Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ (۱) (روشن ماضی 526)

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ (۱)

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 526)

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ بڑے حاضر جواب تھے، وہ بڑے سے بڑے آدمی کے سامنے بھی حق بات کہنے سے نہیں کتراتے تھے، ہر سوال کا صحیح اور بے تکلف جواب دیتے تھے، کسی بھی مناظرہ میں انہوں نے شکست نہیں کھائی، کئی مرتبہ ان کے سامنے ایسے حالات آئے کہ اگر جواب دینے میں ذرا بھی لغزش ہوتی تو ان کا سرقلم کردیا جاتا، ان کے مخالف ان کو اکثر خلیفہ کے دربار میں طلب کرالیتے تھے اور بڑے پیچیدہ سوال کر کے انہیں غلط راستے پر ثابت کر نے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن وہ اپنی ذہانت سے الٹا انہیں لوگوں کو ان کے جال میں پھنسا کر خود صاف نکل جاتے تھے۔

 ایک مرتبہ بنو امیہ کے زمانے میں خارجیوں کے مشہور سردار ضحاک خارجی نے کوفے پر قبضہ کرلیا۔ وہ بڑاظالم اور سفاک تھا، خارجیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما میں کوئی بھی حق پر نہیں تھا، جنگ صفین کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ چونکہ ثالث کے فیصلے کو ماننے کے لئے تیار ہوگئے تھے اس لئے ان کے لشکر کے جو لوگ تلوار سے جنگ کا فیصلہ کرنا چاہتے تھے اور مفاہمت کے خلاف تھے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر سے کٹ کر الگ ہوگئے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حق سے ہٹا ہوا ماننا شروع کردیا، یہی لوگ خارجی کہلائے۔ خارجیوں نے ایک منصوبہ تیار کیا جس میں حضرت علی، حضرت معاویہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کے بیک وقت قتل کا پروگرام بنایا، جس کے تحت وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

 خارجی ہونے کی وجہ سے ضحاک حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہمادونوں کے حمایتیوں کا بڑا دشمن تھا ۔جو بھی ان دونوں میں سے کسی کو راہ حق پر بتاتااس کو سخت سزائیں دیتا تھا۔ اس نے سن رکھا تھا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بڑے معتقد ہیں، اس لئے ان کو سزادینا چاہتا تھا۔

ایک دن ضحاک خارجی حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پاس پہنچا اور ان سے بولا:ابو حنیفہ! توبہ کرو۔

کس بات سے توبہ کروں؟ امام صاحب نے پوچھا

تمہارا عقید ہ ہے کہ علی بن ابی طالب حق پر تھے اور ان کی خلافت جائز تھی جبکہ یہ غلط ہے، اگر ایسا ہوتا تو وہ ثالث کے سپرد اپنی خلافت کا معاملہ کیوں کرتے، لہٰذا تم اپنے عقیدے سے توبہ کرو۔

حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا:ضحاک! اگر تم نے مجھے قتل کرنے کا فیصلہ ہی کرلیا ہے تو اور بات ہے ورنہ میں یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ثالثی صحیح قبول کی تھی۔

ضحاک نے خوشی سے یہ بات تسلیم کرتے ہوئے کہا: بیشک میں خود اس معاملے میں تم سے مناظرہ کرنے کو تیار ہوں۔

لیکن ہمارے مناظرے کا فیصلہ کس کے سپرد ہوگا؟ امام صاحب نے سوا ل کیا

اس کے لئے ہم لوگ متفقہ طور پر ایک حکم مقرر کردیتے ہیں، وہ جسے سمجھے گا حق پرمانے گا۔ ضحاک نے مشورہ دیا

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کو تم چاہو فیصلہ کرنے کے لئے ثالث مقرر کرلو!مجھے وہ ہی قبول ہے۔

 چنانچہ ضحاک کے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو ثالث مقرر کیا گیا۔

امام صاحب نے ہنس کر فرمایا: اب مجھے کسی مناظرہ کی ضرورت نہیں تم نے خود تسلیم کرلیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے۔

وہ کس طرح؟ضحاک نے حیرت سے پوچھا

جس طرح تم نے خود کو حق پر سمجھتے ہوئے بھی فیصلہ ثالث کے ہاتھ میں چھوڑدیا۔ ٹھیک اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی کیا تھا۔

ضحاک امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی یہ بات سن کردم بخود رہ گیا، اس کے پاس ان کی بات کا کوئی جواب نہیں تھا، آخر پشیمان ہو کر واپس چلا گیا۔

امیری میں، فقیری میں، شاہی میں، غلامی میں

کچھ کام نہیں بنتا بے جرأت رندا نہ!

( اقبالؒ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor