Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق (تابندہ ستارے۔684)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 684)

حضرت زہری حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے اس دن حضرت عمررضی اللہ عنہ کو سنا کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے کہ آپ منبر پر تشریف لے جائیںاور ان کو بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کو منبرپر خود چڑھایا پھر عام مسلمانوں نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب سقیفہ( بنی ساعدہ) میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بیعت ہوگئی اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ( حضورﷺ کے انتقال کے) اگلے دن منبر پر بیٹھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے بیان فرمایااور اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا:ـ

اے لوگو! کل میں نے تمہارے سامنے ایسی بات کہہ دی تھی جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اس میں ملی ہے اور نہ اس کا مجھ سے حضورﷺ نے عہد لیا تھا۔ بس میرا اپنا یہ خیال تھا کہ حضور اکرمﷺ ہم سب کے بعد دنیا سے تشریف لے جائیں گے( اس لیے کل میں نے کہہ دیا تھا کہ حضرت محمدﷺ کاانتقال نہیں ہوا جو کہ غلط تھا) اور اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے میں اپنی اس کتاب کو باقی رکھا ہوا ہے جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو ہدایت نصیب فرمائی تھی۔ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑ لو گئے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی ان باتوں کی ہدایت دے دے گا جن کی انہیں ہدایت دی تھی اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے امر( خلافت ) کو تمہارے میں سے سب سے بہترین آدمی پر مجتمع فرما دیا ہے، جو حضورﷺ کے صحابی اور غارِ ثور کے ساتھی ہیں۔ لہٰذاتم سب کھڑے ہو کر ان سے بیعت ہوجائو۔ چنانچہ سقیفہ کی بیعت کے بعد( اب مسجد میں) عام مسلمانوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔

 پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایاپہلے اللہ تعالیٰ کی شان کے مناسب حمد و ثنابیان کی اور پھر کہا:مجھے تمہارا والی بنا دیا گیا ہے حالانکہ میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ یہ بات تو اضعاً فرمارہے ہیں ورنہ تمام علمائے امت کے نزدیک حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم میں سب سے افضل ہیں)اگر میں ٹھیک کام کروں تو تم میری مدد کرواور اگر میں ٹھیک نہ کروں تو تم مجھے سیدھا کردینا۔ سچائی امانت داری ہے اور جھوٹ خیانت ہے اور تمہارا کمزور میرے نزدیک طاقت ور ہے، وہ جو بھی شکایت میرے پاس لے کر آئے گا میں ان شاء اللہ اسے ضرور دور کردوں گا۔ تمہارا طاقتور میرے نزدیک کمزور ہے، میں اس سے کمزور کا حق لے کر کمزور کوان شاء اللہ دوں گا۔ جو لوگ بھی جہاد فی سبیل اللہ چھوڑ دیں گے اللہ تعالیٰ ان پر ذلت مسلط فرمادیں گے اور جو لوگ بھی بے حیائی کی اشاعت کرنے لگ جائیں گے اللہ تعالیٰ( دنیا میں) ان سب کو (فرماں بردار اور نافرمان کو) عام سزادیں گے۔

 جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی بات مانتا رہوں تم بھی میری مانتے رہو اور جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں گا تو پھر میر ی اطاعت تم پر لازم نہیں ہے۔

اب نماز کے لیے کھڑے ہوجائو۔ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے!

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو قرآن پڑھایا کرتا تھا( اس زمانہ میں بڑے چھوٹوں سے بھی علم حاصل کیاکرتے تھے) ایک دن حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اپنی قیام گاہ پر واپس آئے تو انہوں نے مجھے اپنے انتظار میں پایا اور یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آخری حج کا اور منیٰ کاواقعہ ہے۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ ایک آدمی نے حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آکر کہا: فلاں آدمی کہہ رہا تھا کہ اگر حضرت عمر کاانتقال ہوگیا تو میں فلاں آدمی سے( یعنی حضرت طلحہ بن عبیداللہ) سے بیعتِ خلافت کرلوں گا۔اللہ کی قسم! حضرت ابو بکر کی بیعت یوں اچانک ہوئی تھی اور پوری ہوگئی تھی۔( میں بھی یوں اچانک ان سے بیعت کرلوں گاتو ان کی بیعت بھی پوری ہوجائے گی اور سب ان سے بیعت ہوجائیں گے) اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

 آج شام اِن شاء اللہ میں لوگوںمیں کھڑے ہو کر بیان کروں گا اور لوگوں کو اس جماعت سے ڈرائوں گا جو مسلمانوں سے ان کاامرِ خلافت ( یوں اچانک) چھیننا چاہتے ہیں( یعنی بغیر مشورہ اور سوچ بچار کے اپنی مرضی کے آدمی کو اہلیت دیکھے بغیر خلیفہ بنانا چاہتے ہیں)

حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا:اے امیر المومنین! آپ ایسانہ کریں کیونکہ موسمِ حج میں میں گرے پڑے، کم سمجھ اور عام لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔جب آپ بیان کے لیے لوگوں میں کھڑے ہوں گے تو یہی آپ کی مجلس میں غالب آجائیں گے۔ (جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor