Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔640)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 640)

حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ اُحد کے بعد قبیلہ عضل اور قبیلہ قارہ کی ایک جماعت حضورﷺ کی خدمت میں آئی اور انہوں نے کہا:یارسول اللہ ! ہم لوگوں میں اسلام آچکا ہے، آپﷺ ہمارے ساتھ اپنے کچھ صحابہ بھیج دیں جو ہمیں دین کی باتیں سمجھائیں اور ہمیں قرآن پڑھائیں اور اسلام کے احکام ہمیں سکھائیں۔ چنانچہ حضورﷺ نے ان کے ساتھ اپنے ساتھیوں میں سے چھ آدمی بھیج دئیے اور راوی نے ان چھ آدمیوں کا تذکرہ بھی کیا۔ چنانچہ یہ حضرات اس جماعت کے ساتھ چل پڑے۔ جب یہ مقام رجیع پر پہنچے، یہ قبیلہ ہذیل کا ایک چشمہ ہے جو حجاز کے ایک کنارے پر ہدأ مقام کے شروع میں ہے۔ تو اس جماعت نے ان صحابہ سے غداری کی اور انہوں نے قبیلہ ہذیل کو ان کے خلاف مدد کے لیے بلا لیا۔

 یہ حضرات صحابہ( اطمینان سے ) اپنی قیام گاہ میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ اچانک ان کو ہاتھوں میںتلواریں لیے ہوئے بہت سے آدمیوں نے گھیر لیا تو یہ حضرات گھبراگئے۔

 حضراتِ صحابہ نے ان سے لڑنے کے لیے اپنی تلواریں ہاتھوں میں پکڑ لیں تو کافروں نے ان سے کہا:اللہ کی قسم! ہم تمہیںقتل کرنا نہیں چاہتے ہیں، بلکہ ہم تو تمہارے بدلہ میں مکہ والوں سے کچھ مال لینا چاہتے ہیں۔ ہم تمہیں اللہ کا عہد و پیمان دیتے ہیں کہ ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ حضرت مرثد اور حضرت خالد بن بکیر اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہم نے فرمایا:ہم کسی مشرک کا عہد وپیمان کبھی قبول نہیں کریں گے اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مندرجہ ذیل اشعار پڑھے:

میں بیمار نہیں ہوں بلکہ میں تو طاقت ور تیرانداز ہوں، اور (میری) کمان میں مضبوط تانت لگا ہوا ہے۔

لمبے اور چوڑے پھل والے تیرکمان کے اوپر سے پھسل جاتے ہیں، موت حق ہے اور زندگی باطل یعنی فانی ہے۔

 جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مقد کررکھا ہے وہ آدمی کے ساتھ ہو کر رہے گا اور آدمی اسی کی طرف لوٹ کر جائے گا۔ اگر میں تم لوگوں سے جنگ نہ کروں تو میری ماں مجھے گم کردے( یعنی میں مر جائوں)

اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار بھی پڑھے:

میں ابو سلیمان ہوں اور میرے پاس تیرساز مقعد کے بنائے ہوئے تیر ہیں اورمیرے پاس دہکتی ہوئی آگ کی طرح کمان ہے۔

تیز رفتار اونٹوں پر سوار ہو کر جب بہادر آدمی آئیں تو میں کپکپی محسوس نہیں کرتا ہوں( کیونکہ بہادر ہوں بزدل نہیں ہوں) اور میرے پاس ایسی ڈھال ہے جو کم بال والے بیل کی کھال سے بنی ہوئی ہے اور حضرت محمدﷺ پر جو کچھ آسمان سے نازل ہوا ہے میں اس پر ایمان لانے والاہوں۔

 اور یہ شعر بھی پڑھا:

میں ابو سلیمان ہوں اور میرے جیسا بہادر ہی تیر چلاتا ہے اور میری قوم ایک معزز قوم ہے۔

 پھر حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے ان کافروں سے لڑائی شروع کردی یہاں تک کہ شہید ہوگئے اور ان کے دونوں ساتھی بھی شہید ہوگئے ۔جب حضرت عاصم رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو قبیلہ ہذہل نے ان کا سر کاٹنا چاہا تاکہ یہ سر سلافہ بنتِ سعد کے ہاتھ بیچ دیں، کیونکہ جب حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے سلافہ کے بیٹے کو جنگ احد کے دن قتل کیا تھا تو سلافہ نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اسے حضرت عاصم کا سرمل گیا تو وہ ان کی کھوپڑی میں شراب پئے گی۔(جب قبیلہ ہذیل کے لوگ ان کا سر کاٹنے کے لیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے شہید کی مکھیوں کا ایک غول بھیج دیا جس نے حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے جسم کو ہر طرف سے گھیر لیا) اور ان مکھیوں نے قبیلہ ہذیل کے لوگوں کو ان کے قریب نہ آنے دیا۔ جب یہ مکھیاں ان کے اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے درمیان حائل ہوگئیں تو ان لوگوں نے کہا:ان کوایسے ہی رہنے دو، جب شام کو یہ سب مکھیاں چلی جائیں گی تو پھر ہم آکر ان کا سرکاٹ لیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بارش کے پانی کی ایسی روبھیجی جو ان کی نعش کو بہاکر لے گئی۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ وہ کبھی کسی مشرک کو ناپاک ہونے کی وجہ سے ہاتھ نہیں لگائیں گے اور نہ کوئی مشرک ان کو ہاتھ لگا سکے۔

چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ شہد کی مکھیوں نے ان کافروں کو قریب نہ آنے دیا تو وہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مؤمن بندے کی ایسے ہی حفاظت فرمایا کرتے ہیں۔ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے تو اپنی زندگی کے لیے یہ نذر مانی تھی کہ انہیں کوئی مشرک ہاتھ نہ لگاسکے اور نہ ہی وہ کسی مشرک کو ہاتھ لگائیں گے، لیکن جیسے وہ زندگی میں مشرکوں سے بچے رہے ایسے ہی ان کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی مشرکوں سے حفاظت فرمائی اور حضرت خبیب، حضرت زید بن دثنہ اور حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہم نرم پڑگئے اور زندہ رہنے کو ترجیح دی اور خود کو ان کافروں کے ہاتھ میں دے دیا یعنی ان کے حوالے کردیا۔ ان لوگوں نے ان تینوں کو قیدی بنالیا پھر انہیں مکہ جا کر بیچنے کے لیے چلے گئے یہاں تک کہ جب یہ لوگ مقام ظہران پر پہنچے تو حضرت عبداللہ بن طارق نے اپنا ہاتھ کسی طرح رسی سے نکال لیا اور پھر انہوں نے اپنی تلوار پکڑلی اور وہ کافر ان سے پیچھے ہٹ گئے اور ان کو پتھر مارنے لگے یہاں تک کہ ان کو(پتھر مار مار) کرشہید کردیا۔ چنانچہ ان کی قبر ظہران میں ہے۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor