Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ (۳) (روشن ماضی 528)

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ (۳)

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 528)

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ

خلیفہ نے کہا: مجھے ابو حنیفہؒ کا ثالث ہونا بخوشی منظور ہے۔ چنانچہ خلیفہ منصور نے حضرت امام ابو حنیفہؒ کو بلا کر کہا: امام صاحب ! میری بیوی حرہ مجھ سے جھگڑتی رہتی ہے، آپ ہم دونوں میں فیصلہ فرمادیں، آپ ہی بتائیں کہ ایک شخص ایک وقت میں کتنی عورتیں اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے؟

حضرت امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا:

فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی وثلث ورباع(پس نکاح کر سکتے ہو ایک وقت میں دو دو سے اور تین تین سے اور چار چار سے)

منصور نے پھر پوچھا: اورکنیزیں کتنی رکھ سکتا ہے؟

فرمایا:جس قدر چاہے رکھ سکتا ہے اس کی کوئی گنتی متعین نہیں۔

منصور نے کہا : کیا اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے؟

 فرمایا:’’ ہرگز نہیں‘‘

منصور نے کہا: آپ کا فیصلہ بالکل درست ہے۔

حضرت امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا:مگر یہ اجازت شرط کے ساتھ ہے یعنی صرف اہل انصاف ہی اتنی عورتوں سے تمتع کر سکتا ہے، جو عدل نہ کر سکے یا کسی بیوی  کے ساتھ بے انصافی کا خطرہ لاحق ہو تو اسے ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنا چاہیے۔

اس لئے کہ ارشادِ ربانی یہ ہے:فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃ(النسائ)

بس ہمیں اللہ کے تلقین کردہ آداب کو اپنا نا اور اس کے بیان کردہ مواعظ سے مستفید ہونا چاہئے۔

امام صاحبؒ کے اس بیباکانہ فیصلہ کو سن کر منصور خاموش رہ گیا اور امام صاحب تشریف لے گئے۔

امام صاحبؒ گھر پہنچے تو پیچھے پیچھے حرہ نے ان کو بہت سارا انعام و اکرام بھیجا جس میں ایک عمدہ لونڈی، بہت سے بیش قیمت کپڑے اور ایک سواری بھیجی، آپ نے یہ تحائف واپس کرتے ہوئے کہا:میں نے دین کی مدافعت اور رضائے الہٰی کے پیش نظر حق بات کہی ہے، کسی کاتقرب یا دنیا کا لالچ میر ا مقصود ہرگز نہیں تھا۔

جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے

حوروخیام سے گذر، بادہ وجام سے گذر!

(اقبالؒ)

خلیفہ منصور کا حاجب ربیع حضرت امام ابوحنیفہؒ کا سخت دشمن تھا، خلیفہ کے سامنے ہمیشہ ان کی مخالفت کرتا تھا۔ ایک دن جب حضرت امام ابو حنیفہؒ خلیفہ کے پاس موجود تھے تو ربیع نے اس کو چڑانے کے لئے کہا:امیر المومنین! ابو حنیفہؒ آپ کے جدِ اعلیٰ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

خلیفہ نے پوچھا: وہ کیسے؟

ربیع نے کہا: جو روایت انہوں نے بیان کی ہے یہ اس کو رد کرتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرمایا کرتے تھے کہ اگر حلف اُٹھانے کے ایک دودن بعد تک انشاء اللہ کہہ لیا تو جائز ہے پھر یہ قسم نہیں ہوگی، اس لئے کہ انشاء اللہ میں کسی کام کا دعویٰ نہیں بلکہ اللہ کی مرضی پرانحصارہے ۔امام ابو حنیفہؒ یہ کہتے ہیں کہ اگر حلف اُٹھاتے وقت ہی انشاء اللہ کہا ہے تب یہ قسم نہیں ہوگی ورنہ ہوگی۔

امام ابو حنیفہؒ نے کہا: امیر المومنین! اگر ہم ایسا مان لیں تو آپ کی فوج کے تمام لوگ آپ کی بیعت سے باہر ہو سکتے ہیں۔

خلیفہ نے کہا:یہ کیسے ممکن  ہے؟

حضرت امام ابو حنیفہؒ نے کہا:لوگ آپ کے سامنے تو حلف اُٹھا کر عقیدت سے بیعت کر لیا کریں گے اور گھر جا کر انشاء اللہ کہہ دیا کریں گے۔ اس طرح وہ اپنی قسم کے پابند نہیں رہیں گے۔

خلیفہ نے ہنس کرربیع سے کہا: تم ابو حنیفہؒ سے تعرض نہ کرو ورنہ اُلٹے پھنسو گے۔( تاریخِ بغدادی۔خطیب بغدادی)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor