Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔642)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 642)

حضرت عروہ اور حضرت موسیٰ بن عقبہ ؒ فرماتے ہیں کہ جب کافر حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی پر چڑھانے لگے تو انہوں نے بلند آواز سے ان کو قسم دے کر پوچھا: کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ ( حضرت ) محمدﷺ تمہاری جگہ ہوں( اور ان کو سولی دے دی جائے)؟حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:نہیں ۔عظیم اللہ کی قسم!مجھے تو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میرے بدلے میں ان کے پائوں میں ایک کانٹا بھی چبھے۔ اس پر وہ لوگ ہنسنے لگے۔ ابنِ اسحاق نے اس بات کو حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کے قصہ میں ذکر کیا ہے۔واللہ اعلم

طبرانی نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی لمبی حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ جو مشرکین جنگِ بدر کے دن قتل کیے گئے تھے ان کی اولاد نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کیا۔

جب مشرکوں نے ان کو سولی پر چڑھا کر( مارنے کے لیے) ان پر ہتھیار تان لیے تو بلند آواز سے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو قسم دے کر پوچھنے لگے:کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ( حضرت) محمد(ﷺ) تمہاری جگہ ہوں، انہوں نے فرمایا:نہیں۔ عظیم اللہ کی قسم ! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میرے بدلے میں ان کے پائوں میں ایک کانٹا چبھے۔ اس پر وہ کافر ہنس پڑے۔ جب مشرک حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی پر لٹکانے لگے تو انہوں نے یہ اشعار پڑھے:

لقد جمع الاحزاب حولی والبوا

قبائلھم واستجمعواکل مجمع

میرے اردگرد کافروں کے گروہ جمع ہیں اور انہوں نے اپنے قبیلوں کو بھی جمع کیا ہوا ہے اور ادھر ادھر کے سب لوگ پوری طرح جمع ہیں۔

 وقدجمعوا ابناء ھم ونساء ھم

وقربت من جذع طویل ممنع

اور انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو جمع کیا ہوا ہے اور مجھے( سولی پر لٹکانے کے لیے) ایک لمبے اور مضبوط کھجور کے تنے کے قریب کردیاگیا ہے۔

 الی اللّٰہ اشکو غربتی ثم کر بتی

وما ارصد الاحزاب لی عند مصرعی

میں وطن سے دوری کی اور اپنے رنج و غم کی اور ان چیزوں کی اللہ ہی سے شکایت کرتا ہوںجو ان گروہوں نے میرے قتل ہونے کی جگہ پر میرے لیے تیار کر رکھی ہیں۔

 اے عرش والے! یہ کافر مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں اس پر مجھے صبر عطاء فرما۔ ان لوگوں نے میرا گوشت کاٹ ڈالا ہے اور میری امید ختم ہوگئی ہے۔

 اور یہ سب کچھ اللہ کی ذات کی وجہ سے( میرے ساتھ) ہو رہا ہے اوراگر اللہ چاہے تو وہ میرے جسم کے کٹے ہوئے حصوں میں برکت ڈال سکتا ہے۔

 میری عمر کی قسم! جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں مررہا ہوں تو مجھے اس کی پروا ہ نہیں ہے کہ کس حالت میں اللہ کے لیے جان دے رہا ہوں۔

اور ابنِ اسحاق نے ان اشعار کو ذکر کیا ہے اور پہلے شعر کے بعد یہ شعر بھی ذکر کیا ہے:

اور یہ سب دشمنی ظاہر کررہے ہیں اور میرے خلاف پوری طرح کوشش کررہے ہیں، کیونکہ میں بیڑیوں میں ہلاکت کی جگہ میں ہوں۔

 اور پانچویں شعر کے بعد ابن ِ اسحاق نے یہ اشعار بھی ذکر کیے ہیں:

ان لوگوں نے مجھے موت اور کفر کے درمیان اختیار دیا حالانکہ موت اس سے بہتر ہے میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں لیکن یہ کسی گھبراہٹ کی وجہ سے نہیں بہہ رہے ہیں۔

 مجھے موت کا کوئی ڈر نہیں ہے،کیونکہ میں نے مرنا تو ضرور ہے۔ مجھے تو لپٹ مارنے والی آگ کی لپٹ کا ڈر ہے۔

 اللہ کی قسم! جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں مر رہا ہوں تو اس بات کا مجھے کوئی ڈر نہیں ہے کہ مجھے اللہ کے لیے کس پہلو پر لیٹنا ہوگا۔

 میں دشمن کے سامنے عاجزی اور گھبراہٹ ظاہر کرنے والا نہیں ہوں، کیونکہ مجھے تو اللہ کے ہاں لوٹ کر جانا ہے۔

بئر معونہ کا دن

حضرت مغیرہ بن عبدالرحمن اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم وغیرہ دیگر حضرات اہل علم فرماتے ہیں کہ نیزہ باری کا ماہر ابو براء عامر بن مالک بن جعفر مدینہ حضورﷺ کی خدمت میں آیا۔ حضورﷺ نے اس کے سامنے اسلام پیش فرمایا اور اسے اسلام کی دعوت دی تو نہ تو وہ اسلام لایا اور نہ اسلام سے دوری کو ظاہر کیا۔

اس نے کہا:اے محمد!اگر آپ اپنے چند صحابہ نجدوالوں کے پاس بھیج دیں اور وہ ان کو آپ کے دین کی دعوت دیں تو مجھے اُمید ہے کہ وہ آپ کی بات مان لیں گے۔ حضورﷺ نے فرمایا:مجھے اپنے صحابہ کے بارے میں نجد والوں کی طرف سے خطرہ ہے۔ ابو براء نے کہا: میں ان لوگوں کو پناہ دیتا ہوں آپ انہیں بھیج دیں تاکہ وہ لوگوں کو آپ کے دین کی دعوت دیں۔

چنانچہ حضورﷺ نے بنو ساعدہ کے منذربن عمرو کو جن کا لقب اَلْمُعْنِقُ لِیَمُوْتَ تھا( اس کا ترجمہ ہے:موت کی طرف جلدی سے لپکنے والا) اپنے صحابہ میں سے ستر بہترین مسلمانوں کے ساتھ بھیجا۔ جن میں حضرت حارث بن صمہ، بنو عدی بن نجار کے حضرت حرام بن ملحان ،حضرت عروہ بن اسماء بن صلت سلمی، حضرت نافع بن بدیل بن ورقاء خزاعی ،حضرت ابو بکر کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہم اور دیگر بہت سے بہترین مسلمان تھے۔ یہ حضرات مدینہ سے چل کر بئرمعونہ پہنچے۔ یہ کنواں بنو عامر کی زمین اور بنو سلیم کے پتھر یلے میدان کے درمیان ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor