Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔638)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 638)

حضرت عبدالرحمن بن ابی صعصعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا:کون دیکھ کر مجھے بتائے گاکہ سعدبن ربیع کاکیا ہوا؟ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیااور پھر یہ مضمون ہے کہ حضرت سعد نے کہا : اللہ کے رسولﷺ کو بتادو کہ میں جنگ میں شہید ہوجانے والوں میں پڑا ہوں اور حضورﷺ کو میرا سلام کہنا اور ان سے عرض کرنا کہ سعد کہہ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺکو ہماری اور ساری امت کی طرف سے بہترین جزا عطاء فرمائے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مشرکین نے جنگ اُحد کے دن نبی کریمﷺ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور اس وقت آپﷺ کے ساتھ سات انصاری اور ایک قریشی صحابی تھے۔ آپﷺنے فرمایا:جو ان کو ہم سے پیچھے ہٹائے گا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔چنانچہ ایک انصاری صحابی نے آکر ان کافروں سے جنگ شروع کردی یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے۔جب مشرکوں نے حضورﷺ کوپھر گھیرلیا تو آپﷺ نے پھر فرمایا:جو ان کو ہم سے پیچھے ہٹائے گا وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔( اس طرح ایک ایک کرکے) ساتوں انصاری شہید ہوگئے۔

 اس پر حضورﷺ نے فرمایا:ہم نے اپنے ( انصاری ) ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا( یا ہمارے ساتھیوں نے ہم سے انصاف نہیں کیا کہ ہمیں چھوڑ کرچلے گئے)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد کے دن جب مسلمانوں کو شکست ہوگئی تو وہ حضورﷺ کو چھوڑ کرچلے گئے اور آپﷺکے ساتھ گیارہ انصاری اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہم رہ گئے ۔ حضورﷺ پہاڑ پر چڑھنے لگے کہ پیچھے سے مشرکین ان تک پہنچ گئے۔ حضورﷺ نے فرمایا:کیا ان (کے روکنے) کے لیے کوئی نہیں ہے؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا:یارسول اللہ!میں ہوں۔حضورﷺ نے فرمایا:اے طلحہ!تم جیسے ہو ویسے ہی رہو۔ ایک انصاری نے کہا:یا رسول اللہ! میں ہوں۔ چنانچہ انہوں نے ان کافروں سے جنگ شروع کردی۔ حضورﷺ باقی صحابہ کو لے کر پہاڑ کے اور اوپر چڑھ گئے۔ پھر وہ انصاری شہید ہوگئے اور کافر حضورﷺ تک پہنچ گئے۔آپﷺ نے فرمایا:کیاان( کوروکنے) کے لیے کوئی مرد نہیں ہے؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنی پہلی بات دہرائی، حضورﷺ نے ان کو وہی جواب دیا۔ تو ایک انصاری نے کہا:’’یارسول اللہ ! میں ہوں۔ انہوں نے بھی ان کافروں سے جنگ شروع کردی۔ حضورﷺ اور باقی صحابہ پہاڑ پر اور اوپر چڑھنے لگے۔ اتنے میں وہ انصاری صحابی شہید ہوگئے اور کافر پھر حضورﷺ تک پہنچ گئے۔

 حضور ﷺ ہر مرتبہ وہی فرمان ارشاد فرماتے ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ہر مرتبہ عرض کرتے:یارسول اللہ!میں ہوں،حضور ﷺانہیں روک دیتے، پھر کوئی انصاری ان کافروں سے لڑنے کی اجازت مانگتا حضورﷺ اسے اجازت دے دیتے اور وہ اپنے سے پہلے والے کی طرح خوب زور سے لڑتا اور شہید ہوجاتا۔ یہاں تک کہ حضورﷺ کے ساتھ صرف حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ باقی رہ گئے ،تو مشرکین نے ان دونوں کو گھیر لیا۔ حضورﷺ نے فرمایا:ان سے مقابلہ کے لیے کون تیار ہے؟

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا:میں( حضورﷺ نے اس مرتبہ ان کو اجازت دے دی) چنانچہ ان سے پہلے والوں نے سب نے جتنی جنگ کی انہوں نے اکیلے ان سب کے برابر جنگ کی (لڑتے لڑتے) ان کے ہاتھوں کے پورے بہت زخمی ہوگئے تو انہوں نے کہا:حسس(جیسے اردو میں ایسے موقع پر ’’ہائے‘‘ کہاجاتا ہے) حضورﷺ نے فرمایا:اگر تم بسم اللہ کہتے تو فرشتے تمہیں اوپر اُٹھالیتے اور تمہیں لے کر آسمان میں داخل ہوجاتے اور لوگ تمہیں دیکھ رہے ہوتے۔ پھر حضورﷺ پہاڑی پر چڑھ کر اپنے صحابہ کے پاس پہنچ گئے جو وہاں جمع تھے۔

حضرت محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ احد تشریف لے گئے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد یمان بن جابر اور حضرت ثابت بن وقش بن زعوراء رضی اللہ عنہما عورتوں اور بچوں کے ساتھ قلعہ پر چڑھ گئے۔ یہ دونوں حضرات بوڑھے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا:تیراباپ نہ رہے! ہم کس چیز کاانتظار کررہے ہیں۔ اللہ کی قسم! ہم میں سے ہر ایک کی اتنی عمر باقی رہ گئی ہیں جتنی ایک گدھے کی پیاس (تمام جانوروں میں گدھا سب سے کم پیاس برداشت کر سکتا ہے) یعنی بہت تھوڑی عمرباقی رہ گئی ہے۔ ہم آج یا کل مرجائیں گے کیوں نہ ہم اپنی تلواریں لے کر حضورﷺ کے ساتھ( لڑائی میں ) شریک ہوجائیں۔

چنانچہ یہ دونوں حضرات مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہوگئے اور مسلمان ان کو پہچانتے نہیں تھے۔ حضرت ثابت بن وقش کو تو مشرکین نے قتل کردیا اور حضرت ابو حذیفہ پر مسلمانوں کی تلواریں چلیں اور مسلمانوں نے ان کو قتل کردیا۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پکارا:یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں(انہیں نہ مارو مارنے والے!) مسلمانوں نے کہا:اللہ کی قسم! ہم ان کو پہچانتے نہیں تھے۔ اوریہ حضرات اپنی اس بات میں سچے تھے۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو معاف فرمائے اور وہ سب سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں۔ حضورﷺ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے والد کا خون بہادینا چاہا لیکن انہوں نے مسلمانوں کو خون بہا معاف کردیا۔ اس سے حضورﷺ کے نزدیک حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مرتبہ اور بڑھ گیا۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor