Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 645)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 645)

حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ غزوئہ بدر اور غزوئہ احد میں شریک ہوئے غزوئہ احد میں ان کے ایک زخم آگیا، جو بظاہر اچھا ہوگیا تھا ،حضورﷺ نے ان کو ایک دستہ کا امیر بناکر بھیج دیا تھا، واپس آئے تو وہ زخم ہرا ہوگیا اور اسی کے اثر سے جمادی الآخر ۴ ہجری میں وفات پائی،جب حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی عدت ختم ہوئی تو حضورﷺ نے ان سے نکاح فرمالیا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا خود روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس کسی مسلمان کوکوئی مصیبت پہنچے اور وہ اللہ کے فرمان کے مطابق یہ پڑھے:

اناللّٰہ وانا الیہ راجعون اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا

ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیںاللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اے اللہ! میری مصیبت میں مجھے ثواب دے اور اس سے بہتر اس کابدل عنایت فرما۔

تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کو گمی ہوئی چیز سے بہتر عنایت فرمائیں گے، جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تو( مجھے یہ حدیث یاد آئی اور) دل میں کہا( کہ اس دعاء کو کیا پڑھوں) ابو سلمہ سے بہتر کون ہوگا، وہ سب سے پہلا شخص تھا جس نے اپنے گھر سے پہلے ہجرت کی پھر بالآخر میں نے یہ دعاء پڑھ لی، جس کانتیجہ یہ ہوا کہ اللہ جل شانہ نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بعد آنحضر ت ﷺ کے نکاح میں آنے کاشرف عنایت فرمایا۔

نکاح کے بعد جب ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضور اقدسﷺ کے دولت کدہ پر تشریف لائیں تو دیکھا کہ وہاں ایک مٹکے میں جو رکھے ہوئے ہیں اور ایک چکی اور ہانڈی بھی موجود ہے، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خود جو پیسے اور چکنائی ڈال کر مالیدہ بنایااور پہلے ہی دن آنحضرتﷺ کو اپنے ہاتھ سے تیار کیا ہوا مالیدہ کھلایا۔

جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آنحضرتﷺ کے دولت کدہ پر آئیں تو اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ آگئیں جیسا کہ پہلے شوہر کی چھوٹی اولاد اپنی والدہ کے ساتھ آجایا کرتی ہے، حضورﷺ نے اپنے بچوں کی طرح ان کے بچوں کی بھی پرورش فرمائی اور ان کی تعلیم وتربیت کا خاص خیال رکھا۔

اوپر جو حدیث نقل کی گئی ہے اس میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اپنا ایک واقعہ اسی زمانہ کا نقل فرماتے ہیںکہ میں بچہ تھا، حضور اقدسﷺ کی گود میں پرورش پاتا تھا ایک دن جو آپﷺ کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھا تو میراہاتھ پیالہ میں ہرطرف گشت کرنے لگا،کبھی ادھر کبھی اُدھر ڈالا، حضور اقدسﷺ نے اس وقت تین نصیحتیں فرمائیں:

اول:بسم اللہ ، یعنی اللہ کا نام لے کر شروع کر۔

 دوم:کل بیمینک، یعنی اپنے داہنے ہاتھ سے کھا۔

 سوم:کل ممایلیک، جو حصہ تجھ سے قریب ہے اس میں کھا،یعنی پیالہ میں ہر جگہ ہاتھ مت ڈال، اپنی طرف جو پیالہ کا حصہ ہے اسی جانب ہاتھ ڈال کر کھا، دوسری روایات میں ہے کہ اگر پلیٹ میں ایک ہی طرح کی چیز نہ ہو بلکہ کئی چیزیں ہوں( جیسے بادام، اخروٹ، منقی،کھجوریں وغیرہ) کئی چیزیں بھری ہوئی ہوں تو اس میںاپنے قریب ہاتھ ڈالنا آداب میں سے نہیں ہے ، بلکہ ہاتھ بڑھا کر جہاں سے جوچیز اٹھانا چاہے اٹھا سکتا ہے۔

 اس حدیث میں کھانے کے چند آداب بتائے ہیں، اسلام سراسر احکام اور اعمال اور آداب کا نام ہے، حضور اقدسﷺ معلم الایمان، معلم العبادات، معلم الاحکام، معلم الاخلاق اور معلم الآداب تھے، آپ ﷺ نے سب کچھ بتایا اور کرکے دکھایا ، تاکہ امت کی تعلیم قول سے بھی ہو اور عملی طور پر بھی، آپﷺ کی ساری زندگی سراپا تعلیم و تربیت ہے پیدائش سے لے کر موت تک کس طرح زندگی گزاری جائے؟ اور اجتماعی اور انفرادی حیثیت سے اپنے معاشرہ کو کن اخلاق و آداب سے مزین کریں؟ اس کا جواب حدیث وسیرت کی کتابوں میں موجود ہے، آج کل نماز روزے کو تو کچھ لوگ اہمیت دیتے بھی ہیںلیکن اخلاق و آداب کو کچھ بھی اہمیت نہیں دیتے حالانکہ معلم انسانیت ﷺ نے آداب و اخلاق بھی بڑی اہمیت کے ساتھ بتائے ہیں جو سراسر فطرت انسانی کے موافق ہیں جو لوگ اپنی معاشرت میں حضور اقدسﷺ کے طور طریق استعمال نہیں کرتے اور کھانے پینے اور رہنے  سہنے اور سونے جاگنے اور پہننے اوڑھنے میں ارشادات نبویہﷺ کا لحاظ نہیں رکھتے ان کی زندگی انسانیت سے بعید اور حیوانیت سے قریب تر ہوتی ہے جس کا مشاہدہ عموماً ہوتارہتا ہے۔

  ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor