Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔597)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 597)

(اور آیات بھی لکھیں)لہٰذا تم وہ محنت اور اعمال اختیار کرو جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے لیے اپنے وعدہ کو پورا فرمادے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر جہاد فرض کیا ہے، اس میں تم اس کی اطاعت کرو چاہے اس کے لئے تمہیں بڑی مشقت اُٹھانی پڑے اور بڑی مصیبت بدرجہ کمال سہنی پڑے اور دور دراز کے سفر کرنے پڑیں اور مال اور جان کے نقصان کی تکلیف اُٹھانی پڑے۔ کیونکہ اللہ کی طرف سے ملنے والے اجر عظیم کے مقابلے میں یہ تمام مشقتیں اور تکلیفیں کچھ بھی نہیں ہیں۔ اللہ تم پر رحم فرمائے ! تم ہلکے ہو یا بھاری ہر حال میں اللہ کے راستے میں نکلو اور اپنے مال اور جان کو لے کر جہاد کرو۔ (اس مضمون کی ساری آیات لکھیں)

 سن لو! میں نے خالد بن ولید کو عراق جانے کا حکم دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ جب تک میں نہ کہوں وہ عراق سے کہیں اور نہ جائیں۔ تم سب بھی ان کے ساتھ عراق جائو اور اس میں سستی بالکل نہ کرو، کیونکہ اس راستہ میں جو بھی اچھی نیت سے اور پورے ذوق شوق سے چلے گا اللہ تعالیٰ اسے بڑا اجر عطا فرمائیں گے۔ جب تم عراق پہنچ جائو تو میرے حکم کے آنے تک تم سب بھی وہیں رہنا۔ اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری تمام دنیاوی اور اُخروی مہمات کی ہر طرح کفایت فرمائے۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

 حضرت عبداللہ بن ابی اوفی الخزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے لڑنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے حضرت علی، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم اور بدر میںشریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے بڑے بڑے مہاجر اور انصار صحابہ کو بلایا۔ وہ سب حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضرہوئے اور میں بھی ان میں تھا تو حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے تمام اعمال اس کی نعمتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں لہٰذا تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کلمہ کو جمع فرمادیا اور تمہارے اندر اتفاق پیدا کردیا اور تمہیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور شیطان کو تم سے دور فرمادیا۔ اب شیطان کو نہ تو اس بات کی امید ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کروگے اور نہ اس بات کی امید ہے کہ تم اس کے علاوہ کسی اور کو معبود بنائو گے، چنانچہ آج تمام عرب ایک ماں باپ کی اولاد کی طرح ہیں۔

 میرا یہ خیال ہورہا ہے کہ میں مسلمانوں کو رومیوں سے لڑنے کے لیے شام بھیج دوں تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی تائید فرمائے اور اپنے کلمہ کو بلند فرمائے اور اس میں مسلمانوں کو بہت بڑا حصہ( شہادت کا اور اجر و ثواب کا ) ملے گا۔ کیونکہ ان میں سے جو اس لڑائی میں ماراجائے گا وہ شہید ہو کر مرے گا اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہتر ہے اور جو زندہ رہے گا وہ دین کا دفاع کرتے ہوئے زندگی گزارے گا اور اسے اللہ کی طرف سے مجاہدین کا ثواب ملے گا، یہ تو میری رائے ہے۔ اب آپ میں سے ہر آدمی اپنے رائے بتائے۔

 چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہنے کھڑے ہوکر فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہیں کسی خیر کے ساتھ خصوصیت سے نوازدیں ۔اللہ کی قسم! جب بھی کسی نیکی کے کام میں ہم نے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی آپ ہم سے ہمیشہ اس نیکی میں بڑھ گئے۔یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتے ہیں اسے عطا فرماتے ہیں اور اللہ بڑے فضل والے ہیں۔ میرے دل میں بھی یہی خیال آیا تھا اور میرا ارادہ تھا کہ میں آپ سے ملاقات کر کے آپ سے اس کا ذکر کروں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہی مقدر فرمارکھا تھا کہ آپ ہی اس کا پہلے ذکر کریں۔ آپ کی رائے بالکل ٹھیک ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ رشد و ہدایت کے راستہ پر چلائے!آپ گھوڑ سواروں کی جماعتیں آگے پیچھے مسلسل بھیجیں اور پیدل دستوں کو بھی مسلسل بھیجیں، غرضیکہ لشکر کے پیچھے لشکر روانہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ضرور مدد فرمائیں گے اور اسلام اور اہل اسلام کو ضرور عزت عطا فرمائیں گے۔

 پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: اے خلیفۃ رسول اللہ!یہ رومی ہیں اور یہ بنو الاصفر ہیں۔ یہ تیز دھار والے لوہے اور مضبوط ستون کی طرح ہیں۔ میں اسے مناسب نہیں سمجھتا ہوں کہ ہم سب ان میں بے سوچے سمجھے ایک دم گھس جائیں، بلکہ میراخیال یہ ہے کہ ہم گھوڑ سواروں کی ایک جماعت بھیجیں جو ان کے ملک کے اطراف پر اچانک شب خون مارے اور پھر آپ کے پاس واپس آجائیں۔ جب وہ اس طرح کئی دفعہ کرلیں گے تو اس طرح وہ رومیوں کا کافی نقصان بھی کرچکے ہوں گے اور ان کے کنارے کے بہت سے علاقوں پر قبضہ بھی کرلیں گے۔ اس طرح وہ رومی اپنے دشمنوں یعنی مسلمانوں سے تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے۔ اس کے بعد آپ آدمی بھیج کر یمن کے اور قبیلہ ربیعہ و مضر کے آخری علاقوں کے مسلمانوں کو اپنے ہاں جمع کریں۔ اس کے بعد اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس لشکر کو لے کر آپ خود رومیوں پر حملہ آور ہوں یا ان کو کسی ساتھ بھیج دیں( اور خود مدینہ میں ٹھہرے رہیں)

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor