Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔639)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 639)

غزوئہ رجیع کا دن

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک جماعت کو حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو اس جماعت کا امیر بنایا۔ یہ (ثابت) حضرت عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نانا ہیں۔ چنانچہ یہ حضرات روانہ ہوئے ۔ جب یہ عسفان اور مکہ کے درمیان( ہداۃ مقام پر) پہنچ گئے تو ہذیل کے قبیلہ بنولحیان سے اس جماعت کا لوگوں نے تذکرہ کیا۔ تو بنو لحیان تقریباً سو تیر اندازوں کو لے کر ان کا پیچھا کرنے کے لیے چلے اور ان کے نشاناتِ قدم پر چلتے چلتے اس جگہ پہنچے جہاں اس جماعت نے پڑائو کیا تھا۔ یہ حضرات مدینہ سے جو کھجوروں کا زادِ سفر لے کر چلے تھے ان کی گٹھلیاں بنو لحیان کو اس جگہ ملیں(جسے دیکھ کر) بنو لحیان نے کہا:یہ یثرب( مدینہ) کی کھجوریں ہیں۔ چنانچہ بنولحیان ان کے پیچھے چلتے چلتے ان تک پہنچ گئے۔ جب حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں کو اس کا پتہ چلا تو وہ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے اور بنو لحیان نے آکر ان کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور ان سے کہا کہ ہم تم سے پختہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تم ہمارے پاس نیچے اترآئو گے توہم تم میں سے ایک آدمی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔

 حضرت عاصم نے کہا کہ میں تو کسی کافر کے عہد میں آنا نہیںچاہتا ہوں۔ اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! ہماری طرف سے اپنے نبی کو خبر پہنچادے۔ اس پر بنو لحیان نے اس جماعت سے جنگ شروع کردی اور حضرت عاصم کو ان کے ساتھیوں سمیت تیروں سے شہید کردیا اور حضرت خبیب اور حضرت زید رضی اللہ عنہما اور ایک اور صحابی زندہ رہ گئے۔ بنولحیان نے ان کو پھرعہدو پیمان دیاجس پر یہ تینوں نیچے اتر آئے۔ جب بنو لحیان نے ان تینوں پر قابو پالیا تو ان لوگوں نے ان کی کمانوں کی تانت اتار کر ان کو تانت سے باندھ دیا۔ اس پر اس تیسرے صحابی نے کہا کہ یہ پہلی بدعہدی اور ان کے ساتھ جانے سے انکارکردیا۔ کافروں نے انہیں ساتھ لے جانے کے لیے بہت کھینچا اور زور لگایا لیکن یہ نہ مانے، آخر انہوں نے ان کو شہید کردیا اور حضرت خبیب اور حضرت زید رضی اللہ عنہما کو لے جا کر مکہ میں بیچ دیا۔ حارث بن عامر بن نوفل کی اولاد نے حضرت خبیب کو خرید لیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے ہی حارث بن عامر کو جنگ بدر کے دن قتل کیا تھا۔

 یہ کچھ عرصہ ان کے پاس قید میں رہے یہاں تک کہ جب ان لوگوں نے حضرت خبیب کو قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو حضرت خبیب نے حارث کی ایک بیٹی سے زیر ناف بال صاف کرنے کے لیے استرامانگا۔ وہ کہتی ہیں کہ میری بے خیالی میں میرا ایک بیٹاچلتا ہوا ان کے پاس پہنچ گیا۔ انہوں نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا۔ میں نے جب اسے یوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں بہت گھبرا گئی کہ ان کے ہاتھ میں استرا ہے( کہیں یہ میرے بیٹے کو قتل نہ کردیں) وہ میری گھبراہٹ کو بھانپ گئے تو انہوں نے کہا کہ کیا تمہیں یہ ڈر ہے کہ میں اسے قتل کردوں گا؟ان شاء اللہ میں یہ کام بالکل نہیں کروں گا۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ میں نے حضرت خبیب سے بہتر کوئی قیدی نہیں دیکھا۔ میں نے ان کو دیکھا کہ وہ انگور کے ایک خوشے میں سے کھا رہے تھے حالانکہ اس دن مکہ میں کوئی پھل نہیں تھا اور وہ خود لوہے کی زنجیر میں بندھے ہوئے تھے( جس کی وجہ سے وہ کہیں سے جا کر لا بھی نہیں سکتے تھے) وہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو( اپنے غیب سے ) سے رزق عطاء فرمایا تھا۔ چنانچہ ان کو قتل کرنے کے لیے وہ لوگ ان کو حرم سے باہر لے چلے۔

 انہوں نے کہا:ذرا مجھے چھوڑ دو میں دورکعت نماز پڑھ لوں۔چنانچہ یوں نماز سے فارغ ہو کر ان کے پاس واپس آئے اور ان سے کہا کہ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ یہ سمجھو گے کہ میں موت سے گھبرا گیا ہوں تو میں اور نماز پڑھتا۔ قتل کے وقت دورکعت پڑھنے کی سنت کی ابتدا سب سے پہلے حضرت خبیب رضی للہ عنہ نے کی۔

پھر انہوں نے یہ بددعاء کی کہ اے اللہ! ان میں سے ایک کوبھی باقی نہ چھوڑنا۔ پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے:

وما ان ابالی حین اقتل مسلما

علی ای شق کان للّٰہ مصرعی

 جب مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جارہا ہے تو اب مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کہ میں اللہ کے لیے قتل ہو کر کس کروٹ گروں گا۔

 وذلک فی ذات الا لہ و ان یشأ

 یبارک علی اوصال شلو ممزع

اور میرا یہ قتل ہونا اللہ کی ذات کی وجہ سے ہے اور اگر اللہ چاہے تو وہ میرے جسم کے کٹے ہوئے حصوں میں برکت ڈال سکتا ہے۔

 پھر عقبہ بن حارث نے کھڑے ہو کر ان کو قتل کردیا۔ حضرت عاصم نے جنگِ بدر کے دن قریش کے ایک بڑے سردار کو قتل کیا تھا اس لیے قریش نے کچھ آدمیوں کو بھیجا کہ وہ ان کے جسم کا کچھ کاٹ کرلے آئیں جس سے وہ ان کوپہنچا سکیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا ایک غول ان کے جسم پر بھیج دیا جنہوں نے ان لوگوں کو قریب نہ آنے دیا۔ چنانچہ وہ ان کے جسم میں سے کچھ نہ لے جا سکے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor