Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق (تابندہ ستارے۔682)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 682)

ایک مرتبہ حضورﷺ نے ہم لوگوں میںبیان فرمایا تھا تو ارشاد فرمایا تھا: میرے بعد بادشاہ ہوگاتم اسے ذلیل نہ کرنا، کیونکہ جس نے اسے ذلیل کرنے کاارادہ کیا اس نے اسلام کی رسی کو اپنی گردن سے نکال پھینکااور اس شخص کی توبہ اس وقت تک قبول نہ ہوگی جب تک وہ اس سوراخ کو بند نہ کر دے جواس نے کیا ہے(یعنی بادشاہ کو ذلیل کر کے اس نے اسلام کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی نہ کرلے) اور وہ ایسا کر نہ سکے گا اور ( اپنے سابقہ رویہ سے ) رجوع کر کے اس بادشاہ کی عزت کرنے والا نہ بن جائے۔ حضورﷺ نے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ تین باتوں میںبادشاہ کو ہم اپنے پر غالب نہ آنے دیں( یعنی ہم ان کی عزت کرتے رہیںلیکن ان کی وجہ سے یہ تین کام نہ چھوڑیں)ایک تو ہم نیکی کالوگوں کو حکم دیتے رہیں اور برائی سے روکتے رہیں اور لوگوں کو سنت طریقے سکھاتے رہیں۔

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ،حضرت ابوبکر اور حضرت عمررضی اللہ عنہمامکہ اور منیٰ میں دورکعت قصر نماز پڑھا کرتے تھے اور اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں دو ہی رکعت نماز پڑھی لیکن بعد میں چار رکعت پڑھنے لگے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا:انا للہ و انا الیہ راجعون (لیکن جب  نماز پڑھنے کا وقت آیا)تو انہوں نے کھڑے ہو کر چار رکعت نماز پڑھی۔تو ان سے کہا گیا کہ (چاررکعت کی خبر پر تو) آپ نے انا للہ پڑھی تھی اور خود چار رکعت پڑھ رہے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : امیر کی مخالفت کرنا اس سے زیادہ بری چیز ہے

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا: تم ویسے ہی فیصلے کرتے رہو جیسے پہلے کیا کرتے تھے، کیونکہ میں اختلاف کوبہت بری چیز سمجھتا ہوں۔ یا تو لوگوں کی ایک ہی جماعت رہے یا میں مر جائوںجیسے میرے ساتھی( حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم بغیر اختلاف کے ) مر گئے۔ چنانچہ حضرت ابن سیرینؒ کی رائے یہ تھی کہ( غلو پسند) لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عموماً جو روایات نقل کرتے ہیں وہ غلط ہیں۔

حضرت سلیم بن قیس عامری بیان کرتے ہیں،ابن کواء نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنت اور بدعت اور اکٹھے رہنے اور بکھر جانے کے بارے میں پوچھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن کواء! تم نے سوال یادرکھا اب اس کا جواب سمجھ لو۔ اللہ کی قسم! سنت تو حضرت محمدﷺ کاطریقہ ہے، بدعت وہ کام ہے جو اس طریقہ سے ہٹ کر ہواور اللہ کی قسم! اہل حق کا اکٹھا ہونا ہی اصل میں اکٹھا ہونا ہے، چاہے وہ تعداد میں کم ہوں اور اہل باطل کا اکٹھا ہونا حقیقت میں بکھرجانا ہے چاہے وہ تعداد میں زیادہ ہوں۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پراتفاق

حضرت عروہ بن زبیرؒ فرماتے ہیں:(حضورﷺ کے انتقال کی خبر سن کر) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سُخ محلہ سے اپنی سواری پر تشریف لائے اور مسجد کے دروازے پر پہنچ کر سواری سے نیچے اُترے ۔ آپ بڑے بے چین اور غمگین تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے  گھر میں آنے کی اجازت چاہی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے اجازت دی۔حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ اندر تشریف لے گئے۔ حضورﷺ کا انتقال ہوچکا تھا اور آپﷺ اپنے بستر پر تھے اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات آپ ﷺکے اردگرد بیٹھی ہوئی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ باقی تمام ازواج مطہرات نے اپنی چہرے چادروں سے چھپا لیے اور حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سے پردہ کرلیا۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے حضورﷺ کے چہرئہ مبارک سے چادر ہٹائی اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بوسہ لینے لگے اور روتے ہوئے فرمانے لگے :( عمر) ابنِ خطاب جو کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے( کہ حضورﷺ کا انتقال نہیں ہوا ہے بلکہ یہ بے ہوشی طاری ہوئی ہے یا ان کی روح معراج میں گئی ہے جو واپس آجائے گی) رسول اللہﷺ کاانتقال ہوگیا ہے۔

 اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے،!یا رسول اللہ! آپ پر اللہ کی رحمت ہو۔آپ حالت حیات میں اور وفات کے بعد بھی کتنے پاکیزہ ہیں۔

 حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ کے چہرہ پر چادر ڈال دی اور پھر تیزی سے مسجد کی طرف چلے اور لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتے ہوئے منبر تک پہنچے۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کوآتا ہوا دیکھ کر حضرت عمررضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے منبر کی ایک جانب کھڑے ہو کر لوگوں کو آواز دی۔ آوازسن کر سب بیٹھ گئے اور خاموش ہوگئے۔ پھر حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے کلمۂ شہادت پڑھا اور فرمایا کہ جب اللہ کے نبیﷺ تمہارے درمیان زندہ تھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کو موت کی خبر دی تھی اور تم کو بھی تمہاری موت کی خبر دے دی اور یہ موت ایک یقینی امر ہے۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor