Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ (روشن ماضی 551)

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 551)

ظاہری طور پر مامون کی موت امام احمدؒ کے لئے خوشی وراحت کا پیغام تھی لیکن ان کو نہیں معلوم تھا کہ ان کی آزمائش کا دور حقیقت اب شروع ہوا ہے۔

 مامون کے بعد اس کا بھائی معتصم باللہ(۲۱۸ھ/۸۳۳ میں) تخت خلافت پر بیٹھا۔ مامون مرتے وقت اس کو وصیت کر گیا کہ وہ عقیدہ خلقِ قرآن کا لوگوں سے اقرار کرائے اور قاضی احمد بن ابی دائود کو اپنے دربار سے وابستہ رکھے اور جملہ معاملات میں اسی کی رائے مشورہ پر عمل کرے۔ احمد بن ابی دائود کی فتنہ انگیزی سے ہی مامون نے اتنی شدت اختیار کر رکھی تھی۔ اب اس نے معتصم کو بھی مامون کی طرح خلقِ قرآن کے مسئلہ میں متشدد بنادیا۔ معتصم باللہ نے مامون کی وصیت پر پورا پورا عمل کیا بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت رویہ اپنایا۔

امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کو اسی طرح بیڑیاں لگے ہوئے طرطوس سے بغداد کی طرف روانہ کیا گیا۔ سفر کے دوران وہ سخت بیمار ہوگئے۔ اسی حالت میں رمضان المبارک میں بغداد پہنچے۔ وہاں ان کو دار عمارہ جیل میں قید کردیا گیا وہاں تقریباًڈھائی سال تک قید وبندکی اذیتیں برداشت کرتے رہے۔ ان کی عزیمت کا یہ حال تھا کہ روزانہ اپنی بھاری بیڑیوں کو سنبھال کر کھڑے ہوتے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا ارادہ لے کر جیل کے دروازے تک پہنچتے، پھر اپنے رب سے مخاطب ہو کر کہتے: اے میرے رب! میں تیری راہ میں چل پڑا۔ میرے بس میں صرف اتنا ہی تھا کہ جیل کے اس دروازہ تک پہنچ جائوں۔ میں تجھ سے اپنی اعانت کی استدعا کرتا ہوں۔‘‘

اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ امام احمدرحمۃ اللہ علیہ اپنے مشن کے متعلق کتنے پر امید تھے۔

 نہ ہو نومید، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے

امید مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں!

( اقبالؒ)

ایک دن امام احمدؒ کے ایک خاندانی بزرگ اسحاق بن حنبل ان سے ملنے جیل میں گئے۔ انہوں نے امام صاحب کو سمجھایا:

’’احمد! آپ کے تمام ساتھی ہتھیار ڈال چکے ہیں وہ’’خلق قرآن‘‘ کے مسئلہ میں اپنے موقف سے دستبردار ہوگئے ہیں، آپ کے علاوہ سب لوگ جیل سے رہا ہو چکے ہیں، ان حالات میں آپ بھی عنداللہ معذور ہیں۔ بس آپ بھی اپنے نظریات کو خیرباد کہہ دیں تاکہ آپ کی رہائی بھی عمل میں آسکے۔‘‘

حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت متانت کے ساتھ جواب دیا:

’’ اگر اہل علم ہی تقیہ اختیار کرنے لگ جائیں تو استقامت کون دکھائے گا۔ جاہل لوگ تو معذور ہیں اس لئے کہ وہ حقائق سے بے خبر ہیں۔ یہ صرف اہل علم کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ جاہل لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کریں۔ اگر وہ آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائیں تو حق و صداقت کی راہوں کا کیسے پتہ چل سکے گا۔‘‘

یہ جو اب سن کر اسحاق بن حنبل کو کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔

ایک دن اسحاق بن ابراہیم بھی حضرت احمد بن حنبلؒ سے ملنے جیل میں گیا۔ اس نے ان کو بڑے مشفقانہ انداز میں سمجھایا اور پرانے خاندانی تعلقات کا واسطہ دے کر کہا: کس قدر اچھا ہو اگر آپ امیر المومنین معتصم باللہ کی مخالفت چھوڑدیں پھر ان کو دنیا کا لالچ دیا۔ لیکن امام صاحب ان چکنی چپڑی باتوں میں آنے والے نہیں تھے، جب ان باتوں سے بھی اس کا مقصد حل ہوتا نظر نہ آیا تو اس نے دھمکی دی:

اگر آپ نے خلق قرآن کا اقرار نہ کیا تو آپ کو موت کے گھاٹ اتاردیا جائے گا۔

 لیکن امام صاحب ایسی دھمکیوں کی فکر کرنے والے کب تھے وہ باطل کے خس و خاشاک سے سرزمین اسلام کو پاک کرنے کے لئے کمر بستہ تھے۔

شعلہ بن کر پھونک دے خاشاک غیراللہ کو

خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گر باطل بھی تو

 ( اقبالؒ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor