Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 649)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 649)

پہننے اور اوڑھنے کے آداب

آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اپنے تہبند کو تکبر کے طور پر اِتراتے ہوئے گھسیٹا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت سے نہ دیکھیں گے( بخاری و مسلم)

آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ٹخنے سے نیچے جو تہبند( پائجامہ وغیرہ)کا حصہ ہوگا، وہ دوزخ میں ہوگا( بخاری)

 یعنی ٹخنے سے نیچے کپڑا پہننا دوزخ میں لے جانے کا سبب ہے یہ مردوں کے لیے ہے، عورتیں ٹخنے ڈھکے رہیں البتہ اتنا نیچا کپڑا عورتیں بھی نہیں پہنیں جوزمین پر گھسٹتا ہو۔

 حضرت اسماء بنت یز ید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ کی آستین پہنچے تک تھی( ترمذی)

حضرت سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ صاف ستھرے اور پاکیزہ ہوتے ہیں( یہ مردوں کو ترغیب دی گئی ہے) اور سفید کپڑوں میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ (ترمذی)

حضرت رکانہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان ٹوپیوں پر پگڑی ہونے کافرق ہے( ترمذی) یعنی پگڑی باندھنے کی صورت میں اس کے نیچے ٹوپی بھی ہونی چاہیے( مرد اس کا اہتمام کریں)

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور انور ﷺ جب پگڑی باندھتے تھے تو عمامہ کا شملہ مونڈھوں کے درمیان ڈال دیتے تھے( ترمذی)

ایک مرتبہ سرورِ عالمﷺ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو پگڑی پہنائی اس کا ایک کنارہ سامنے کی طرف اوردوسرا کنارہ پیچھے کی طرف ڈال دیا( ابو دائود) یعنی پگڑی کے دونوں طرف ایک ایک شملہ کردیا، اور ایک کو آگے اور ایک کو پیچھے ڈال دیا پگڑی کے مسائل مردوں سے متعلق ہیں۔

 اور رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا:کھائو پیو اور صدقہ کرو اور پہنو( لیکن) اس حد تک کہ فضول خرچی اور غرور ( یعنی شیخی پن) کی ملاوٹ نہ ہو( مسند احمد)

یہ بھی فرمایا کہ میری امت کی عورتوں کے لیے سونا اور ریشم (پہننا) حلال ہے اور مردوں پر حرام کردیا گیا۔ (ترمذی)

اور فرمایا کہ جس نے( دُنیا میں) نام و نمودکا لباس پہنا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا۔ (مسند احمد)

نیز ارشاد فرمایا کہ جب تم (کپڑے) پہنو اور جب تم وضو کرو تو داہنی طرف سے شروع کرو۔ (ابو دائود)

مرد عورت کا اور عورت مرد کا لباس نہ پہنے،کیونکہ اس سے خدا کی لعنت ہوتی ہے۔ (ابودائود)

جوتا پہنتے وقت پہلے داہنے پائوں میں جوتا ڈالو، اور جوتا اتارو تو پہلے بایاں پائوں نکالو۔ (بخاری)

ایک جوتا پہن کر نہ چلو، دونوں جوتے اتاردو یا دونوں پہن لو۔ ( بخاری)

مہمان کے متعلق آداب

معلم الاخلاقﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اُسے چاہیے کہ مہمان کی عزت کرے۔ مہمان کے لیے اچھے یعنی پُر تکلف کھانے کااہتمام ایک دن ایک رات ہونا چاہیے۔ اور مہمانی تین دن تک ہے، اس کے بعد صدقہ ہوگا۔

 اور مہمان کے لیے یہ حلال نہیں کہ میزبان کے پاس اتنا ٹھہرے کہ وہ تنگ ہوجائے۔ ( یہ سب بخاری شریف سے لیا گیا ہے۔)

جس کی دعوت کی گئی اور اس نے قبول نہ کی تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

 اور جو یہ شخص بغیر دعوت کے ( کھانے کے لیے) داخل ہوگیا وہ چور بن کر اندر گیا اور لیٹرا بن کر نکلا۔ ( ابو دائود)

حضور اقدسﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مسنون طریقہ یہ ہے کہ مرد( رخصت کرتے وقت) مہمان کے ساتھ گھر کے دروازہ تک نکلے۔( ابن ماجہ)

 سلام کے آدب

سیدالانبیائﷺ نے فرمایا کہ: اللہ جل شانہ سے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو( دوسرے کا انتظار کئے بغیر) خود سلام میں پہل کرے۔ ( بخاری)

 اسلام کا بہترین کا م یہ ہے کہ کھانا کھلائو اور ہر مسلمان کو سلام کر و جان پہچان ہو یا نہ ہو( بخاری) عورتیں عورتوں میں اس کالحاظ رکھیں کہ سلام میں جان پہچان کا معیار نہ بنائیں بلکہ مسلمان ہونے کو دیکھیں اور مرد مردوں میں اس کا خیال کریں۔

بات کرنے سے پہلے سلام کیا جائے (ترمذی)

سوار پیدا چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑی تعداد والی جماعت بڑی جماعت کو اور چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔ ( بخاری)

یہود و نصاریٰ کوسلام نہ کرو۔ (صحیح مسلم) ( ہندو، سکھ،یہود و نصاریٰ اور مرزائی سب کا فراسی حکم میں ہیں)

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor