Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔641)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 641)

اور وہ کافر حضرت خبیب اور حضرت زید رضی اللہ عنہما کو لے کر مکہ آئے اور قبیلہ ہذیل کے دو آدمی مکہ میں قید تھے۔ان کافروں نے ان دونوں حضرات کو اپنے دوقیدیوں کے بدلے میں قریش کے ہاتھ بیچ دیا۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو حجیربن ابی اہاب تمیمی نے خریدا اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو صفوان بن امیہ نے اس لیے خریدا تاکہ انہیں اپنے باپ کے بدلے میں قتل کر سکے۔ چنانچہ صفوان نے نسطاس نامی اپنے غلام کے ساتھ ان ان کو تنعیم بھیجا اورقتل کرنے کے لیے حرم مکہ سے باہر نکالا۔ قریش کا ایک مجمع جمع ہوگیا جن میں ابو سفیان بن حرب بھی تھے۔ جب حضرت زید رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے آگے کیا گیا تو ان سے ابو سفیان نے کہا: اے زید! میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم کو یہ پسند ہے کہ محمد(ﷺ) اس وقت ہمارے پاس ہوں اور ہم تمہاری جگہ ان کی گردن ماردیں اور تم اپنے اہل وعیال میں رہو؟ تو حضرت زیدرضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا: اللہ کی قسم! مجھے تویہ بھی پسند نہیں ہے کہ محمدﷺ اس وقت جہاں ہیں وہاں ہی ان کو ایک کانٹا چبھے اور اس تکلیف کے بدے میں میں اپنے اہل وعیال میں بیٹھا ہوا ہوں۔ ابو سفیان نے کہا کہ میں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنی محبت محمدﷺ کے صحابہ کو محمدﷺ سے ہے۔ پھر حضرت زیدرضی اللہ عنہ کو نسطاس نے قتل کردیا۔

راوی کہتے ہیں:حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں مجھے حضرت عبداللہ بن ابی نجیح نے یہ بتایا کہ انہیں یہ بتایاگیا کہ حجیر بن ابی اہاب کی باندی ماریہ جو کہ بعد میں مسلمان ہوگئی تھیں، نے بیان کیا کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو میرے پاس میرے گھر میں قید کیا گیا تھا، ایک دن میں نے ان کو جھانک کریکھا تو ان کے ہاتھ میں سر کے برابر انگور کا ایک خوشہ تھا جس سے وہ کھا رہے تھے اور جہاں تک معلومات کا تعلق ہے اس وقت روئے زمین پرکھانے کے قابل انگور کہیں نہیں تھا۔

 ابنِ اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ اور حضرت عبداللہ بن ا بی نجیح نے کہا کہ حضرت ماریہ نے یہ بیان کیا کہ جب حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے قتل ہونے کا وقت قریب آیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے ایک استرا دے دو تاکہ میں صفائی کر کے قتل کے لیے تیار ہوجائوں۔

 میں نے قبیلہ کے ایک لڑکے کو استرادیا اور اس سے کہا کہ اس مکان میں جا کر یہ استرا اس آدمی کو دے آئو۔ حضرت ماریہ کہتی ہیں کہ جوں ہی وہ لڑکا استرا لے کر ان کی طرف چلا تو میں نے کہا:میں نے یہ کیا کیا؟اللہ کی قسم! اس آدمی نے تو اپنے خون کا بدلہ پالیا،یہ اس لڑکے کو قتل کردے گا اور اس طرح اپنے خون بدلہ لے لے گا اور یوں آدمی کے بدلے آدمی قتل ہوگا۔ جب لڑکے نے ان کو وہ استرا دیا تو انہوں نے اس کے ہاتھ سے استرالیا اور پھر اس لڑکے سے کہا کہ تیری عمر کی قسم! جب تیری ماں نے تجھے یہ استرادے کر میرے پاس بھیج دیا تو اسے یہ خطرہ نہ گزرا کہ میں تمہیں دھوکہ سے قتل کردوں گا۔ پھراس لڑکے کو جانے دیا۔ ابنِ ہشام کہتے ہیں کہ یہ لڑکا حضرت ماریہ کااپنا بیٹا تھا۔

 حضرت عاصمؒ فرماتے ہیں:پھر وہ کافر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو لے کر ( حرم سے) باہر آئے اور ان کو لے کر سولی دینے کے لیے مقام تنعیم پہنچے۔ تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے ان کافروں سے کہا:اگر تم مناسب سمجھو تو مجھے دورکعت نماز پڑھنے کی مہلت دے دو۔ انہوں نے کہا:لو نماز پڑھ لو۔ چنانچہ انہوں نے نہایت عمدہ طریقے سے دورکعت نماز مکمل طور سے ادا کی۔

 پھر ان کافروں کی طر ف متوجہ ہو کر فرمایا:غور سے سنو، اللہ کی قسم ! اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ سمجھو گے کہ میں موت کے ڈر کی وجہ سے نماز لمبی کر رہا ہوں تو میں اور نماز پڑھتا اور قتل کے وقت دورکعت نماز پڑھنے کی سنت کو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے لیے سب سے پہلے شروع کیا۔ پھر کافروں نے ان کو سولی کے تختہ پر لٹکادیا۔ جب انہوں نے ان کو اچھی طرح باندھ دیا تو انہوں نے فرمایا: اے اللہ! ہم نے تیرے رسول کا پیغام پہنچا دیا ہے اور ہمارے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے اس کی ساری خبر کل اپنے رسول اللہﷺ کو کردینا۔ پھر انہوں نے یہ بددعاء کی:

اے اللہ! ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑنا اور ان کو ایک ایک کر کے ماردینا اور ان میں سے ایک کوبھی باقی نہ چھوڑنا، پھر ان کافروں نے ان کو قتل کردیا۔

 حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں بھی اس دن اپنے والد ابو سفیان کے ساتھ دیگر کافروں کی ہمراہی میں وہاں موجود تھا۔ میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ وہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی بددعا کے ڈر سے مجھے زمین پر لٹا رہے تھے، کیونکہ اس زمانے میں لو گ کہا کرتے تھے کہ جس کے خلاف بددعاء ہو رہی ہو وہ اپنے پہلو پر لیٹ جائے تو وہ بددعاء اسے نہیں لگتی بلکہ اس سے پھسل جاتی ہے۔ مغازی موسیٰ بن عقبہ میں یہ مضمون ہے کہ حضرت خبیب اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہما دونوں ایک دن شہید کیے گئے اور جس دن یہ حضرات قتل کیے گئے اس دن سنا گیا کہ حضورﷺ فرمارہے تھے۔ وعلیکما السلام وعلیک السلام، خبیب کو قریش نے قتل کردیا۔ اور آپﷺ نے یہ بتایا کہ جب کافروں نے حضرت خبیب کو سولی پر چڑھا دیا تو ان کو ان کے دین سے ہٹانے کے لیے کافروں نے ان کو تیر مارے لیکن اس سے ان کا ایمان و تسلیم اور بڑھا۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor