Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔637)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 637)

غزوئہ احد کا دن

 حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غزوئہ احد کے دن اپنے بھائی سے کہا:اے میرے بھائی!تم میری زرہ لے لو۔ ان کے بھائی نے کہا: (میں نہیں لینا چاہتا ہوں) جیسے آپ شہید ہونا چاہتے ہیں ایسے ہی میں بھی شہید ہوناچاہتا ہوں۔ چنانچہ دونوں نے وہ زرہ چھوڑ دی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب جنگ احد کے دن لوگ رسول اللہﷺ کے پاس سے چلے گئے اور ان کوشکست ہوگئی تو میں نے حضورﷺ کو مقتولین میں دیکھا، لیکن آپﷺ ان میں نظر نہ آئے تو میںنے( اپنے دل میں) کہا کہ حضورﷺ بھاگنے والے تو ہیں نہیں اور آپﷺ مجھے مقتولین میں بھی نظر نہیں آرہے ہیں، اس لیے میرا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے فعل سے ناراض ہو کر اپنے نبیﷺ کو اٹھالیا ہے۔اس لیے اب میرے لیے سب سے بہتر صورت یہ ہے کہ میں دشمن سے لڑنے لگ جائوں یہاں تک کہ جان دے دوں۔

چنانچہ میں نے اپنی تلوار کی میان توڑدی اور پھر کافروں پر زور سے حملہ کیا تو کافر میرے سامنے سے ہٹ گئے تو دیکھتا ہوں کہ حضورﷺ ان کے درمیان گھرے ہوئے ہیں۔

 قبیلہ بنو عدی بن نجار کے حضرت قاسم بن عبدالرحمن بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضر ت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب اور طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچے تو یہ دونوں حضرات دیگر مہاجر اور انصاری حضرات کے ساتھ (لڑائی سے) ہاتھ روک کر(پریشان)بیٹھے ہوئے تھے۔ تو حضرت انس بن نضررضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ لوگ کیوں بیٹھے ہیں؟انہوں نے کہا کہ حضورﷺ شہید ہوگئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ حضورﷺ کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کرو گے؟ اُٹھو اور جس چیز پر حضورﷺ نے جان دے دی ہے تم بھی اسی پر جان دے دو۔ چنانچہ حضرت انس بن نضررضی اللہ عنہ کافروں کی طرف بڑھے اور لڑنا شروع کردیا،بالآخر شہید ہوگئے۔

حضرت عبداللہ بن عمار خطمیؒ فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد کے دن حضرت ثابت بن دحداحہ رضی اللہ عنہ سامنے سے آئے اور مسلمان الگ الگ ٹولیوں میں حیران و پریشان بیٹھے تھے۔

 تو یہ بلندآواز سے کہنے لگے:اے جماعت ِ انصار! میرے پاس آئو، میرے پاس آئو۔ میں ثابت بن دحداحہ ہوں۔ اگر حضرت محمدﷺشہید ہوگئے ہیں( تو کیا بات ہے؟) اللہ تعالیٰ توزندہ ہیں انہیں موت نہیں آتی۔ لہٰذا تم اپنے دین کوبچانے کے لیے لڑو، اللہ تعالیٰ تمہیں غالب فرمائیں گے اور تمہاری مدد کریں گے۔ کچھ انصار کھڑے ہو کر ان کے پاس آگئے۔ جو مسلمان ان کے ساتھ ہوگئے تھے ان کو لے کر انہوں نے کافروں پر حملہ کردیا۔ ہتھیاروں سے مسلح اور مضبوط دستہ ان کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس دستہ میں کافروں کے سردار خالد بن ولید، عمرو بن العاص، عکرمہ بن ابی جہل اور ضرار بن خطاب تھے۔ چنانچہ آپس میں خوب زور کی جنگ ہوئی ۔خالد بن ولید نے نیزہ لے کر حضرت ثابت بن دحداحہ پر حملہ کیا اور ان کواس زور سے نیز ہ مارا کہ آرپار ہوگیا۔ چنانچہ وہ شہید ہو کر گرپڑے اور ان کے ساتھ جتنے انصار تھے وہ سب بھی شہید ہوگئے اور کہاجاتا ہے کہ اس دن یہی لوگ سب سے آخرمیں شہید ہوئے۔

حضرت ابو نجیح رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد کے دن ایک مہاجر صحابی ایک انصاری کے پاس سے گزرے، وہ انصاری خون میں لت پت تھے۔ اس مہاجر نے ان سے کہا:کیا تمہیں معلوم ہے کہ حضرت محمدﷺ شہید کردیئے گئے ہیں؟تو انصاری نے کہا کہ اگر حضورﷺ شہید کر دیئے گئے ہیں تو وہ اللہ کا پیغام پہنچاچکے ہیں( جس کام کے لیے اللہ نے ان کوبھیجا تھا وہ کام انہوں نے پورا کردیا ہے) لہٰذا تم اپنے دین کوبچانے کے لیے( کافروں) سے جنگ کرو، اس پر یہ آیت نازل ہوئی:

’’وما محمد الارسول‘‘

اور محمد(ﷺ) ایک رسول ہیں۔

 حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے جنگ اُحد کے دن مجھے حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا اور آپﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم ان کو دیکھ لو تو ان کو میرا سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ اللہ کے رسول تم سے پوچھ رہے ہیں کہ تم اپنے آپ کو کیسا پار ہے ہو؟ حضرت زیدرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں( انہیں تلاش کر نے کے لیے) مقتولین میں چکر لگانے لگا۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو ان کے آخری سانس تھے اور ان کے جسم پر نیزے اور تلوار اور تیر کے ستر زخم تھے۔ میں نے ان سے کہا:اے سعد! اللہ کے رسول ﷺ تمہیں سلام کہتے ہیں اور تم سے پوچھتے ہیں کہ بتائو تم اپنے آپ کو کیسا پارہے ہو؟انہوں نے کہا:اللہ کے رسولﷺکو کو سلام ہو! تم حضورﷺ سے کہہ دینا کہ یا رسول اللہ! میرا حال یہ ہے کہ میں جنت کی خوشبو پارہا ہوں اور میری قوم انصار سے کہہ دینا تم میں ایک بھی جھپکنے والی آنکھ موجود ہو یعنی تم میں سے ایک آدمی بھی زندہ ہو اور کافر اللہ کے رسول ﷺ تک پہنچ جائیں تو اللہ کے ہاںتمہارا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ اتنا کہنے کے بعد ان کی روح پرواز کر گئی ۔اللہ ان پر رحم فرمائے!

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor