Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق (تابندہ ستارے۔688)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 688)

حضرت ابن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ قبیلۂ زریق کے ایک آدمی نے بیان کیا کہ اس دن( یعنی حضورﷺ کے انتقال کے دن) حضرت ابوبکر اور حضرت عمررضی اللہ عنہماحجرہ سے نکلے اور انصارکے پاس پہنچے۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے فرمایا:اے جماعتِ انصار! ہمیں تمہارے حق کا انکار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مومن تمہارے حق کا انکار کر سکتا ہے اوراللہ کی قسم! ہم لوگوں نے جو خیر بھی حاصل کی ہے تم اس میں ہمارے برابر کے شریک رہے ہو۔ لیکن عرب کے لوگ قریش ہی کے کسی آدمی( کے خلیفہ بننے) سے راضی اور مطمئن ہو سکیں گے۔ کیونکہ ان کی زبان تمام لوگوں سے زیادہ فصیح ہے اور ان کے چہرے سب سے زیادہ خوبصورت ہیں اور ان کا شہر( مکہ مکرمہ) تمام عرب ( کے شہروں) سے افضل ہے اور یہ تمام عربوں سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلانے والے ہیں۔ لہٰذا عمرکی طرف آئو اور ان سے بیعت ہوجائو۔انصارنے کہا: نہیں۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا:کیوں؟(یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر کی کہلوانے کے لیے پوچھی تھی ورنہ ان کا خود خلیفہ بننے کا ارادہ نہیں تھا) انصار نے کہا:ہمیں خطرہ ہے کہ ہم پر دوسروں کوترجیح دی جائے گی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا:جب تک میں زندہ رہوں گا اس وقت تک تو تم پر دوسروں کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔ آپ لوگ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سے بیعت ہوجائیں۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ سے کہا:تم مجھ سے زیادہ قوی ہو۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھ سے زیادہ افضل ہیں۔ یہی بات دونوں حضرات میں دوسری دفعہ ہوئی۔جب تیسری مرتبہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے کہا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا:میری ساری قوت آپ ؓ کے ساتھ ہوگی اور پھر آپؓکو مجھ پر فضیلت بھی حاصل ہے۔ چنانچہ لوگ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سے بیعت ہوگئے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے وقت کچھ لوگ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس( بیعت ہونے ) آئے۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا :تم میرے پاس آرہے ہو ہو حالانکہ تم میں وہ صاحب بھی ہیں جن کے بارے میں( قرآن مجید میں) ثانی اثنین کے الفاظ ہیں( یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ)

حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا امرِ خلافت میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مقدم سمجھنا اوران کی خلافت پر راضی ہونا اور جس آدمی نے ان میں توڑ پیدا کرنا چاہا صحابۂ کرام کا اسے رد کردینا

حضرت مسلمؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ آئو،میں تمہیں( حضورﷺ کا ) خلیفہ بنا دوں، کیونکہ میں نے حضورﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر امت کے لیے ایک امین ہوتا ہے اور آپ اس امت کے امین ہیں۔حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا:میں اس آدمی سے آگے نہیں بڑھ سکتا جسے حضورﷺ نے (نماز میں) ہمارامام بننے کا حکم دیا ہو( اور وہ خود آپ ہی ہیں)

حضرت ابو البختریؒ فرماتے ہیںکہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:تم اپنا ہاتھ آگے بڑھائو تاکہ میں تم سے بیعت ہوجائوں، کیونکہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ اس امت کے امین ہیں۔حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس آدمی سے آگے نہیں بڑھ سکتا ہوں جسے حضورﷺ نے ( نماز میں) ہمارے امام بننے کا حکم دیا ہو اور انہوں نے حضورﷺ کے انتقال تک ہماری امامت کی ہو( اور وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں،لہٰذا میں خلیفہ نہیں بن سکتا)

ابن ِ سعد اور ابنِ جریر نے حضرت ابراہیم تیمی سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اور اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے( حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ) کہا:جب سے تم اسلام لائے ہو میں نے اس سے پہلے تم سے عاجزی اور غفلت کی بات نہیں دیکھی ہے، کیا تم مجھ سے بیعت ہونا چاہتے ہو؟حالانکہ آپ لوگوںمیں وہ صاحب موجود ہیں جو صدیق (اکبر)ہیں اور جو( غارِ ثور میں) دو میں سے دوسرے تھے یعنی حضورﷺ کے غار کے ساتھی۔

اور خیثمہ طرابلسی حضرت حمران سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام لوگوں سے زیادہ امرِ خلافت کے حق دار ہیں، کیونکہ وہ صدیق بھی ہیں اور ( ہجرت کے موقع پر غارِثور کے ) حضورﷺ کے ساتھ بھی ہیں اور حضورﷺ کے صحابی بھی ہیں۔

حضرت سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیررضی اللہ عنہ کی تلوار توڑ دی۔ پھر حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر لوگوں میں بیان فرمایااور ان کے سامنے اپنے عذر پیش کیا اور فرمایا:اللہ کی قسم! کسی دن یا کسی رات بھی یعنی زندگی بھر کبھی بھی میرے دل میں امارت کی تمنا پیدا نہیں ہوئی ۔(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor