جھگڑے سے بچنے کا اہتمام کرنا

ابنِ اسحاق سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سقیفۂ بنی ساعدہ والے دن بیان کرتے ہوئے فرمایا:یہ بات جائز نہیں ہے کہ مسلمانوں کے دو امیر ہوں، کیونکہ جب بھی ایسا ہوگا مسلمانوں کے تمام کاموں اور تمام احکام میں اختلاف پیدا ہوجائے گا اور ان کا شیرازہ بکھر جائے گا اور ان کا آپس میں جھگڑا ہوجائے گا اور پھر سنت چھوٹ جائے گی اور بدعت غالب آجائے گی اور بڑا فتنہ ظاہر ہوگا اور کوئی بھی اسے ٹھیک نہ کر سکے گا۔

حضرت سالم بن عبیدؒ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے بارے میں روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس موقع پر انصار میں سے ایک آدمی نے کہا:ایک امیر ہم ( انصار) میں سے ہو اورایک امیر آپ( مہاجرین) میں سے ہو۔ تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:ایک نیام میں دو تلواریں نہیں سما سکتیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ بیان میں فرمایا:اے لوگو!( اپنے امیر کی) بات ماننا اور آپس میں اکٹھے رہنا اپنے لیے ضروری سمجھو، کیونکہ یہی چیز اللہ کی وہ رسی ہے جس کو مضبوطی سے تھامنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور آپس میں جڑمل کر چلنے میں جو ناگوار باتیں تمہیں پیش آئیں گی وہ تمہاری ان پسندیدہ باتوں سے بہتر ہیں جوتم لوگوںکو الگ چلنے میںحاصل ہوں گی، اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک انتہا بھی بنائی ہے جہاں وہ چیز پہنچ جاتی ہے۔ یہ اسلام کے ثبات اور ترقی کا زمانہ ہے اور عنقریب یہ بھی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا۔پھر قیامت کے دن تک اس میں کمی زیادتی ہوتی رہے گی اور اس کی نشانی یہ ہے کہ لوگ بہت زیادہ فقیر ہوجائیں گے اورفقیر کو ایسا آدمی نہیں ملے گا جواس پر احسان کرے اور غنی بھی یہ سمجھے گا کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے لیے کافی نہیں ہے یہاں تک کہ آدمی اپنے سگے بھائی اور چچازاد بھائی سے اپنی فقیری کی شکایت کرے گالیکن وہ بھی اسے کچھ نہیں دے گااور یہاں تک کہ ضرورت مند سائل ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک ہفتہ بھر مانگتاپھرے گا لیکن کوئی بھی اس کے ہاتھ پر کچھ نہیں رکھے گااور جب نوبت یہاںتک پہنچ جائے گی تو زمین سے ایک زوردار آوازاس طرح نکلے گی کہ ہر میدان کے لوگ یہی سمجھیں گے کہ یہ آواز ان کے میدان سے ہی نکلی ہے اور پھر جب تک اللہ چاہیں گے زمین میں خاموشی رہے گی پھر زمین اپنے جگر کے ٹکڑوں کو باہر نکال پھینکے گی۔

 ان سے پوچھا گیا:اے ابو عبدالرحمن!زمین کے جگر کے ٹکڑے کیا چیزیں ہیں؟آپ نے فرمایا:سونے اور چاندی کے ستون۔ اور پھر اس دن کے بعد سے قیامت کے دن تک سونے اور چاندی سے کسی طرح کا نفع نہیں اُٹھایا جاسکے گا۔اور حضرت مجالدؒ کے علاوہ دیگر حضرات کی روایت میں یہ مضمون ہے کہ رشتہ داریوں کو توڑا جائے گا یہاںتک کہ مال دار کو صرف فقیری کا ڈر ہوگا اور فقیر کوکوئی آدمی ایسا نہ ملے گا جو اس پر احسان کرے اور آدمی کا چچازاد بھائی مال دار ہوگا اور وہ اس سے اپنی حاجت کی شکایت کرے گالیکن وہ چچازاد بھائی اسے کچھ نہیں دے گا۔اس کے بعد والا مضمون ذکر نہیں کیا۔

ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دینے کے لیے ایک چیز اُٹھا کر لے چلے۔ ان کے مقام ربذہ پہنچ کر ہم نے ان کے بارے میں پوچھا تو وہ ہمیں وہاں نہ ملے اور ہمیںبتایا گیا کہ انہوں نے ( امیر المومنین سے ) حج پر جانے کی اجازت مانگی تھی ان کو اجازت مل گئی تھی ( وہ حج کرنے گئے ہوئے ہیں) چنانچہ ہم وہاں سے چل کر شہرمنیٰ میں ان کے پاس پہنچے۔ ہم لوگ ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے ان کوبتایا کہ ( امیر المؤمنین) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ( منیٰ میں) چار رکعت نماز پڑھی ہے۔ توانہیں اس سے بڑی ناگواری ہوئی اور اس بارے میں انہوں نے بڑی سخت بات کہی اور فرمایا:میں نے حضورﷺ کے ساتھ ( یہاں منیٰ میں) نماز پڑھی تھی تو آپﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی تھی اور میں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمررضی اللہ عنہماکے ( ساتھ) یہاں نماز پڑھی تھی( تو انہوں نے بھی دو دورکعت نماز پڑھی تھی)لیکن جب نماز پڑھنے کا وقت آیا تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر چار رکعت نماز پڑھی۔( حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مکہ میں شادی کرلی تھی اور مکہ میں کچھ دن رہنے کا ارادہ کرلیا تھا اس لیے وہ مقیم ہوگئے تھے اور چاررکعت نماز پڑھ رہے تھے)اس پر ان کی خدمت میں کہاگیا کہ امیر المومنین کے جس کا م پر آپ اعتراض کررہے تھے اب آپ خود ہی اسے کررہے ہیں؟فرمایا:امیر کی مخالفت کرنا اس سے زیادہ سخت ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor