Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق (تابندہ ستارے۔693)

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اتحادواتفاق

تابندہ ستارے ۔ حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 693)

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے تھے اور لوگ زمانہ ٔ کفر کے قریب تھے( کچھ عرصہ پہلے ہی انہوں نے کفر چھوڑا تھا ) مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ( اگر میں خلیفہ نہ بنا تو) لوگ مرتد ہوجائیں گے اور ان میں اختلاف ہوجائے گا۔ مجھے خلافت ناپسند تھی، لیکن میں نے (امت کے فائدے کی وجہ سے) قبول کرلی اور میرے ساتھی برابر مجھ پر تقاضاکرتے رہے۔ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اپنے اعذار بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ میرا دل مان گیا کہ واقعی یہ (خلافت کے قبول کرنے میں) معذور ہیں۔

خلافت قبول کرنے پر غمگین ہونا

آلِ ربیعہ کے ایک شخص کہتے ہیں کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو وہ غمگین ہو کر اپنے گھر میں بیٹھ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ ان کو ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے:تم نے مجھے خلافت قبول کرنے پر مجبور کیا تھا اور حضرت عمررضی اللہ عنہ سے شکایت کی کہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کیسے کریں ؟تو ان سے حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا:کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ والی وحاکم جب ( صحیح طریقے سے) محنت کرتا ہے اور حق تک پہنچ جاتا ہے تو اسے دو اجر ملتے ہیں اور اگر ( صحیح طریقے سے ) محنت کرے لیکن حق تک نہ پہنچ سکے تو اسے ایک اجر ملتا ہے۔( یہ حدیث سنا کر) حضرت عمررضی اللہ عنہ نے گویا حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کا غم ہلکا کردیا ۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض الوفات میں ان سے فرمایا:مجھے صرف اس پر افسوس ہے کہ میں نے تین کام کیے، اے کاش! میں ان کو نہ کرتا اور تین کام میں نے نہیں کیے اور اے کاش! میں انہیں کرلیتا اور میں تین باتیں حضورﷺ سے پوچھ لیتا۔ آگے حدیث بیان کی پھر یہ مضمون ہے:میں یہ چاہتا ہوں کہ میں خلافت کا بوجھ سقیفۂ بنی ساعدہ کے دن حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت عمررضی اللہ عنہمامیں سے کسی ایک کے کندھے پر ڈال دیتا ۔ وہ امیر ہوتے اور میں ان کا وزیر و مشیر ہوتا اور میں چاہتا ہوں کہ جب میں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو ملک شام بھیجا تھا تو اس وقت میں حضرت عمررضی اللہ عنہ کو عراق بھیج دیتا۔ اس طرح میں اپنے دائیں بائیں دونوں ہاتھ اللہ کے راستے میں پھیلا دیتا۔

اور وہ تین باتیں جنہیں حضورﷺ سے پوچھنے کی میرے دل میں تمنا رہ گئی، ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں حضورﷺ سے پوچھ لیتا کہ یہ امرِخلافت کن میں رہے گاتاکہ اہل خلافت سے کوئی جھگڑا نہ کر سکتا اور میں چاہتا ہوں کہ حضورﷺ سے یہ بھی پوچھ لیتا کہ کیا اس خلافت میں انصار کا بھی کچھ حصہ ہے۔

امیر کا کسی کواپنے بعد خلیفہ بنانا

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن اوردیگر حضرات بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری بڑھ گئی اور ان کی وفات کا وقت قریب آگیا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے فرمایا:مجھے حضرت عمر بن خطاب کے بارے میں بتائو کہ وہ کیسے ہیں ؟حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:آپؓ جس آدمی کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہے ہیں آپ ؓ اس کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے فرمایا:چاہے میں تم سے زیادہ جانتا ہوں لیکن پھر بھی تم بتائو۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:جتنے آدمیوں کو آپ خلافت کا اہل سمجھتے ہیں یہ حضرت عمررضی اللہ عنہ ان سب سے افضل ہیں۔ پھر حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے فرمایا:تم مجھے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائو۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا:آپؓ ان کو ہم سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اے ابو عبداللہ!( یہ حضرت عثمان کی کنیت ہے) پھر بھی ۔ تب حضرت عثمان بن عفان نے عرض کیا :اللہ کی قسم ! جہاں تک میں جانتا ہوں ان کا باطن ان کے ظاہر سے بہتر ہے اور ہم میں ان جیسا کوئی نہیں ہے، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اللہ آپ ؓ پر رحم فرمائے! اللہ کی قسم! اگر میں ان کو چھوڑ دیتا ( یعنی ان کو خلیفہ نہ بناتا) تو میں تم سے آگے نہ بڑھتا( یعنی تم کو خلیفہ بناتا کسی اور کو نہ بناتا)

حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے ان دو حضرات کے علاوہ حضرت سعید بن زیدابو الاعور اور حضرت اسیدبن حضیر رضی اللہ عنہما اور دیگر حضراتِ مہاجرین وانصار رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ حضرت اُسیدرضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ کی قسم! میں ان کو آپ کے بعدسب سے بہتر سمجھتا ہوں۔ جن کاموں سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں ان ہی کاموں سے وہ (عمررضی اللہ عنہ) بھی خوش ہوتے ہیں اور جن کاموں سے اللہ ناراض ہوتے ہیں ان سے وہ بھی ناراض ہوتے ہیں، ان کا باطن ان کے ظاہر سے زیادہ اچھا ہے۔ (جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor