Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق (تابندہ ستارے۔689)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 689)

اور نہ اس کی خواہش ہوئی اور نہ میں نے کبھی اللہ سے امارت کو چھپ کر یا علی الاعلان مانگا۔ لیکن مجھے( مسلمانوں میں) فتنہ( پیداہوجانے) کا ڈر ہوا( کہ اگر میں امارت قبول نہ کرتا تو مسلمانوں میں جوڑ باقی نہ رہتا( بلکہ ان میں توڑ پیدا ہو جاتا) اور میرے لیے امارت میںراحت کا کوئی سامان نہیں ہے اور ایک بہت بڑے امر( یعنی امرِ خلافت) کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی گئی ہے جو میری قوت اور طاقت سے باہر ہے۔ ہاں! اللہ تعالیٰ قوت عطاء فرماوے( تو پھر وہ ذمہ داری ٹھیک طرح سے ادا ہو سکتی ہے)اور میں دل سے یہ چاہتا ہوں کہ لوگوں میں سے جو سب سے زیادہ قوی آدمی ہے وہ آج میری جگہ اس امارت پر آجائے ۔حضراتِ مہاجرین نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اس بات کو اور ان کے عذرکو قبول کرلیا۔ البتہ حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں تو صرف اس بات پر غصہ آیا تھا کہ ہمیں مشورہ میں شریک نہیں کیا گیا ، ورنہ ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ حضورﷺ کے بعد لوگوں میں خلافت کے سب سے زیادہ حق دار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ حضورﷺ کے غار کے ساتھی ہیں اور ( قرآن کے الفاظ کے مطابق) یہ ( ثانی اثنین) دو میں سے دوسرے ہیں۔ہم ان کی شرافت اور بزرگی کو خوب پہچانتے ہیںاور حضورﷺ نے اپنی زندگی میں انہیں لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہماکے پاس( ان کے گھر) گئے اور یوں کہا: اے علی! اور اے عباس!(یہ بتائو کہ) یہ خلافت کا کام کیسے قریش کے سب سے زیادہ کم عزت اور سب سے زیادہ چھوٹے خاندان میں چلاگیا؟اللہ کی قسم!اگر تم چاہو تو میں( ابو بکرؓ کے خلاف) سوار اور پیادہ لشکر سے سارا مدینہ بھردوں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:نہیں ،اللہ کی قسم! میں تونہیں چاہتا کہ تم( ابو بکر کے خلاف) سوار اور پیادہ لشکر سے سارامدینہ بھردو۔اے ابو سفیان! اگر ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کواس خلافت کا اہل نہ سمجھتے تو ہم ہر گز ان کے لیے خلافت کو نہ چھوڑتے۔ بے شک مومن تو ایسے لوگ ہیں کہ سب ایک دوسرے کا بھلا چاہنے والے ہوتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں اگر چہ ان کے دطن اور جسم دور ہوں اور منافقین ایسے لوگ ہیں جو ایک دوسرے کو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں۔

حضرت ابو احمد دہقان نے اسی کے ہم معنی روایت ذکر کی ہے، جس میں مزید یہ مضمون بھی ہے کہ منافقوں کے بدن اور وطن اگرچہ قریب ہوں، لیکن وہ ایک دوسرے کو دھوکہ دینے والے ہوتے ہیں اور ہم تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بیعت ہو چکے ہیں اور وہ اس کے اہل ہیں۔

 حضرت ابن ابجرؒ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت ہوگئی تو حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آکر کہا: کیا تم لوگوں پر اس خلافت کے بارے میں قریش کا ایک کم درجہ کا گھرانہ غالب آگیا؟ غور سے سنو! اللہ کی قسم ! اگر تم چاہو تو میں( ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خلاف) سوار اور پیادہ لشکر سے سارا مدینہ بھر دوں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:تم زندگی بھر اسلام اور اہلِ اسلام سے دشمنی کرتے رہے ،لیکن اس سے اسلام اور اہل اسلام کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوا۔ ہم حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کو خلافت کا اہل سمجھتے ہیں۔

 حضرت مرہ طیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہا: یہ کیا ہوا کہ خلافت قریش کے سب سے کم درجہ والے اور سب سے کم عزت والے آدمی یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مل گئی؟اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو میں سارے مدینہ کو ابوبکر  کے خلاف سوار اور پیادہ لشکر سے بھر دوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابو سفیان! تم اسلام اور اہل اسلام کی بہت دشمنی کر چکے ہو، لیکن تمہاری دشمنی سے اسلام اوراہل اسلام کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوا۔ ہم نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کو اس( امرِ خلافت) کا اہل پایا (تبھی تو ہم ان سے بیعت ہوئے)

 حضورﷺ کے پہرے دار حضر ت صخر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے زمانہ میں حضرت خالد بن سعید بن العاص رضی اللہ عنہ یمن میں تھے اور جب حضورﷺ کا انتقال ہوا اس وقت بھی حضرت خالد یمن میں ہی تھے۔ حضورﷺ کے انتقال کے ایک ماہ بعد حضرت خالدرضی اللہ عنہ( مدینہ منورہ) آئے۔انہوں نے دیباج کا ریشمی جبہ پہن رکھا تھا، ان کی حضرت عمر بن خطاب اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے آس پاس کے لوگو ں کو بلندآواز سے کہا: اس کے جبہ کو پھاڑ دو۔ کیا یہ ریشم پہن رہا ہے؟

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor