Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق (تابندہ ستارے۔686)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 686)

جب حضورﷺ کاانتقال ہوااس وقت کا ہمارا قصہ یہ ہے کہ حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ حضورﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکے گھر میں پیچھے رہ گئے،ادھرتمام انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوگئے اور مہاجرین حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوگئے۔ میںنے ان سے کہا:اے ابو بکر! آئیں ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس چلیں۔ چنانچہ ہم ان انصاریوں کے ارادے سے چل پڑے ، راستہ میں ہمیں دونیک آدمی( حضرت عویم انصاری اور حضرت معن رضی اللہ عنہما) ملے اور انصار جو کر رہے تھے وہ ان دونوں نے ہمیں بتایااور ہم سے پوچھا کہ اے جماعتِ مہاجرین! تمہارا کہاں جانے کاارادہ ہے؟میں نے کہا:ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس جارہے ہیں۔ ان دونوں نے کہا :ان انصار کے پاس جانا آپ لوگوں کے لیے ضروری نہیں ہے۔ اے جماعت مہاجرین! تم اپنے معاملہ کا خود فیصلہ کرلو۔ میں نے کہا:اللہ کی قسم! نہیں، ہم تو ان کے پاس ضرور جائیں گے…

چنانچہ ہم گئے اور ہم ان کے پاس پہنچے۔ وہ سب سقیفۂ بنی ساعدہ میں جمع تھے اور ان کے درمیان ایک آدمی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا:یہ کون ہیں؟ان لوگوں نے کہا:یہ سعد بن عبادہ ہیں، میں نے کہا:ان کو کیا ہوا؟انہوں نے بتایا :یہ بیمار ہیں۔جب ہم بیٹھ گئے تو ان سے ایک صاحب بیان کے لیے کھڑے ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعدکہا:اما بعد! ہم اللہ( کے دین) کے انصار و مددگار اور اسلام کا لشکر ہیں اوراے جماعتِ مہاجرین! آپ لوگ ہمارے نبی کی جماعت ہیںاور آپ لوگوں میں سے کچھ لوگ ایسی باتیں کررہے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ ہمیں نظر انداز کرناچاہتے ہیں اور امر خلافت سے دوررکھنا چاہتے ہیں۔ جب وہ صاحب خاموش ہوگئے تو میں نے بات کرنی چاہی اور میں نے ایک مضمون ( اپنے ذہن میں) تیار رکھا تھا جو مجھے بہت پسند تھا اور حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے سامنے میں اسے کہنا چاہتا تھا اور میں اس میں نرمی اختیار کیے ہوئے تھا اور میں غصہ والی باتیں نہیں کہنا چاہتا تھا۔ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے کہا:اے عمر! آرام سے بیٹھے رہو۔ میں نے ابو بکررضی اللہ عنہ کو ناراض کرنا پسند نہ کیا( اس لیے اپنی بات کہنے کے لیے کھڑا نہ ہوا) چنانچہ انہوں نے گفتگو فرمائی اور وہ مجھ سے زیادہ دانا اور زیادہ باوقار تھے۔ اللہ کی قسم! جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے اپنے مضمون میں جتنی باتیں سوچی تھیں وہ سب باتیں انہوں نے اپنے برجستہ بیان میں کہہ دیں یا تو وہی باتیں کہیں یا ن سے بہتر کہیں۔

چنانچہ انہوں نے کہا:امابعد!تم نے اپنے بارے میں جس خیر کا ذکر کیا تم لوگ واقعی اس کے اہل ہو،لیکن تمام عرب لوگ امرِ خلافت کا حق دار صرف قبیلہ قریش کو ہی سمجھتے ہیںاور قبیلہ قریش سارے عرب میں نسب اورشہرت کے اعتبار سے سب سے افضل ہے اور مجھے تمہارے خلیفہ بننے کے لیے ان دوآدمیوں میں سے ایک آدمی پسند ہے۔ دونوں میں جس سے چاہو بیعت ہوجائو۔ یہ کہہ کر حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے میراہاتھ پکڑا اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا۔ اس ایک بات کے علاوہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کی اور کوئی بات مجھے ناگوارنہ گزری۔ اللہ کی قسم!مجھے آگے بڑھاکر بغیرکسی گناہ کے میری گردن اُڑادی جائے یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے میں لوگوں کاامیر بن جائوں۔ اس وقت تو میرے دل کی یہی کیفیت تھی لیکن مرتے وقت میری یہ کیفیت بدل جائے تواور بات ہے۔ پھر انصار میں سے ایک آدمی نے کہا کہ اس مسئلہ کامیر ے پاس بہترین حل ہے اور اس مرض کی بہت عمدہ دوا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اے جماعتِ قریش! ایک امیر ہم میں سے ہواور ایک امیر آپ لوگوںمیں سے ہو۔ اس کے بعد سب بولنے لگ گئے اور آوازیں بلند ہوگئیں اور ہمیں آپس کے اختلاف کا خطرہ ہو تو میں نے کہا:اے ابو بکر! آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا دیا۔ پہلے میں ان سے بیعت ہوا۔پھر مہاجرین بیعت ہوئے، اس کے بعد انصار ان سے بیعت ہوئے اور یوں ہم حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ پر غالب آگئے( کہ وہ امیر نہ بن سکے)اس پر ان میں سے کسی نے کہا:ارے!تم نے توسعد کومارڈالا۔میں نے کہا:اللہ انہیں مارے!( یعنی جیسے انہوں نے اس موقع پر حق کی نصر نہیں کی ہے ایسے ہی اللہ تعالیٰ امیر بننے میں ان کی نصرت نہ کرے)حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اس موقع پر ہم جتنے امور میں شریک ہوئے ان میں کوئی امر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے زیادہ کا ر آمد اور مناسب نہ پایا( اور میں نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سے بیعت کا سلسلہ ایک دم اس لیے شروع کرادیا) کیونکہ ہمیں ڈر تھا کہ بیعت کے بغیر ہم انصارکو چھوڑ کر چلے گئے تو یہ ہمارے بعد کسی نہ کسی سے بیعت ہوجائیں گے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor