Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق (تابندہ ستارے۔685)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 685)

( اور یوں سمجھ دار، عقلمند آدمیوں کو آپ کی مجلس میں جگہ نہ ملے گی)اس لیے مجھے خطرہ ہے کہ آپ جو بات کہیں گے اسے یہ لوگ لے اُڑیں گے ، نہ خود پوری طرح سمجھیں گے اور نہ اسے موقع محل کے مطابق دوسروں سے بیان کر سکیںگے۔ ( لہٰذا ابھی آپ صبر فرمائیں)جب آپ مدینہ پہنچ جائیں ( تو وہاں آپ یہ بیان فرمائیں) کیونکہ مدینہ ہجرت کا مقام اور سنت نبوی کا گھر ہے۔ لوگوں میںسے علماء اور سرداروں کو الگ لے کر آپ جو کہنا چاہتے ہیں اطمینان سے کہہ لیں۔ وہ لوگ آپ کی بات کو پوری طرح سمجھ بھی لیں گے اور موقع محل کے مطابق اسے دوسروں سے بیان بھی کریں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے( میری بات کو قبول کرتے ہوئے) فرمایا:اگر میں صحیح سالم مدینہ پہنچ گیا تو( ان شاء اللہ) میں اپنے سب سے پہلے بیان میں لوگوں سے یہ بات ضرور کہوں گا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب ہم ذی الحجہ کے آخری دنوں میں جمعہ کے دن مدینہ منورہ پہنچے تو میں سخت گرمی کی پرواہ کیے بغیر عین دوپہر کے وقت جلدی سے (مسجد نبوی) گیا تو میں نے دیکھا کہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے آکر منبر کے دائیں کنارے کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں ان کے برابر میں گھٹنے سے گھٹنا ملا کربیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔میںنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کودیکھ کرکہا:آج حضرت عمراس منبر پر ایسی بات کہیں گے جو آج سے پہلے اس پر کسی نے نہ کہی ہوگی۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے میری اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ میرا تو یہ خیال نہیں ہے کہ حضرت آج ایسی بات کہیں جو ان سے پہلے کسی نے نہ کہی ہو۔(کیونکہ دین تو حضورﷺ کے زمانہ میں پورا ہوچکا اب کون نئی بات لا سکتا ہے)

 چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ منبر پربیٹھ گئے(پھر مؤذن نے اذان دی) جب مؤذن خاموش ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے مطابق اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا: امابعد! اے لوگو!میں ایک بات کہنے والا ہوں جس بات کو کہنا پہلے سے ہی میرے مقدر میں لکھا جاچکا ہے اور ہو سکتا ہے یہ بات میری موت کا پیش خیمہ ہو۔لہٰذا جو میری بات کو یادرکھے اوراسے اچھی طرح سمجھ لے تو جہاں تک اس کی سواری اسے دنیا میں لے جائے وہاں تک کے تمام لوگوں میں میری اس بات کوبیان کرے اور جومیری بات کو اچھی طرح نہ سمجھے تو میں اسے اس کی اجازت نہیں دیتا ہوں کہ وہ میرے بارے میں غلط بیانی سے کام لے ( سب کو چوکنا کرنے کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات پہلے فرمادی) اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو حق دے کر بھیجا اور ان پر کتاب کو نازل فرمایا اور جو کتاب حضورﷺ پر نازل ہوئی اس میں رجم( یعنی زانی کوسنگسار کرنے) کی آیت بھی تھی(اور وہ یہ آیت تھی:’’الشیخ والشیخۃ اذا زنیا فارجمو ھما‘‘ اس آیت کے الفاظ تومنسوخ ہوچکے ہیں لیکن اس کا حکم باقی ہے)ہم نے اس آیت کوپڑھا اوراسے یاد کیا اور اسے اچھی طرح سمجھا اور حضورﷺ نے رجم کیااور آپ ﷺکے بعد ہم نے بھی رجم کیا، لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ طویل زمانہ گزرنے پر کوئی آدمی یوں کہے کہ ہم تو رجم کی آیت کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ فرض کوچھوڑکر وہ لوگ گمراہ ہوجائیں گے۔ زانی کو رجم کرنے کا حکم اللہ کی کتاب میں تھا۔

 جو محصن( شادی شدہ) مردیا عورت زنا کریں گے اور زنا کے گواہ پائے جائیں گے یا زنا سے حاملہ عورت زنا کا اقرار کرلے گی یا کوئی مردیا عورت ویسے ہی زناکا اقرار کریں گے تواسے رجم کرناشرعاً لازم ہوگا۔

اورسنو! ہم( قرآن میں) یہ آیت بھی پڑھا کرتے تھے:

’’لاترغبوا عن ابائکم،فان کفرابکم أن ترغبوا عن ابائکم‘‘

اپنے باپ دادے کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی طرف نسب کی نسبت نہ کرو، کیونکہ اپنے باپ دادا کے نسب کو چھوڑنا کفر ہے،یعنی کفرانِ نعمت ہے۔( اب اس آیت کے الفاظ بھی منسوخ ہوچکے ہیں لیکن اس کا حکم باقی ہے) اورسنو! حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ میری تعریف میں ایسا مبالغہ نہ کرو جیسے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی تعریف میں مبالغہ کیا گیا۔ میں تو بس ایک بندہ ہی ہوں، لہٰذا تم ( میرے بارے) میں یہ کہو کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم میں کوئی آدمی یہ کہہ رہا ہے کہ اگر حضرت عمرمر گئے تو میں فلاں سے بیعت کرلوں گا۔اسے اس بات سے دھوکہ نہیں لگنا چاہئے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اچانک ہوئی تھی اور وہ پوری بھی ہوگئی تھی۔ سنو! وہ بیعت واقعی ایسے ہی( جلدی میں) ہوئی تھی۔ لیکن اس بیعت کے ( جلدی میں ہونے کے) شر سے اللہ تعالیٰ نے( ساری امت کو) بچالیا اور آج تم میں حضرت ابو بکر جیسا کوئی نہیں ہے جس کی فضیلت کے سب قائل ہوں اورقریب وبعید سب اس کی موافقت کرلیں۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor