Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ (۴) (روشن ماضی 529)

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ (۴)

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 529)

امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ

کوفہ کا ایک با اثر شیعہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو(معاذ اللہ) یہودی کہا کرتا تھا، لیکن اس کے اثرو اقتدار کی وجہ سے کسی کی ہمت نہ ہوتی تھی کہ اس کو ایسے کہنے سے روکے یا اس کی اصلاح کرے۔ لوگوں نے حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو یہ بات بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ضرور اس شخص سے بات کریں گے۔

 ایک دن حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس کے گھر تشریف لے گئے اور اس سے کہا: میں آپ کی لڑکی کا پیام لایا ہوں۔

وہ شخص یہ بات سن کر بہت خوش ہوا، عزت و احترام سے حضرت امام صاحب رحمہ اللہ کو بٹھایا اور پوچھا: آپ میری بیٹی کے لئے جس لڑکے کا پیام لائے ہیں اس کی کچھ تفصیل بتائیں۔

فرمایا:لڑکا بہت شریف، دولتمند، حافظ قرآن، سخی و فیاض، راتوں کو جاگ کر اللہ کے سامنے رونے اور گڑگڑانے والا ہے۔

اس شخص نے خوشی سے کہا: یہ تو بڑی مسرت کی بات ہے۔

فرمایا: ہاں یہ تو ہے مگر اس میں ایک بات ہے۔

 پوچھا: وہ کیا؟

فرمایا:وہ یہودی ہے۔

یہ سن کر وہ اچھل پڑا اور بولا :لاحول ولاقوۃ الا باللہ… کیا آپ مجھے یہودی سمجھتے ہیں جو یہودی کا پیام میری بیٹی کے لئے لائے ہیں۔

حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:لیکن اس میں کیا برائی ہے؟

 آپ کو اس میں برائی نظر نہیں آتی کہ کوئی مسلمان اپنی بیٹی کسی یہودی سے بیاہ دے۔

فرمایا:لیکن رسول اللہﷺ نے تو اپنی بیٹی یہودی سے بیاہ دی تھی۔کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے آپ (ﷺ) نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی نہیں کردی تھی۔

اتنا سننا تھا کہ کچھ دیر کے لئے وہ سکتہ میں آگیا پھر بولا: شیخ آپ درست فرماتے ہیں میں غلطی پر تھا۔ میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں اور اپنے خیالات سے توبہ کرتا ہوں۔

 فقرجنگاہ میں بے سازو براق آتا ہے

 ضرب کاری ہے اگر سینے میں ہے قلب سلیم!

( اقبالؒ)

حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اپنے زمانے کے قاضیوں پر بڑے بیباکانہ انداز سے تنقید کرتے تھے وہ بغیر رورعایت ان کے فیصلوں کو پرکھتے تھے۔ اگر کوئی فیصلہ شرعی اصولوں کے خلاف ہوتا تھا تو اس پر کھلم کھلا اعتراض کرتے تھے اور فیصلوں کی غلطی سے قاضیوں کو آگاہ کرتے تھے۔

 ایک مرتبہ قاضی ابن ابی لیلیٰ نے ایک پاگل عورت پر حد لگائی، اس عورت کا قصوریہ تھا کہ اس نے ایک شخص کو زانی ماں باپ کی اولاد کہا تھا، چونکہ اس بات سے ماں اور باپ دونوں پر زنا کی تہمت لگتی تھی اس لئے قاضی نے اس پاگل عورت پر دوبار حد لگوائی، یہ حداس کو مسجد میں لگائی گئی۔

امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو پتہ چلا تو فوراً اس فیصلے کی خامیوں پر اعتراض کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ قاضی ابن لیلیٰ نے اس مقدمہ میں چھ بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں۔ اول یہ کہ قاضی نے مسجد میں حد لگائی حالانکہ مسجد میں لگانا منع ہے۔

 دوم یہ کہ اس عورت کو کھڑا کرکے حدلگائی حالانکہ عورت کو بٹھا کر حد لگائی جانی چاہئے تھی۔

تیسرے یہ کہ ماں اور باپ دونوں پر تہمت لگانے پر علیحدہ علیحدہ حد لگائی، حالانکہ اگرکوئی شخص ایک جماعت پر بہتان لگائے توصرف ایک حد کامستوجب ہوگا۔

چوتھے یہ کہ ایک ہی وقت میں دوحدیں لگائی گئیں حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔

پانچویں یہ کہ پاگل عورت پر حدلگائی گئی جبکہ اس پر شرعاً حد نہیں لگائی جانی چاہئے ۔

اور چھٹے یہ کہ تہمت ماں باپ پر لگائی گئی تھی ان کی غیر موجودگی میں حد نہیں لگائی جانی چاہئے تھی۔( المناقب ابن البرازی)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor