Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امام اوزاعیؒ اور اُن کی حق گوئی (۶) (روشن ماضی 525)

امام اوزاعیؒ اور اُن کی حق گوئی (۶)

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 525)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ روایت کس نے بیان کی ہے۔اس نے کہا: ابو ذر اور سلمان رضی اللہ عنہما نے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ان دونوں لوگوں سے اس روایت کے بارے میں دریافت کرایا۔ انہوں نے اس روایت کی تصدیق کی ۔ یہ سن کر حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور فرمایا: افسوس عمر کو بھی اس سے گزرنا ہوگا۔

 امیر المومنین کے دادا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺسے مکہ اور طائف کی امارت کی خواہش کی تو آپﷺنے فرمایا: اے میرے چچا! ایسی امارت جس کا حق ادا نہ کیا جائے اس سے الگ تھلک رہنا زیادہ بہتر ہے۔

رسول اللہﷺ کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے جو محبت اور تعلق خاطر تھا، اسی بنا پر انہوں نے ان کو امارت سے دور رہنے کا مشورہ دیا، اس لئے کہ آپﷺ ان کو اللہ کے یہاں اس کے وبال سے نہیں بچاسکتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی وانذر عشیرتک الاقربین تو آپﷺ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ، اپنی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہااور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکو مخاطب کر کے فرمایا: میں اللہ کے یہاں تم کو بچا نہ سکوں گا، ہوشیار کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ لوگوں کے معاملات کی ذمہ داری وہی شخص اٹھا سکتا ہے جو اچھی رائے اور پختہ عقل رکھتا ہو، لوگوں کی دیکھ بھال کرتا ہو، اس سے برائی سرزد نہ ہوتی ہو اور وہ بے دینی کی طرف نہ لپکتا ہو، اور اللہ کے معاملہ میں لومۃ لائم سے نہ ڈرتا ہو، پھر انہوں نے فرمایا: ایک تو وہ قوی مضبوط حاکم جو اپنے کو قابو میں رکھے، اور اپنے کارندوں کو بھی، تویہ اللہ کے راستے میں جہاد ہے، جس پر اللہ کی رحمت سایہ فگن رہتی ہے، دوسرا وہ کمزور حاکم جو اپنے اوپر تو قابو رکھتا ہو مگر اس کے عمال اور کارندے اس کی کمزوری کی وجہ سے نفس پر وری میں منہمک ہوجائیں، تویہ ہلاکت اورتباہی کے کنارے کھڑا ہوا ہے، بس اللہ ہی اس کو بچا سکتا ہے، تیسرا وہ حاکم جو عما ل پر توکڑی نگاہ رکھتا ہے، مگر خود نفس کابندہ ہے، تو یہ اس ظالم چروا ہے کی طرح ہے جس کے بارے میں رسو ل اللہﷺ نے فرمایا ہے: شرالبرعاء الحطمہ یعنی بدترین چرواہاوہ ہے جو جانوروں پر ظلم کرتا ہو۔مجھے حضرت عمررضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی معلوم ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اگر میرے پاس دوفریق آئیں، اور میں ان میں سے اس شخص کی طرف مائل ہوجائوں جو حق سے دور ہو، خواہ وہ میرا رشتہ دار ہو یا اجنبی ، اگر میں ایسا کروں تو اللہ مجھے ایک لمحہ کی بھی مہلت نہ دے۔

 امیر المومنین! سب سے سخت چیز قیام حق اور اللہ کے یہاں سب سے معزز چیز تقویٰ ہے جو شخص اللہ کی اطاعت کے ذریعہ عزت چاہتا ہے، اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور عزت کا خواہاں ہوتا ہے، اللہ اس کو پست اور ذلیل کردیتا ہے۔

حضرت امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ کی اس تقریر کا منصور پر اس قدر اثر ہوا کہ وہ منہ پر رومال ڈال کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔ اس کے بے اختیار رونے سے امام اوزاعیؒ بھی رونے لگے۔ آنسو تھمے تو یہ سلام کر کے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ منصور نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟فرمایا: اگر آپ کی اجازت ہو تو میں وطن جانا چاہتا ہوں ۔ منصور نے کہا: آپ کو اجازت ہے۔ میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے نصیحتیں کیں، میں ان کو خوشی سے قبول کرتا ہوں۔ منصور کے حکم سے ان کے سامنے کچھ رقم پیش کی گئی تو انہوں نے فرمایا:ماکنت لابیع نصیحتی بعرض عن الدنیا ولابکلھا(میں اپنی نصیحت کو دنیا کی اس حقیر متاع کیا،پوری دنیا کے بدے بھی نہیں بیچ سکتا)( تبع تابعین جلد اول)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor