Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔599)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 599)

اس کے بعد حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: خلیفۂ رسول اللہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اے میرے بھائی(عمرو بن سعیدؓ) تم بیٹھ جائو۔ چنانچہ وہ بیٹھ گئے۔ پھر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا:تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کے سواکوئی معبود نہیں ، جس نے محمدﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجاتاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کردے اگرچہ یہ بات مشرکوں کو ناگوار لگے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور اپنے وعدہ کو ظاہر اور غالب کرنے والا اور اپنے دشمن کو ہلاک کرنے والا ہے، نہ ہم( آپ کی) مخالفت کرنے والے ہیں اور نہ ہمارا آپس میں کوئی اختلاف ہے۔ آپ بڑے خیر خواہ اور شفیق والی ہیں۔ آپ ہمیں جب نکلنے کو کہیں گے ہم اسی وقت نکل جائیں گے اور جب آپ ہمیں کوئی حکم دیں گے ہم آپ کے اس حکم کو مانیں گے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی اس بات سے بڑے خوش ہوئے اور ان سے فرمایا: اے بھائی اوردوست! جزاک اللہ خیرا۔ تم اپنے شوق سے مسلمان ہوئے، تم نے ثواب کی نیت سے ہجرت کی ، تم اپنا دین لے کر کافروں سے بھاگے تاکہ اللہ اور اس کے رسول راضی ہوجائیں اور ان کا کلمہ بلند ہوجائے اور اب تم ہی لوگوں کے امیر ہوگے۔ اللہ تم پر بہت رحمت نازل کرے!تم چلو۔

یہ کہہ کر حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ(منبر سے) نیچے تشریف لے آئے اور حضرت خالد بن سعیدرضی اللہ عنہ نے واپس آکر( سفر کی) تیاری شروع کردی۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے حضرت بلال سے کہا : لوگوں میں اعلان کردو کہ اے لوگو! شام میں رومیوں سے جہاد کے لیے چل پڑو۔ لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے امیر حضرت خالد بن سعیدرضی اللہ عنہ ہیں ان کی امارت میں کسی کو شک نہیں تھا۔  حضرت خالد سب سے پہلے لشکر گاہ پہنچ گئے، پھر روزانہ دس، بیس ، تیس،پچاس اور سو سو ہو کر لوگ لشکر گاہ میں جمع ہوتے رہے یہاں تک کہ کافی بڑی تعداد جمع ہوگئی ۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ چند صحابہ کو ساتھ لے کر اس لشکر کے پاس تشریف لائے، انہیں وہاں مسلمانوں کی اچھی تعداد نظر آئی، لیکن انہوں نے رومیوں سے جنگ کے لیے اس تعداد کو کافی نہ سمجھا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: اگر میں مسلمانوں کی اتنی ہی تعداد کو رومیوں سے مقابلہ کے لیے شام بھیج دوں تو اس بارے میں آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو بنو الاصفر( رومیوں) کے لشکروں کے لیے اتنی تعداد کو کافی نہیں سمجھتا ہوں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دوسرے حضرات سے پوچھا : آپ لوگوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ ان سب نے کہا:حضرت عمر نے جو کہا ہمارا بھی وہی خیال ہے۔

حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے کہا:کیا میں یمن والوں کو خط نہ لکھ دوں جس میں ہم انہیں جہاد کی دعوت دیں اور اس کے ثواب کی ترغیب دیں۔ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے تمام ساتھیوں نے اسے مناسب سمجھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: جی ہاں! جوآپ کی رائے ہے آپ اس پر ضرور عمل کریں۔ چنانچہ انہوں نے خط لکھا:

جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب کے لیے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یمن والوں کے نام خط

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خلیفۂ رسول اللہﷺ کی طرف سے یمن کے ان تمام مومنوں او رمسلمانوں کے نام خط ہے جن کے سامنے میرا یہ خط پڑھا جائے۔

سلام علیکم! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اما بعد!اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جہاد کو فرض فرمایا اور انہیں ہر حال میں نکلنے کا حکم دیا چاہے ہلکے ہوں یابھاری اور اللہ کے راستے میں مال و جان لے کر جہاد کرنے کا حکم دیا۔ جہاد ایک زبردست فریضۂ خداوندی ہے جس کا ثواب اللہ کے ہاں بہت بڑا ملتا ہے۔ ہم نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ ملک شام میں جا کر رومیوں سے جہاد کریں، اس کے لیے وہ جلدی سے تیار ہوگئے اور اس میں ان کی نیت بڑی عمدہ ہے( کہ وہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے جارہے ہیں) اور ( اس سفرِ جہاد میں جا کر) اللہ سے ثواب لینے کی ان کی نیت بہت بڑی ہے۔ تو اے اللہ کے بندو! جیسے یہاں کے مسلمانوں نے جلدی سے تیاری کرلی تم بھی ( اس سفر جہاد کی ) تیاری جلدی سے کر لو۔ لیکن اس سفر میں آپ لوگوں کی نیت ٹھیک ہونی چاہیے۔ تمہیں دوخوبیوں میں سے ایک خوبی تو ضرور ملے گی:یا توشہادت یا تو فتح و مالِ غنیمت ،کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ وہ صرف باتیں کریں اور عمل نہ کریں ۔ اللہ کے دشمنوں سے جہاد کیا جاتارہے گا یہا تک کہ وہ دین ِ حق کو اختیار کرلیں اور کتاب اللہ کے فیصلہ کو مان لیں۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دین کی حفاظت فرمائے اور تمہارے دلوں کو ہدایت عطا فرمائے اور تمہارے اعمال کو پاکیزہ فرمائے اور جم کر مقابلہ کرنے والے مہاجرین کا ثواب تمہیں عطا فرمائے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor