Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ (روشن ماضی 549)

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 549)

اس تحریک کا اصل مرکز ایران رہا، بنی امیہ کی خلافت کو مٹانے اور عباسی تحریک کو کامیاب بنانے میں ایرانیوں نے بڑی جان توڑ کوشش کی تھی چنانچہ جب عباسی دورِ خلافت شروع ہوا تو شیعیت کی بہت سی تحریکیں اُٹھ کھڑی ہوئیں، اللہ پر ایمان لائو اور عمل صالح کرو۔

ایرانیوں کو حضرت عمرفاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہما کی تلواروں نے خاک میں ملادیا تھا انہوں نے مجبوراً اسلام قبول کرلیا تھا مگر ان کے دل سے ابھی اپنی شاندار حکومت کے مٹنے کا درد نہیں مٹا تھا، اب ان کو موقع ملا تو انہوں نے اپنے عقائد کی ترویج اسلام کی صورت میں کرنی شروع کردی اپنے مسلمان ہونے کا فریب دے کر انہوں نے اسلام کے سیدھے سادھے اصولوں میں یقین رکھنے والے اور دین حنیف پر ایمان رکھنے والے موحد مسلمانوں کے سامنے فلسفہ اور علم کلام کے بت گھڑ کر کھڑے کردیئے

تمدن،تصوف،شریعت،کلام

بتانِ عجم کے بچاری تمام!  

(اقبالؒ)

نتیجہ یہ ہوا کہ یہ سیدھا سادہ مومن اورتلوار کادھنی مجاہد، حقیقت اور معرفت کے مقامات کھوجنے میں لگ گیا۔

عجم کے خیالات میں کھو گیا

یہ سالک مقامات میں کھو گیا

(اقبالؒ)

خلیفہ مامون کے دورِ خلافت میںاسی طرح کی ایک تحریک معتزلہ نے زور پکڑا۔ اس نے دین میں نئے نئے بے بنیاد مسائل پیدا کردیئے۔ مامون کی ماں ایرانی نسل سے تھی اس لئے اس پر ایرانی شیعوں اور معتزلہ کا اثر بہت بڑھ گیا۔ اس نے تلوار کے زور سے ان فاسد عقائد کو منوانے کی کوشش کی۔ لیکن اس وقت حق پرست لوگوں کی بھی ایک جماعت موجود تھی، یہ محدثینِ کرام ؒ تھے، جن کی زندگی کا مقصد احیائے سنت اور ردبدعت تھا۔ یہ لوگ معتزلہ کے عقائد و افکار کے خلاف صف آراء ہوگئے۔ اس جماعت کے ہیرو حضرت امام احمد بن حنبلؒ تھے۔

خلیفہ مامون کے زمانے میں معتزلہ کا پیدا کیا ہواسب سے خطرناک مسئلہ ’’خلقِ قرآن‘‘کا تھا ۔یہ ایسافتنہ تھا جس نے اسلام میں بہت بڑا رخنہ ڈال دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ قرآن اللہ کی مخلوق ہے اوردنیا کی اور چیزوں کی طرح اس کو بھی ایک نہ ایک دن فنا ہوجانا ہے (کل من علیھا فان) اس بات کو اتنی اہمیت دی گئی کہ کتنے ہی صاحب عزیمت مسلمانوں کا خون بہادیاگیا۔

ذراسی بات تھی اندیشۂ عجم نے اسے

بڑھا دیا ہے فقط زیب داستاں کے لء

(اقبالؒ)

اپنی خلافت کی آخری زمانے میں مامون نے اس معاملے میں بہت شدت اختیار کرلی۔ خلقِ قرآن کے عقیدے کی جبری تبلیغ و اشاعت کاکام شروع کیا، اس فتنہ کی اصل جڑ معتزلہ کا ایک رکن احمد بن ابی دائود تھا۔ یہ معتزلہ کے عالم برغوت سے کچھ باتیں سیکھتا اور ان کی تشہیر کرتا تھا۔ اس نے اپنی چالاکی سے خلیفہ مامون کو اس کا معتقد بنالیا تھا۔۲۱۸ھ/۸۳۳ء میں مامون نے یہ اعلان کردیا کہ جو لوگ خلقِ قرآن کا اقرار نہیں کریں گے ان کو سخت سزادی جائے گی۔

 اس مسئلہ میں مامون کو اتنی ضدپیدا ہوگئی تھی کہ اس کو رومیوں سے جنگ کرنے رقہ جانا پڑا تو وہاں بھی اس بات کو نہیں بھولا اور اپنے قائم مقام حاکم بغداد اسحاق بن ابراہیم کو خط لکھا کہ لوگوں سے زبردستی خلقِ قرآن کا اقرار لیاجائے۔ چنانچہ اس نے تمام علماء ،فقہاء اور محدثین کو مجلس میں بلالیا اور ان سے پوچھا:کیا قرآن اللہ کا کلام ہے یا اس کی مخلوق؟

عزیمت والے لوگوں نے کہا:بیشک قرآن اللہ کا کلام ہے۔

اسحاق بن ابراہیم خود’’ خلق قرآن‘‘ کا معتقد تھا۔ وہ اس عقیدے کی تبلیغ بھی کرتا تھا ۔اس نے حضرت امام احمد بن حنبلؒسے کہا:احمد! تم اپنی تقریروں میں یہ آیت پڑھتے ہو لیس کمثلہ شیء یعنی اس جیسی کوئی چیز نہیں اس سے تمہاری کیا مراد ہے؟

امام احمدؒ نے بلاخوف و جھجک فرمایا: اس سے میری مراد اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن ہے۔ اس لئے کہ کوئی کتاب اس جیسی نہیں ہے۔ کوئی اس میں زیر زبر کا بھی اضافہ نہیں کر سکتا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor