Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 655)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 655)

حضرت عمران بن خطان رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا، وہ مسجدمیں بالکل تن تنہا تشریف فرماتھے۔میں نے عرض کیا: اے ابو ذریہ تنہائی کیسی ہے؟انہوں نے فرمایا:میں نے حضوراقدسﷺ سے سنا ہے کہ تنہائی برے ہم نشین( یعنی ساتھ کے بیٹھنے والے برے شخص سے ) بہتر ہے اور نیک ہم نشین تنہائی سے بہتر ہے اور خیرکی باتیں کرنا خاموش رہنے سے بہتر ہے اور خاموش رہنا بری باتیں زبان سے نکالنے سے بہتر ہے( کیونکہ خاموشی پر پکڑنہیں ہے الّایہ کہ کسی واجب کلام سے گریز کیا ہو)( مشکوٰۃ)

ان روایات واحادیث کو جان لینے کے بعد سمجھ لینا چاہئے کہ زبان کی آفات اور مہلکات (یعنی انسان کو برباد کرنے والی چیزیں) بہت زیادہ ہیں بہت سے لوگوں کو بے جابولنے کی عادت ہوتی ہے خواہ مخواہ جھک جھک کرتے ہیں اور دنیابھر کے قصوں اور ایسی باتوں میں اپنی زبان کو استعمال کرتے ہیں جن میں اپنا کوئی نفع دنیا اور آخرت کا نہیں ہوتا، بلکہ باتیں کرتے کرتے بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

 زبان کی آفات بہت ہیں ہم ان میں سے چند چیزوں پر روشنی ڈالناچاہتے ہیں پہلے ان چیزوں کوبطور فہرست لکھ دیتے ہیں ، پھر ان شاء اللہ تفصیل سے لکھیں گے زبان کی آفات میں یہ چیز یں آتی ہیں:

۱)جھوٹ بولنا

۲)لعنت کرنا

۳)چغلی کھانا

۴)گالی دینا

۵)غیبت کرنا

۶)کسی کا مذاق اڑانا

۷)جھوٹا وعدہ کرنا

۸)جھوٹی قسم کھانا

۹)جھوٹی گواہی

۱۰ )دوسروں کو ہنسانے کے لئے باتیں کرنا

۱۱)گانا گانا

۱۲ )کسی کے منہ پر تعریف کرنا

۱۳)جھوٹی تعریف کرنا

۱۴)کافریا فاسق کی تعریف کرنا

۱۵)جھگڑا کرنا

۱۶)فحش کلامی کرنا

۱۷)کسی مسلمان کو کافر کہنا

۱۸)کسی کی مصیبت پر خوشی ظاہر کرنا

۱۹)کسی کی نقل اتارنا

۲۰)طعنہ زنی کرنا

ان سب چیزوں کے متعلق حضور اقدسﷺ کے ارشادات نقل کئے جاتے ہیں۔

جھوٹ کا وبال اور فرشتوں کو

اس سے نفرت

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بات کی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔( مشکوٰۃ المصا بیح: ص ۴۱۳ ازترمذی)

اس حدیث سے جھوٹ کی سخت مذمت معلوم ہوئی اور پتہ چلا کہ فرشتوں کو جھوٹ سے بہت زیادہ نفرت ہے اور ان کوجھوٹ سے ایسی گھن آتی ہے کہ جوں ہی کسی کے منہ سے جھوٹ نکلا فرشتہ وہاں سے چل دیتا ہے اور ایک میل تک چلا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ دوسرے فرشتے مراد ہیں ،ناگواری اور نفرت تو سب ہی فرشتوں کو ہوتی ہے لیکن جو فرشتے اعمال لکھنے پر مامور ہیں وہ مجبوراً ناگواری کو برداشت کرتے ہیں، اللہ کی پیاری مخلوق کو تکلیف پہنچانا کتنابراعمل ہے اس کو خود سمجھ لیں اور اوپر سے جھوٹ کا گنا ہ ہے جو اس کے علاوہ ہے۔

حضور اقدسﷺکا ارشاد ہے کہ تم سچ کو لازم پکڑو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی راہ بتاتی ہے اور انسان سچ بولتارہتا ہے اور سچ بولنے کا خوب دھیان رکھتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک صدیق (یعنی بہت سچائی والا) لکھ دیاجاتا ہے( پھر فرمایا کہ) جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ فجور( یعنی گناہوں میں گھس جانے) کی راہ بتاتا ہے اور فجور دوزخ کی راہ دکھاتا ہے اور انسان برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کا دھیان رکھتا ہے( یعنی جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کے مواقع سوچتا رہتا ہے ) یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔(بخاری و مسلم)

پس مومن بندوں پر لازم ہے کہ ہمیشہ سچ بولیں اور سچ ہی کو اختیار کریں، بچوں کو سچ ہی سکھائیں اورسچ ہی کی عادت ڈالیں ، ان کے بہلانے کے لیے بھی جو کوئی وعدہ کریں وہ وعدہ بھی سچا ہونا چاہیے۔

حضرت عبداللہ بن عامررضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ( جب میں چھوٹا سا تھا) میری والدہ نے ایک دن مجھے بلایا اور کہا: لے آ میں تجھے دے رہی ہوں۔ اس وقت حضورﷺ ہمارے گھر میں تشریف فرماتھے آپﷺنے میری والدہ سے فرمایا: تونے اس کو کیا چیز دینے کا ارادہ کیا ہے؟انہوں نے عرض کیا : میں نے اس کو کھجوریں دینے کی نیت کی ہے، آپﷺ نے فرمایا:خبردار! اگر تو اس کو( کچھ بھی) نہ دیتی تو تیرے اوپر ایک جھوٹ (کا گناہ) لکھ دیا جاتا ۔(مشکوٰۃ المصابیح :ص ۴۱۶ ازاابو دائود و بیہقی)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor