Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ (روشن ماضی 550)

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 550)

اسحاق کو یہ جواب بہت ناگوارہوا اس نے گرجدار آواز میں کہا:بہتر ہے کہ آپ لوگ’’خلقِ قرآن ‘‘کے مسئلہ میں ہمارا موقف قبول کرلیں ورنہ تم میں کوئی بھی کوڑوں کی زد سے بچ نہ سکے گا۔

امام احمد بن حنبلؒ نے باوقار لہجہ میں جواب دیا:ہم اپنے نظریہ کو کہ قرآن کلام اللہ ہے کبھی نہیں چھوڑ سکتے۔ آپ کا جو جی چاہے کریں۔

اسحاق بن ابراہیم نے خلیفہ مامون کو ان لوگوں کے نام لکھ کر بھیج دئیے جنہوں نے ’’خلقِ قرآن‘‘ کا اقرار نہیں کیا، مامون اس خط کو پڑھ کر بہت آگ بگولہ ہوا اس نے مزید ایک خط اسحاق بن ابراہیم کو کوفہ بھیجا جس میں لکھا تھا:

امام احمد کے بارے میں جو کچھ تم نے لکھا تھا امیر المومنین نے اس کو پڑھا۔ احمد بن حنبل کو بتا دو کہ ہم ان کے جاہلانہ عقیدہ سے مطلع ہوئے۔ وہ عوام کو گمراہ اور ان کو صراطِ مستقیم سے برگشتہ کر رہے ہیں، اس کا خمیازہ ان کو ہر حال میں بھگتنا پڑے گا۔ تم بشر بن ولید اور ابراہیم بن مہدی کو قتل کردو اور باقی لوگوں کو جن کو اپنی رائے پر اصرار ہے بیڑیاں لگا کر ہمارے پاس رقہ بھیج دو۔ ہم خود ان کی موت و زندگی کا فیصلہ کردیں گے۔

اسحاق بن ابراہیم نے یہ شاہی فرمان مجمع عام میں پڑھ کر سنایا، اس کی ہیبت سے بڑے بڑے لوگوں کے عزم متزلزل ہوگئے اور ان کے پائے استقامت میں لغزش آگئی۔ اکثرلوگوں نے اس عقیدے کو تسلیم کرلیا۔ علامہ قواریری اور حسن بن حماد سجادہ نے کچھ استقلال دکھایا مگر جب پائوں میں بیڑیاں ڈالی گئیں تو دوسرے دن حسن بن حماد سجادہ اور تیسرے دن علامہ قواریری نے بھی اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔ باقی کوبیڑیاں پہنا کر طرطوس کی طرف روانہ کردیا گیا۔

 ابو علی کا بیان ہے: جن لوگوں کو خلیفہ مامون نے رقہ میں بلایا انہیں پیروں میں زنجیریں باندھ کر مظالم ڈھائے گئے، وہ یحییٰ بن معین ، احمد بن ابو خیثمہ، احمد بن حنبل، اسمٰعیل بن دائود جوزی ،محمد بن سعد، ابو مسلم مستملی، عبدالرحمن اور اسمٰعیل بن ابی مسعود وغیرہ تھے…

جن لوگوں کو مامون کے حکم سے رقہ میں بلایا گیا او روہ ابتلاء میں پڑکر جادئہ استقلال سے ہٹ گئے، کاش! وہ صبر کرتے اور اپنے نظریات سے تائب نہ ہوتے تو مامون زیادہ عرصہ تک لوگوں کو مصائب کا نشانہ نہیں بنا سکتا تھا۔ جب اتنے اونچے لوگ جادئہ حق سے پھسل گئے تو وہ بہت دلیر ہوگیا اور اس کے مظالم کا سلسلہ دراز ہوتا چلاگیا۔

ان لوگوں میں سے بھی اکثر نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا، صرف احمد بن حنبلؒ اور محمدؒ بن نوح باقی بچے۔ ان کو پابہ زنجیرمامون کی طرف روانہ کیا گیا مامون یہ پکاارادہ کئے ہوئے تھا کہ’’جوں ہی میری نظر احمدؒ بن حنبل پر پڑے گی میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا۔‘‘

راستہ میں امام احمدؒ بار بار دعاء کرتے تھے کہ میری ملاقات مامون سے نہ ہو،قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ ابھی یہ شام کے سرحدی شہر طرطوس ہی میں مقیم تھے کہ اطلاع ملی کہ خلیفہ مامون نے وفات پائی۔

٭…٭…٭

محمد بن نوح اور احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہما کو اب راستہ سے ہی لوٹا دیا گیا، قسمت سے محمد بن نوح رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ چھوڑنے کا وقت آگیا اور ان کا اللہ کی طرف سے بُلاوا آگیا، اپنے انتقال سے پہلے اللہ کے اس نوجوان سپاہی نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے ایک پُر جوش وعظ کہا۔ خود امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے: ’’اگرچہ محمدؒ بن نوح ابھی جواں سال تھے اور ان کے علم میں بھی کچھ زیادہ گہرائی نہ تھی، پھر بھی وہ احکام الہٰی پر سختی سے کار بند تھے۔ ان کے بارے میں میر احُسنِ ظن تھا کہ ان کا خاتمہ بہت اچھا ہوگا اور وہ پورا ہوکر رہا۔

ایک دن جب ہم دونوں تنہا تھے، محمد بنؒ نوح نے مجھے مخاطب کرکے کہا۔ اے ابو عبداللہ! اللہ سے ڈرو! اے ابو عبداللہ! اللہ سے ڈرو! اے عبداللہ! اللہ سے ڈرو! اگرچہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے تمہارے مقام تک رسائی نہیں، اس لیے کہ آزمائش کی کٹھن گھڑیوں میں میرے پائے ثبات میں لغزش تو آئی مگر آپ جادۂ استقلال پر بلا خوف وخطر رواں دواں رہے، آپ کی شان بے نیازی نہ صرف قابلِ احترام ہے بلکہ لائق ستائش بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی گردنیں آپ کی جانب بلند ہوتی ہیں اور آپ کی اقتدا کرنے والے روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ آپ میں مضمر خوبیوں نے لوگوں کے میلان کو آپ کی جانب تیز کردیا ہے۔ لیکن دیکھنا کہیں لوگوں کا یہ بے پناہ ہجوم آپ کو اللہ کے خوف سے بیگانہ نہ کردے۔‘‘

امام احمد بن حنبلؒ اس وعظ سے بہت متاثر ہوئے اور عقائد میں تزلزل پیدا کرنے والے ہر قسم کے اوہام وخیالات ان کے ذہن سے کافور ہوگئے۔ اس کے بعد محمدؒ بن نوح نے انتقال کیا اور اب ابتلاء و آزمائش کے میدان میں تنہا امام احمد بن حنبلؒ رہ گئے…لیکن یہ تنہائی ان کو مایوس نہ کرسکی۔

ہوا ہے گو تُند وتیز لیکن چراغ اپنا جلارہا ہے

وہ مردِ دُرویش جس کو حق نے دیے ہیں اندازِ خسروانہ

(اقبالؒ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor