Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ (روشن ماضی 552)

حضرت امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ

روشن ماضی ۔ ابو محمد (شمارہ 552)

انہوں نے اسحاق بن ابراہیم سے کہا:میں اپنے پہلے نظریہ پر قائم ہوں میں اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔

اس مایوس کن جواب سے وہ غصہ سے کانپ اُٹھا، اس نے حکم دیا کہ اس کے پائوں میں اور زیادہ بوجھل بیڑیاں پہنا دی جائیں۔

امام صاحب کا بیان ہے:

’’مجھے جیل سے ابو اسحاق کے گھر تک پیدل چلنے کا حکم دیا گیا میں نے چلنے کی پوری کوشش کی لیکن بیڑیاں اس قدروزنی تھیں کہ میرے لئے پائوں اُٹھانا مشکل تھا، جب میں پائوں اُٹھانے کی کوشش کرتا تھا تو پائوں سخت درد کرتے تھے۔ آخر مجبور ہو کر میں نے اپنے پائجامہ سے ازار بند نکالا۔ اس کو گدی بنا کر بیڑیوں کے نیچے رکھا تاکہ چلا جا سکے اور پائجامہ بلاازار بند کے ایسے ہی اڑس لیا۔ لیکن یہ ترکیب بھی کارگر ثابت نہیں ہوئی اس لئے کہ وزن کی وجہ سے پائوں اُٹھانا محال تھا،جب انہیں یقین ہوگیا کہ میرا پیدل چلنا ناممکن ہے تو مجھے ایک سواری پر بٹھایا گیا، پائوں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں۔ کسی دوسرے کے سہارے کے بغیر سواری پر بیٹھنا آسان نہ تھاچنانچہ قریب تھا کہ میں سواری سے زمین پر منہ کے بل گر پڑتا، لیکن اللہ نے محفوظ رکھا اور ابو اسحاق کے گھر آدھی رات کے وقت پہنچ گیا، مجھے ایک تاریک کمرے میں بند کر کے تالہ لگا دیا گیا۔ نماز پڑھنے کے لئے قبلہ کی سمت معلوم کرنا بھی مشکل تھا۔ میں نے اجتہاد سے کام لیتے ہوئے نمازپڑھی،صبح ہونے پر مجھے خلیفہ معتصم کی کچہری میں پیش کیا گیا۔

 وہاں احمد بن ابی دائود اور اس کے ساتھی بھی موجود تھے، میں ان کے بالکل نزدیک کھڑا کیا گیا، اس نے مجھے آگے بڑھنے کا موقع دیا۔

 وہاں کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے خلیفہ معتصم نے مجھے اپنے قریب بیٹھنے کو کہا میں بیٹھ گیا، لیکن بیڑیاں اتنی بوجھل تھیں کہ میں ان کا بوجھ برداشت نہیں کر سکا۔

یہ ایسا موقع تھا جب معتزلہ کے لیڈر چاہتے تھے کہ امام کو قتل کراکر اہل سنت و الجماعت کے اس بلند مینارہ کو منہدم کر دیا جائے۔ اسحاق بن ابراہیم،احمد بن ابی دائود، عبدالرحمن بن عرعرہ، برغوث، شعیب وغیرہ ایسے لوگ تھے جو امام صاحب کی شمع حیات کو بجھانے پر تلے ہوئے تھے۔ امام احمدؒ اس بات کو محسوس کررہے تھے۔ لیکن موت کا خوف ان کو جادئہ حق سے متزلزل نہ کرسکا۔معتصم کی کچہری میں پیش ہوئے تو انہوں نے نہایت بے نیازی سے معتصم سے کہا:

’’امیر المومنین! آپ کے خاندانی بھائی( رسول اللہﷺ ) لوگوں کو کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟‘‘

اس نے جواب دیا:’’توحید کی‘‘

امام صاحب نے فرمایا:میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ واحد ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے گویا میں رسول اللہﷺ کی دعوت کو پوری طرح تسلیم کرتا ہوں، پھر آپ لوگ مجھے مجرم کیوں سمجھتے ہیں؟

آپ کے جدامجد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے وفد عبدالقیس کی حدیث روایت کی ہے جس میں رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ…میں تم کو چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اول یہ کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور یہ گواہی دوکہ اللہ ہی عبادت کے لائق ہے، دوسرے نمازقائم کرو تیسرے زکوٰۃ ادا کرو اورچوتھے مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کرائو۔

’’امیر المومنین! میں آپ کو رسول اللہﷺ کی وہ حدیث بھی سناتا ہوں جس کو حبیبؓ صحابی نے اس طرح روایت کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہﷺ صحابہ کی محفل میں پہنچے تو فرمایا’’ اے لوگو! خوش ہو جائو۔ اس لئے کہ تم اللہ کے واحد معبود ہونے کی گواہی دیتے ہو اور میرے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہو، نیز تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ اللہ کی جانب سے ایک رسی ہے جس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھوں میں ہے ،تم اس کو مضبوطی سے پکڑلو، پھر نہ تو تم گمراہی کے گڑھے میں گروگے اور نہ عذاب الہٰی میں پکڑے جائو گے۔‘‘

’’اے امیر المومنین ! قرآن پاک اللہ کا علم ہے اور جوشخص اللہ کے علم کو مخلوق سمجھتا ہے وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتا ہے۔‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor