Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق (تابندہ ستارے۔687)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 687)

پھر ہمیں( ان کا ساتھ دینے کے لیے) یا تو ناپسندیدہ صورتِ حال کے باوجود ان سے بیعت ہونا پڑے گا یا ہمیں ان کی مخالفت کرنی پڑے گی تو فساد کھڑا ہوجائے گا( لہٰذا اب قاعدئہ کلیہ سن لو) جو آدمی مسلمانوں سے مشورہ کیے بغیر کسی امیر سے بیعت ہو جائے گا تو اس کی یہ بیعت شرعاً معتبر نہ ہوگی اور نہ اس امیر کی بیعت کی کوئی حیثیت ہوگی بلکہ اس بات کا ڈر ہے کہ ( ان دونوں کے بارے میں حکمِ شرعی یہ ہو کہ اگر یہ حق بات نہ مانیں تو(ان) دونوں کوقتل کردیا جائے۔حضرت زہری حضرت عروہؒ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ دو آدمی جو حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ کو راستہ میں ملے تھے وہ حضرت عویم بن ساعدہ اور حضرت معن بن عدی رضی اللہ عنہماتھے اور حضرت سعید بن مسیبؒ سے روایت ہے کہ جن صاحب نے کہا تھا کہ اس مسئلہ کا میرے پاس بہترین حل ہے وہ حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ تھے۔

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضراتِ صحابۂ کرام کا قصہ اس طرح ہوا کہ حضور اکرمﷺ کا انتقال ہوا تو ہم سے ایک آدمی نے آکر کہا : انصارسقیفۂ بنی ساعدہ میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس جمع ہوچکے ہیں اور وہ بیعت ہونا چاہتے ہیں۔ یہ سن کرمیں، حضرت ابوبکر اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح گھبرا کر ان کی طرف چل پڑے کہ کہیں یہ انصار اسلام میں نئی بات نہ کھڑی کردیں۔ راستہ میں ہمیں انصار کے دو آدمی ملے جو بڑے سچے آدمی تھے، ایک حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ ، دوسرے معن بن عدی رضی اللہ عنہ ۔ ان دونوں نے کہا:آپ لوگ کہاں جارہے ہیں؟ ہم نے کہا:تمہاری قوم( انصار) کے پاس ، کیونکہ ہمیں ان کی بات پہنچ گئی ہے۔ ان دونوں نے کہا:آپ حضرات واپس چلے جائیں ، کیونکہ آپ لوگوں کی مخالفت ہرگز نہیں کی جاسکتی اورایسا کوئی کام نہیں کیا جا سکتا ہے جوآپ حضرات کو ناگوار ہو۔ لیکن ہم نے کہا:ہم توان کے پاس ضرور جائیں گے۔ میں( راستہ میں) وہاں جاکر بیان کرنے کے لیے مضمون تیار کرتا جارہا تھا یہاں تک کہ ہم انصار کے پاس پہنچ گئے تو وہ حضرت سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ کے اردگرد جمع تھے اور حضرت سعدرضی اللہ عنہ اپنے تخت پر بیمار پڑے ہوئے تھے ، جب ہم ان کے مجمع میں پہنچ گئے تو انہوں نے ( ہم سے) کہا:اے جماعتِ قریش!ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر آپ لوگوں میں سے ہو۔حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس مرض کی میرے پاس بہت عمدہ دوا ہے اور اس مسئلہ کا میرے پاس بہترین حل ہے اور اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو ہم اس مسئلہ کا فیصلہ جو ان اونٹ کی طرح پسندیدہ بنادیں۔ اس پر حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے کہا:آپ سب لوگ اپنی جگہ آرام سے بیٹھے رہیں۔حضرت عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ کچھ کہوں لیکن حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے کہا:اے عمر! تم خاموش رہو۔ اور پھر انہوں نے حمد وثنا کے بعد کہا:اے جماعت انصار! اللہ کی قسم! آپ لوگوں کی فضیلت کا اوراسلام میں جس عظیم درجہ تک آپ لوگ پہنچ گئے ہیں اس درجہ کا اورآپ لوگوں کے حق واجب کا ہمیں انکار نہیں ہے۔ لیکن آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس قبیلۂ قریش کو عربوں میں ایک خاص مقام حاصل ہے جو ان کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں ہے اور عرب اس قبیلہ ہی کے کسی آدمی پر جمع ہو سکیں گے۔ لہٰذا ہم لوگ امیر ہوں گے آپ لوگ وزیر۔ لہٰذا آپ اللہ سے ڈریں اور اسلام کے شیرازے کو نہ بکھیریں اور آپ لوگ اسلام میں سب سے پہلے نئی بات پیدا کرنے والے نہ بنیں اور ذراغور سے سنیں! میں نے آپ لوگوں کے لیے ان دو آدمیوں میں سے ایک کو پسند کیا ہے۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے دو آدمیوں سے مجھے اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو مرادلیا تھا۔ پھر فرمایا:ان دونوں میں سے جس سے بھی آپ لوگ بیعت ہوجائیں وہ قابلِ اعتماد انسان ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جو بات بھی کہنا پسند کرتا تھا وہ بات حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے کہہ دی تھے سوائے اس آخری بات کے کہ یہ مجھے پسندنہ تھی، کیونکہ اللہ کی قسم! مجھے کسی گناہ کے بغیر قتل کیا جائے اور پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر مجھے قتل کیا جائے اور پھر مجھے زندہ کیا جائے،یہ مجھے اس سے زیادہ پسندہے کہ میں ایسے لوگوں کا امیر بنوں جن میں حضرت ابو بکر بھی ہوں۔پھر میں نے کہا:اے جماعت انصار! اور اے جماعت مسلمین! حضورﷺ کے بعد ان کے امرِ خلافت کے لوگوں میں سے سب سے زیادہ حق دار وہ صاحب ہیں جن کے بارے میں( قرآن مجید میں)ثانی اثنین اذھما فی الغار کے الفاظ آئے ہیں، اور وہ ہیں حضرت ابو بکر، جو ہر نیکی میں کھلے طورپر سب سے سبقت لے جانے والے ہیں۔ پھر میں نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کا ہاتھ ( بیعت ہونے کے لیے) پکڑنا چاہا، لیکن ایک انصاری آدمی مجھ پر سبقت لے گئے اور انہوں نے میرے ہاتھ دینے سے پہلے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا ( اوربیعت ہوگئے) پھر تو لوگوں نے لگاتار بیعت ہونا شروع کردیا اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے سب کی توجہ ہٹ گئی۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor