Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا (تابندہ ستارے۔644)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی (شمارہ 644)

’’بخاری‘‘میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ان کے ماموں حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو بیرِ معونہ کے دن نیز مارا گیا تو وہ اپنا خون لے کر اپنے منہ اور سر پر ڈالنے لگے، پھر فرمایا:رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔ اور واقدی نے بیان کیا ہے کہ جس آدمی نے حضرت حرام رضی اللہ عنہ کو نیزہ مارا تھا وہ جبار بن سلمی کلابی ہیں۔ جب جبار نے پوچھا کہ ( حضرت حرام تو قتل ہو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ) میں کامیاب ہوگیا، اس جملہ کاکیا مطلب ہے؟لوگوں نے بتایا کہ یہ جنت ملنے کی کامیابی ہے، پھر جبار نے کہا: اللہ کی قسم! حضرت حرام نے سچ فرمایا اور یہ جبار اسی وجہ سے اس کے بعد مسلمان ہوگئے۔

 غزوہ موتہ کادن

 حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ہجرت کے آٹھویں سال جمادی الاولیٰ میں ایک لشکر موتہ بھیجا اور حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا اور فرمایا:اگر حضرت زید شہید ہوجائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالب امیر ہوں گے اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو پھر لوگوں کے امیر حضرت عبداللہ بن رواحہ ہوں گے۔ لوگ سامانِ سفر لے کر نکلنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس لشکر کی تعداد تین ہزار تھی۔ جب یہ لوگ( مدینہ سے) روانہ ہونے لگے تو( مدینہ کے) لوگوں نے حضورﷺ کے مقرر کردہ امیروں کو رخصت کیا اور انہیں الوداعی سلام کیا۔ اس الوداعی ملاقات پر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ رو پڑے تو لوگوں نے کہا: آپ کیوں رو رہے ہیں اے ابنِ رواحہ؟ انہوں نے کہا:غور سے سنو،اللہ کی قسم! نہ تو میرے دل میں دنیاکی محبت ہے اور نہ تم لوگوں سے تعلق اور لگائو، بلکہ میں نے حضورﷺ کو قرآن کی اس آیت کو پڑھتے ہوئے سنا جس میں دوزخ کی آگ کا تذکرہ ہے:

’’وان منکم الاواردھا کان علی ربک حتما مقضیا‘‘

اور کوئی نہیں تم میں جو نہ پہنچے گا اس پر، ہوچکا یہ وعدہ تیرے رب پر لازم مقرر۔

 اب مجھے معلوم نہیں کہ اس آگ پر پہنچنے کے بعد واپسی کس طرح ہوگی، اس پرمسلمانوں نے کہا: اللہ تمہارے ساتھ رہے اور تم سے تکلیفوں اور پریشانیوں کو دور رکھے اور تمہیں صحیح سالم ہمارے پاس واپس لائے۔ تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے:

لیکن میں تو رحمن( یعنی اللہ) سے گناہوں کی مغفرت چاہتاہوں اور تلوار کاایساچوڑا وار چاہتا ہوں جس سے خوب جھاگ دار خون نکلے۔

 یا کسی پیاسے دشمن کے ہاتھوں برچھے کاایسا وار ہو جو میرا کام تمام کردے اور جو آنتوں اور جگر میں پار ہو جائے۔

 تاکہ جب لوگ میری قبر پر گزریں تو یہ کہیں کہ اللہ اس غازی کو ہدایت دے اور یہ تو ہدایت والا تھا

پھر جب لوگ نکلنے کے لیے تیار ہوگئے تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضورﷺ کو الوداع کہا: پھریہ اشعار پڑھے:

اللہ تعالیٰ نے جتنی بھلائیاں آپ کو دے رکھی ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ ایسے باقی رکھے جیسے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ثابت قدم رکھا تھا اور آپ کی ایسی مدد کرے جیسی اللہ نے ان کی کی تھی۔

 مجھے آپ میں خیر بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے اور اللہ جانتاہے کہ میری نظر بالکل ٹھیک ہے۔

 آپ رسول اللہﷺ ہیں، جو آپ کے عطایا اور توجہ خاص سے محروم رہ گیا تو واقعی اس کی تقدیر کھوٹی ہے۔

 پھر سارالشکر روانہ ہوگیا اور حضورﷺ بھی ان کو رخصت فرمانے کے لیے( مدینہ سے) باہر تشریف لائے ۔ چنانچہ آپ ﷺ جب لشکر کو رخصت فرما کر واپس لوٹے تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے یہ شعر پڑھا:

سلام رہے اس ذاتِ اقدس پر جن کومیں نے کھجوروں کے باغ میں رخصت کیا ہے وہ بہترین رخصت کرنے والے اور بہترین دوست ہیں۔

پھر یہ لشکر روانہ ہوگیا اور ملک ِ شام کے شہرمعان پہنچ کر پڑائو ڈالا اور مسلمانوں کویہ خبرملی کہ ہرقل ایک لاکھ رومی فوج لے کر ملکِ شام کے علاقہ بلقا کے شہر مآب میں ٹھہرا ہواہے اور لخم اور جذام اور قین اور بہراء اور بکی قبیلوں کے ایک لاکھ آدمی جمع ہو کر ہر قل کے پاس پہنچ چکے ہیں اور ان کاسردار قبیلہ بکی کا ایک آدمی ہے جو اس کے قبیلہ اراشہ سے تعلق رکھتا ہے اور اسے مالک بن زافلہ کہا جاتا ہے جب مسلمانوں کو یہ خبر ملی تو وہ معان میں دوراتیں ٹھہر کراپنے اس معاملہ میں غور کرتے رہے اور پھر یہ کہا کہ ہم اللہ کے رسول ﷺ کو خط لکھ کر اپنے دشمن کی تعداد بتاتے ہیں پھر یا تو آپﷺ ہماری مدد کے لیے اور آدمی بھیج دیں گے یا کسی اور مناسب بات کا ہمیں حکم فرمائیں گے جسے ہم پورا کریں گے۔ اس پر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی ہمت بڑھائی اور انہیں حوصلہ دلایا اور کہا: اے میری قوم! اللہ کی قسم ! جس شہادت کو تم ناپسند سمجھ رہے ہو( حقیقت میں) تم اسی کی تلاش میں نکلے ہو۔ ہم لوگوں سے جنگ تعداد اور طاقت اور کثرت کی بنیاد پر نہیں کرتے ہیں بلکہ ہم تو لوگوں سے جنگ اس دین کی بنیاد پر کرتے ہیں جس کے ذریعہ اللہ نے ہمیں عزت عطاء فرمائی ۔ لہٰذا چلو، دو کامیابیوں میں سے ایک کامیابی تو ضرور ملے گی یا تو دشمن پر غلبہ یا اللہ کے راستہ کی شہادت۔ اس پر لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ابنِ رواجہ نے بالکل ٹھیک کہاہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor