Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 647)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 647)

واضح رہے کہ آداب کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ آداب ہی تو ہیں، عمل نہ کیا تو کیا حرج ہے؟ یہ بہت بڑی نادانی ہے، مومن کے لیے کیا یہ بہت بڑا حرج نہیں ہے کہ عمل کیااورحضوراقدسﷺ کے طریقہ کے موافق نہ کیا؟ اور اتباع سنت  کے ثواب سے محروم رہا، پھر ان میں بہت سی چیزیں وہ ہیں جن کے خلاف عمل کرنا سخت گناہ ہے، جیسے عورتوں کو مردانہ وضع اختیار کرنا اورسونے چاندی کے برتنوں میں کھانااور تکبر کی وجہ سے کپڑے کو زمین پرگھسیٹتے ہوئے چلنا، اور جیسے کسی مسلمان کے سلام کا جواب نہ دینا وغیر ہ وغیرہ اور بعض چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے ترک میں گناہ تونہ کہاجائے گا، لیکن اس کے ترک سے بڑے بڑے نقصانات کااندیشہ ہے، مثلاً مشکیزہ سے منہ لگا کرپینا( اس میں اندیشہ ہے کہ کیڑا مکوڑہ پانی کے ساتھ اندر چلا جائے) اور جیسے کھانا کھا کر ہاتھ دھوئے بغیر سوجانا( اس میں اندیشہ ہے کہ کوئی جانور کاٹ لے) اور جیسے اس چھت پر سوجانا جس پرچاردیواری نہ ہو (اس میں سوتے سوتے نیچے گر پڑنے کا اندیشہ ہے)۔

حضور اقدسﷺ بہت بڑے شفیق تھے۔ آپ ﷺ نے وہ باتیں بھی بتائیں جنہیں ہر عقل مند کو خود ہی سمجھ لینا چاہیے، لیکن آپ کی شفقت نے یہ گوارہ نہ کیا کہ اپنے لوگوں کے خود سمجھنے پر اعتماد فرمالیتے بلکہ ہربات واضح طور پر سمجھا دی فصلی اللہ علیہ وآلہ بقدر کمالہ وجمالہ۔

 اب پہلے کھانے پینے کے آداب لکھتے ہیں اس کے بعد دوسرے آداب شروع ہونگے ان شاء اللہ

 کھانے پینے کے آداب

 فرمایارحمتِ کائنات فخر موجودات احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ نے کہ:کھانے کی برکت ہے، کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد وضو کرنا( یعنی ہاتھ دھونا اور کلی کرنا) (ترمذی)

بسم اللہ پڑھ کر کھائو ۔ داہنے ہاتھ سے کھائو۔

 اور اپنے پاس سے کھائو( یعنی برتن کے چاروں طرف ہاتھ نہ مارو،اپنی طرف سے کھائو) (بخاری ومسلم)

بائیں ہاتھ سے ہرگز نہ کھائو نہ پیو، کیونکہ بائیں سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔( مسلم)

 جوشخص جس برتن میں کھانا کھائے پھر اسے صاف کرے تو اس کے لیے برتن استغفار کرتا ہے( ترمذی)

جب تمہارے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو جو( تنکا وغیرہ ) لگ جائے اس کوہٹا کر لقمہ کھا لو اور شیطان کے لیے مت چھوڑو۔

 جب کھانے سے فارغ ہوجائو تو ہاتھ دھونے سے پہلے اپنی انگلیاں چاٹ لو، تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کون سے حصہ میں برکت ہے۔( مسلم)

 برتن کے درمیان سے نہ کھائو بلکہ کناروں سے کھائو، کیونکہ درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے، (ترمذی)

 آپس میں ایک ساتھ مل کر کھایا کرو اور اللہ کا نام لے کر کھائوکیونکہ اس میں تمہارے لیے برکت ہوگی۔( ابودائود)

جب کھانا کھانے لگو تو جوتے اتاردو اس سے تمہارے قدموں کوآرام ملے گا۔( دارمی)

 اونٹ کی طرح ایک سانس میں مت پیو بلکہ دو یاتین سانس میں پیو اور جب پینے لگو تو بسم اللہ کہو اور جب پی کرمنہ سے برتن ہٹائو تو الحمد للہ کہو۔( ترمذی)

جو شخص( پانی وغیرہ کوئی چیز) پلانے والا ہو وہ سب سے آخر میں خود پینے والابنے۔( مسلم)

 حضور اقدسﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ کھانا لایاگیا۔ آپ ﷺ نے اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہ سے کھانے کو فرمایا۔ انہوں نے کہا اس وقت خواہش نہیں ہے آپﷺ نے فرمایا بھوک اور جھوٹ کو جمع نہ کرو( ابن ماجہ) یعنی بھوک ہونے کے باوجود یہ نہ کہو کہ خواہش نہیں ہے۔

 جب شوربہ پکائو تو اس میں پانی زیادہ ڈال دو اور( اس میں سے ) پڑوسیوں کا خیال کرو۔( مسلم)

یعنی ان کو بھی ہدیتاً سالن بھیج دو تمہارے پانی بڑھادینے سے پڑوسیوں کو سالن مل سکتا ہے۔

 حضور اکرمﷺ نے میز پر اور چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں کھانا نہیں کھایا۔ آپﷺاور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ دسترخوان پر کھاتے تھے( بخاری شریف)

حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور دو آدمیوں کا ،چار آدمیوں کو اور چار آدمیوں کا آٹھ آدمیوں کو کافی ہوجاتا ہے( مسلم)

یعنی اس طرح کام چل سکتا ہے اور گزارہ ہوسکتا ہے کسی مہمان یا حاجت مند کے آنے سے تنگ دل نہ ہوں، خوشی کے ساتھ شریک کرلیا کریں۔

  ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor