Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 646)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 646)

دور حاضر کے لوگوں نے کھانے پینے اور پہننے اور زندگی گزارنے کے طور طریقوں میں یورپ اور امریکہ کے کافروں کو اپنا امام وپیشوابنا رکھا ہے،ان خدا فراموش انسانوں کا جو بھی طریقہ سامنے آتاہے اسے لپک کرقبول  کر لیتے ہیں اور بڑی جانثاری کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ تعجب ہے کہ ایمان تو لائیں سرورِدوجہاں محمد رسول اللہﷺ پر اور عمل کریں ملحدوں اور نصرانیوں کے طریقوں پر! بہت سے لوگوں کوتو اس میں اس قدر غلو ہے کہ حبیب رب العالمینﷺ کے طرزِ زندگی کواپنانے میں عیب سمجھتے ہیں اوریہ خیال کرتے  ہیں کہ سنت نبویﷺ کو اختیار کریں گے تو لوگ نام دھریں گے، اُنگلیاں اٹھائیں گے، فلاں آدمی بڑا دقیانوسی ہے، ماڈرن نہیں ہے۔

اللہ اکبر! کیسی نا سمجھی کے خیالات ہیں، اگر سنت نبویﷺ پرعمل کرنے  کی وجہ سے کسی منکر اسلام نے کچھ کہہ ہی دیا تو اس سے کیا ہوتا ہے! جس پر ہم ایمان لائے ہیں ہم اسی سے وابستہ ہیں، وہی ہمارا آقا ہے، ہم کو اسی کاطرز زندگی پسند ہے،اس کی وضع قطع لباس وغیرہ اور پورا طرززندگی ہمارا یونیفارم ہے، ہم اس کے ہیں وہ ہمارا ہے، اپنے آقا کے اتباع کرنے میں خفت محسوس کرنا اِحساس کمتری ہے اور سراسر بے وقوفی ہے۔

 قرآن مجید میں ارشاد ہے:

آپ فرما دیجئے کہ اگر اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو اللہ تم سے محبت فرمائے گا اور تمہارے گناہ معاف فرمادے گا اور اللہ غفور رحیم ہے۔

اس آیت کریمہ میں بتایا ہے کہ رسول اکرمﷺ کے طریقہ پر زندگی گزارنے سے بندہ اللہ کا محبوب بن جاتاہے، ہمیں اللہ کی بارگاہ میں محبوب اور مقبول ہونا چاہئے، ہماری سعادت اسی میں ہے کہ پنے آقا کی پیروی کریں اور اپنی غلامی کا عمل سے ثبوت دیں ، اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید کے نزول اور اللہ تعالیٰ کے رسول رحمۃ للعالمینﷺ کی تشریف آوری کو تقریباً ڈیڑھ ہزار سال ہورہے ہیں، ہمارا دین و ایمان قرآن اور صاحب قرآن سے وابستہ ہے، وہ پرانے ہیں ہم بھی پرانے ہیں اس میںعیب کی کیابات ہے؟ آخر دوسری قومیں بھی طریق اوردضع قطع، سج دھج میں اپنے بڑوں کااتباع کرتی ہیں، اس میں یہ لوگ کوئی بے آبروئی محسوس نہیں کرتے اور فخر کرتے ہوئے اپنے دین کے شعار کو اختیار کرتے ہیں اور اپنے بڑوں کی مردہ چیزیں کو زندہ کررہے ہیں۔

حالانکہ جن کویہ لوگ مانتے ہیں وہ اس دنیا میں آنے کے اعتبار سے ہمارے رسول اللہﷺ سے بھی مقدم ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ وہ تو دقیانوسی نہ ہوئے اور ہم دقیانوسی ہوگئے؟ ذرا غور تو کرو،آخر کیا مصیبت ہے کہ ہم پیارے آقاﷺ کے طرززندگی کے بجائے دشمنوں کے طورطریق سیکھتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔

 آخرت میں عزت و عظمت اورسرخروئی نصیب ہونے کی فکر کرنے والے یہی کوشش کرتے ہیں کہ ہم حضورﷺ کی جماعت میں شمار کرلیے جائیں اور وہاں کی رسوائی سے محفوظ رہیں،سب سے بڑی رسوائی آخرت کی رسوائی ہے اس سے بچنے کے لیے دامن محمدﷺ سے وابستہ ہونالازم ہے جوسردار انبیائ( علیہم السلام) اور سرور کونینﷺ ہیں۔

 مسلمانو! اپنے نبی کی سنتوں پر مرمٹو، دنیا کے جاہلوں کی نظروں میں باعزت ہونے کے خیال سے آخرت کی رفعت و عظمت کو نہ بھولو، وہاں کی ذلت اور رسوائی بہت بڑی اور بہت بری ہے۔

 ذیل میں ہم احادیث شریفہ سے اخذ کر کے اسلامی آداب جمع کررہے ہیں کوشش یہ کی ہے جو بات بیان ہو وہ حدیث کا ترجمہ ہو قولی حدیث ہویافعلی، ہر حدیث کے ختم پر کتب حدیث کا حوالہ ہے اسی لیے بہت سی جگہ چند آداب یکجا بیان کرنے کے بعد حوالہ دیا گیا ہے، کیونکہ یہ سب ایک حدیث میں وارد ہوئے ہیں، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے ، مہمانی، مہمان داری، سلام اور ملاقات ،چھینک اور جمائی اور مجلس کے آداب الگ الگ بیان کیے گئے ہیں، نیز لیٹنے، سونے، خواب دیکھنے، سفر میں آنے جانے کے آداب بھی لکھ دئیے ہیں اور ایک عنوان میںخصوصیت کے ساتھ وہ آداب جمع کیے ہیں جو عورتوں اور لڑکیوں کے لیے مخصوص ہیں پھر متفرق آداب لکھ کر اس موضوع کو ختم کردیاگیا ہے۔

 (جار ی ہے)

  ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor