Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔600)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 600)

حضرت عبدالرحمن بن جبیرؒ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ والوں کی جماعت بھیجنے لگے تو ان میں کھڑے ہوکر ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر انہیں شام جانے کا حکم دیااور ان کو خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ ملک شام فتح کرکے انہیں دیں گے اور وہ وہاں مسجدیں بنائیں گے اور یہ بات سامنے نہ آئے کہ تم وہاں کھیل کود کے لیے گئے ہو، شام میں نعمتوں کی کثرت ہے تمہیں وہاں کھانے کو خوب ملے گا، لہٰذا تکبر سے بچ کر رہنا( کیونکہ کھانے اور مال کی کثرت سے انسان میں اکڑ پیدا ہوجاتی ہے) رب کعبہ کی قسم! تم میں ضرور تکبر پیدا ہوگا اور تم ضرور اِترائو گے۔ غور سے سنو! میں تمہیں دس باتوں کا حکم دیتا ہوں کسی بوڑھے کو ہرگز قتل نہ کرنا۔ آگے اور حدیث ذکر کی۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا جہاد اور نفرفی سبیل اللہ کے لیے ترغیب دینا اور اس بارے میں ان کا صحابہ ؓ سے مشورہ فرمانا

حضرت قاسم بن محمدؒ فرماتے ہیں کہ حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مخاطب ہو کرفرمایا:اے لوگو! فارس کی طرف جانے کو تم لوگ مشکل اور بھاری کام نہ سمجھو،ہم نے فارس کی سرسبز اور شاداب زمین پر قبضہ کرلیا ہے اور عراق کے دوٹکڑوں میں سے بہترین ٹکڑا ہم نے ان سے لے لیا ہے اور ہم نے ان سے آدھا ملک لے لیا ہے اور ہم نے ان کو خوب نقصان پہنچایا ہے اور ہمارے آدمی ان پر جری ہوگئے اور ان شاء اللہ بعدوالا علاقہ بھی ہمیں مل جائے گا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمایا:سرزمین حجاز تمہارے رہنے کی اصلی جگہ نہیں ہے وہ تو تمہیں جہاں گھاس ملتا ہے وہاں جا کر تم کچھ دن رہ لیتے ہو اور حجاز والے اس سرزمین میں اسی طرح گزارا کرسکتے ہیں۔ جو مہاجرین اللہ کے دین کے لیے ایک دم دوڑ کر آیا کرتے تھے وہ آج اللہ کے وعدے سے کہاں دور جا پڑے ہیں ؟تم اس سرزمین میں جہاد کے لیے چلو جس کے بارے میں اللہ نے تم سے( قرآن میں) وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہیں اس زمین کا وارث بنائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

لیظھرہ علی الدین کلہ

تاکہ اللہ دین کو تمام دینوں پر غالب کردے۔

 اور اللہ اپنے دین کو ضرور غالب کریں گے اور اپنے مددگار کو عزت دیں گے اور اپنے دین والوں کو تمام قوموںکی میراث کا وارث بنائیں گے۔ اللہ کے نیک بندے کہاں ہیں؟

اس دعوت پر سب سے پہلے حضرت ابو عبیدبن مسعود رضی اللہ عنہ نے لبیک کہی، پھر سعد بن عبید یا سلیط بن قیس رضی اللہ عنہما نے( یوں ایک ایک کر کے بڑا لشکر تیار ہو گیا )جب یہ تمام حضرات جمع ہوگئے تو حضرت عمررضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ مہاجرین اور انصار میں سے کسی پرانے کو ان کا امیر بنادیں۔

 فرمایا:نہیں، اللہ کی قسم!( آج) میں ایسے نہیں کروں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بلندی اس وجہ سے دی تھی کہ تم ہر نیکی میں سبقت کرتے تھے اور دشمن کی طرف تیزی سے چلتے تھے ،لہٰذا جب تم بزدل بن گئے ہو اور دشمن سے مقابلہ تمہیں برالگنے لگا ہے تو اب تم سے زیادہ امیر بننے کا حق دار وہ آدمی ہے جو دشمن کی طرف جانے میں سبقت لے جائے اور جانے کی دعوت کو پہلے قبول کرے۔

 لہٰذا میں ان کا امیر اسی کو بنائوں گا جس نے( میری دعوت پر) سب سے پہلے لبیک کہی تھی۔پھر حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ، حضرت سلیط اور حضرت سعد رضی اللہ عنہما کو بلا کر کہا:تم دونوں اگر (دعوت پر لبیک کہنے میں) ابو عبید سے سبقت لے جاتے تو میں تم دونوں کو امیر بنادیتا۔پرانے ہونے کی صفت تو تمہیں حاصل ہے ہی ،اس طرح تمہیں امارت بھی مل جاتی ۔ چنانچہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس لشکر کاامیرحضرت ابوعبیدرضی اللہ عنہ کوبنایا اور ان سے فرمایا: نبی کریمﷺ کے صحابہ کی بات ضرور سننا اور ان کو مشورہ میں شریک رکھنا اور جب تک تحقیق کر کے تسلی نہ کر لو کسی کام کے فیصلہ میں جلد بازی سے کام نہ لینا،کیونکہ یہ جنگ ہے اس میں وہی آدمی ٹھیک چل سکتا ہے جو سنجیدہ،دھیما اور موقع شناس ہو۔ اسے معلوم ہو کہ کب دشمن پر حملہ کرنا چاہیے اور کب رک جانا چاہئے۔

شعبی نے اس حدیث کو یوں بیان کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ ان کا امیر ایسے آدمی کو بنائیں جسے حضورﷺ کی (قدیمی) صحبت حاصل ہو۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا:(پرانے)صحابہ کو فضیلت اس وجہ سے حاصل تھی کہ وہ دشمن کی طرف تیزی سے جاتے تھے اور منکرینِ اسلام کے لیے کافی ہوجاتے تھے۔ لہٰذا اگر اب کوئی اور ان کی یہ خصوصی صفات اختیار کرلے اور ان جیسے کارنامے انجام دینے لگ جائے اور خود( پرانے ) صحابہ ڈھیلے اور سست پڑجائیں تو ہلکے ہوں یا بھاری ہر حال میں نکلنے والے( دوسرے) لوگ اس امارت کے صحابہ سے زیادہ حق دار ہوجائیں گے۔ اس لیے اللہ کی قسم! میں ان کا امیر اسے بنائوں گا جس نے دعوت پر سب سے پہلے لبیک کہی تھی۔ چنانچہ حضرت ابو عبیدرضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور انہیں اپنے لشکر کے بارے میں ہدایات دیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor