Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ (روشن ماضی 548)

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 548)

خادم نے جواب دیا:یہ میں اپنے آقا کے حکم سے لایا ہوں۔

اسدبن فرات رحمہ اللہ نے کہا :تمہارے آقا کو یہ بات ہرگز پسند نہ ہوگی کہ ان کا مہمان میزبان کے بغیر کھانا کھائے، یہ خوان اُٹھالو اور میری طرف سے یہ حقیر انعام قبول کرو۔یہ کہہ کر انہوں نے اپنی جیب سے وہ چالیس درہم نکال کر اس خادم کے ہاتھ پر رکھ دئیے جو ان کا کل سرمایہ تھے۔

 خادم ایسے پردیسی طالب علم کی خودداری ،حق گوئی اور سخاوت سے بہت متأثر ہوا۔ اس نے اندر جا کر تمام واقعہ شہزادہ امین کو بتایا یہ سن کر امین بھی بہت متاثر ہوا۔ اسدبن فرات رحمہ اللہ کو اندر بلالیا اور باعزت طریقہ سے اپنے سامنے بٹھایا اور اپنے ساتھ کھانا کھلایا۔

شہزادہ امین نے اسدبن فرات رحمہ اللہ سے علمی بات چیت کی تو ان کے علم کو دیکھ کر حیرت میں رہ گیا، دیر تک بات چیت کرنے کے بعد اس نے ایک حکم نامہ دس ہزار درہم عنایت کرنے کے لئے صاحبِ دیوان کو لکھا اور اسدبن فرات رحمہ اللہ سے کہا کہ مزید جو ضرورت ہو وہ مجھے بتاتے رہنا لیکن انہوں نے اس دس ہزار درہم کے علاوہ کچھ اور لینا گوارہ نہیں کیا۔

 اپنی تعلیم مکمل کرکے یہ افریقہ کے قاضی ہوگئے۔ ۲۱۲ھ/۸۲۷ء میں ان کو اللہ نے فوج کی امارت کا منصب عطا کردیا، افریقہ میں یہ پہلے شخص ہیں جنہیں بیک وقت ان دونوں جلیل القدر عہدوں پر فائز کیا گیا۔ صقلیہ کو دارالسلام قرار دینے کا شرف اسی غریب الدیار نوجوان کو حاصل ہوا جو مجاہدین کی ایک ایسی فوج لے کر صقلیہ کی طرف بڑھے

 ایک جہان تازہ کا پیغام تھا جن کا ظہور

 کھاگئی عصرِ کہن کو جن کی تیغ ناصبور

( اقبالؒ)

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے آخری زمانے میں یہودیوں نے اسلام کی شاندار کامیابی اور اپنی نامرادی سے عاجز آکر ایک نیا طریقہ اسلام کونقصان پہنچانے کا اختیار کیا۔ ایک یمنی یہودی عبداللہ بن سبا(ابن السوداء)نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کردیا، اس نے اپنی ایک جماعت تیار کرلی، ان لوگوں نے خود کو شیعانِ علی بتانا شروع کردیا۔ ان کی فتنہ انگیزیوں کے نتیجہ میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کردئیے گئے۔ پھر اسلام میں ایسی تلوار کھنچی کہ آج تک میان میں نہ جا سکی اور لاکھوں مسلمانوں کے خون سے زمین سرخ ہوگئی۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک کام ان مسلم نمایہودیوں نے یہ کیا کہ سیدھے سادھے مزاج والے عربوں کو اور ہدایت کا سیدھا سیدھا راستہ بتانے والے اسلام کو منطقیانہ اور فلسفیانہ پیچیدگیوں میں اُلجھا دیا، امنوا وعملوا الصالحات کی مختصر سی بات کوتا ویلات اور منطقیانہ باتوں سے جنجال میں پھنسادیا اور جس طرح بھی ممکن ہوا اسلامی روح کو مسلمانوں کے اندر سے ختم کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے لئے انہوں نے قرآن کی حیثیت کو بدلنے اور اس پر سے مسلمانوں کا اعتقاد اُٹھانے کی کوشش کی۔

خود بدلتے نہیں، قرآن کو بدل دیتے ہیں

 ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!

(اقبالؒ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor