Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امام اوزاعیؒ اور اُن کی حق گوئی (۷) (روشن ماضی 524)

امام اوزاعیؒ اور اُن کی حق گوئی (۷)

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 524)

امیر المومنین!رسول اللہﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی رہا کرتی تھی، جس پر آپﷺ ٹیک لگاکر چلا کرتے تھے اور ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے منافقین پر ایک رعب بھی رہتا تھا چنانچہ ایک دن حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! کیایہی چھڑی ہے جس سے آپﷺ اپنی امت کے لوگوں کا سرکچلتے ہیں اور ان کو خوف زدہ کرتے ہو؟ … حالانکہ آپﷺ نے اس چھڑی سے کبھی کسی کو چھوا بھی نہیں تھا… امیر المومنین! آپ سوچئے کہ اس شخص کا اللہ تعالیٰ کے یہاں کیا حال ہوگا، جس نے لوگوں کے چہرے خون آلود کئے، ان کا خون بہایا، ان کی بستیاں اُجاڑدیں، ان کو جلاوطن کیا اور ان پر ظلم سے رعب جمایا۔

امیر المومنین! خیر اسی میں ہے کہ اپنے نفس کو اپنے فائدہ کے لئے راضی کرلیں، اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ اگر حکومت و سلطنت آپ سے پہلے گزرنے والوں کے ساتھ رہنے والی ہوتی، تو وہ آپ تک ہرگز نہ پہنچتی۔یادرہے کہ یہ آپ کے پاس بھی اس طرح باقی نہیں رہے گی جس طرح دوسروں کے پاس باقی نہیںرہی، آپ نے اس آیت لایغادرصغیرۃ و لاکبیرۃ کی تفسیر جو آپ کے داد محمدﷺ نے فرمائی، سنی ہے؟ آپﷺنے فرمایاکہ صغیرۃ سے مراد تبسم اور کبیرۃ سے مراد کھکھلا کر ہنسنا ہے … جب یہ معمولی چیزیں اللہ کے یہاں لکھی جاتی ہیں تو… کیا وہ مظالم اس کے یہاں لکھے ہوئے نہ ہوں گے اور ان کی سزا نہ ملے گی جو آپ کے ہاتھوں اور آپ کی زبان کے ذریعہ ہوئے ہیں۔

 امیر المومنین! حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کو ذمہ داری کا کتنا احساس تھا انہوں نے فرمایا… اگر بکری کا ایک بچہ دیکھ بھال میں میری کوتاہی سے فرات کے کنارے مرجائے ، تومجھے ڈر ہے کہ مجھ سے اس کی باز پرس ہوگی…توپھر اس شخص کے بارے میں آپ سے کتنی زبردست باز پرس ہوگی جو آپ کے انصاف سے محروم رہا۔

 امیر المومنین!اس آیت یاداؤدانا جعلناک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ولاتتبع الھویٰ کی تفسیر آپ کے دادا محمدﷺ نے کیا فرمائی؟ آپﷺ نے فرمایا کہ… اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اے دائود! اگر تمہارے سامنے دو آدمی فیصلہ کرانے کے لئے آئیں اور ایک کی طرف تمہارا میلان ہو اور اس سے تمہیں محبت ہو تو تمہارے دل میں یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ کاش اسی کے موافق فیصلہ ہو اور اپنے فریق کے مقابلہ میں کامیاب ہو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو نبوت کی ذمہ داری تم سے واپس لے لی جائے گی، ظاہر ہے کہ اس کے بعد نہ تمہاری خلیفۃ الارض کی حیثیت باقی رہے گی اور نہ کوئی دوسرا شرف( کیونکہ یہ سب نبوت کے طفیل میں ہے) اے دائود! میں نے جن لوگوں کو بندوں کے پاس رسول بنا کر بھیجا، اس کو بندوں کا اسی طرح گلہ بان ہونا چاہئے جس طرح اونٹ کے گلہ بان ان کی گلہ بانی کرتے ہیں، ان کے علم کا تعلق دیکھ بھال اور نگرانی سے ہے اور ان کی نرمی کا تعلق حکمرانی سے ہے، تاکہ شکستہ دلوں کے زخم پر پھایا رکھیں اور مجبوردل کی ضرورت پوری کریں، اپنی رعایاکو مثل اپنی اولاد کے سمجھیں۔

امیر المومنین! آپ پر ایک ایسی ذمہ داری ڈالی گئی ہے کہ اگر وہ آسمانوں اور زمین پر یا پہاڑوں پر ڈالی جاتی تو وہ اس کے اُٹھانے سے انکار کردیتے ۔شام کے فقیہ یزیدبن یزید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر کیا، کچھ دنوں بعد انہوں نے دیکھا کہ وہ گھر پر موجود ہے حکم کے مطابق گیا نہیں ہے، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ زکوٰہ وصول کرنے کیوں نہیں گئے ؟ تم کو معلوم نہیں کہ اس کام کا اجر جہاد کے برابر ہے۔ اس نے کہا: ایسا نہیں ہے ، آپ نے فرمایا : کیوں؟

اس نے جواب دیا کہ مجھے رسول اللہﷺ کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ قیامت کے دن ہر والی اور حاکم بلایا جائے گا اور اس کو آگ کے پل پر کھڑا کیا جائے گا، جس کی وجہ سے اس کے جسم کے اعضاء ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے، اس کے بعد پھر وہ واپس لایا جائے گا اور اس سے حساب ہوگا، اگر اس نے اپنی ذمہ داری بخوبی انجام دی ہے تو وہ بچ جائے گا ورنہ پھر وہ پل اس کو جہنم میں پہنچا دے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor