Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 656)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 656)

اس حدیث سے والدین کے حق میں ایک بڑی نصیحت معلوم ہوئی ،بچوں کو کسی کام کے لیے بلانے کے لیے یا کہیں ہمراہ جانے کی ضدختم کرنے کے لیے یا رونا بند کرنے کے لیے جھوٹے وعدے کرلیتے ہیں اور ایک ایک دن میں کئی کئی بار ایسا ہوتا رہتا ہے وعدہ کر کے پھر وعدہ پورا کرنے کی فکر نہیں کرتے بچہ کو بہلانے کے لیے جھوٹ بہکادیتے ہیں کہ فلاں چیز لائیں گے، یہ منگا کردیں گے، وہ بنوا کر لائیں گے، یہ جھوٹے وعدے کرنا اور پورانہ کرنا گناہ ہے جیسا کہ حدیث بالا سے معلوم ہوا۔

 سوتن وغیرہ کو جلانے کے لیے جھوٹ بولنے کی مذمت

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! بلاشبہ میری ایک سوتن ہے، کیا مجھے گناہ ہوگا اگر میں( اس کو جلانے کے لیے) جھوٹ موٹ یوں کہہ دوں کہ یہ چیز مجھے شوہر نے دی ہے، حالانکہ اس نے نہ دی ہو؟ اس کے جواب میں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کو کوئی چیز حقیقت میں نہ ملی ہو اس کے بارے میں یہ ظاہر کرنا کہ یہ مجھے ملی ہے ایسا ہے جیسے کوئی جھوٹ کے دوکپڑے پہن لے۔( مشکوٰۃ ص ۲۸۱از بخاری و مسلم)

مومن کے دل میں جو ایمان ہے یہ اللہ کا واعظ ہے ،غلط جذبات اور برے وسوسے جو دل میں آتے ہیں یہ واعظ قلب جو اندر بیٹھا ہوا ہے متنبہ کرتاہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے ،جن کا ایمان اصلی ایمان ہے اور جنہوں نے ایمان کی روشنی کو گناہوں کی کثرت سے دھندلا نہیں کیا ان کو جب کسی خراب عمل کا خطرہ گزرے گایا گناہ کرنے کا وسوسہ آئے گا، فوراً دل میں ایک چبھن محسوس کریں گے، ان کو ایسامعلوم ہوگا جیسے اندر کوئی الارم دے رہا ہے اور بتارہا ہے کہ یہ کام ٹھیک نہیں ہے اگر ٹھیک بے ٹھیک کا فیصلہ خود نہیں کر سکتے تو جاننے والوں سے معلوم کرلیں جب ہم جیسے مسلمانوں کا یہ حال ہے تو حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم جن کا ایمان پہاڑ سے بھی بڑا تھا وہ ایسے خطرات اور وساوس پر کیوں متنبہ نہ ہوتے۔

 حدیث بالا میں اسی طرح کا ایک واقعہ ایک صحابی خاتون کا مذکور ہے ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ میں اپنی سوتن کو نیچادکھانے کے لیے جھوٹ کہہ دوں کہ مجھے شوہر نے فلاں فلاں چیزیں دی ہیں تو اس کا دل جلے گا اور اس کے جلنے سے مجھے خوشی ہوگی ،لیکن فوراً نفس کے اس عیب کو ان کے بیدار قلب نے پکڑلیااور دل میں کھٹک ہوئی کہ ایسا کرنا شاید ناجائز ہو، لہٰذا ہادی عالمﷺ سے دریافت کرنا چاہیے در حقیقت مومن صادق کا دل گناہ پر مطمئن نہیں ہو سکتا۔

 ایک حدیث میں ہے کہ حضوراقدسﷺ سے ایک شخص نے دریافت کیا :یا رسول اللہ! ایمان( کی علامت) کیا ہے؟ آپﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا:

جب نیکی کرنے سے تیرا دل خوش ہو اور برائی سے تیرا دل دکھے تو( سمجھ لے) تومومن ہے۔

 اس شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ! گناہ( کی نشانی) کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا:

جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دینا۔( مشکوٰۃ المصابیح ص ۱۶ عن مسند احمد)

مطلب یہ ہے کہ جب کسی کام کے متعلق اچھا یا برا ہونے میں تردد ہو اور اس کے کرنے کے تصور سے دل میں بے چینی کی سی کیفیت معلوم ہوتی ہو تو اسے نہ کرنا، کیونکہ یہ گناہ ہونے کی نشانی ہے۔ یہ بات ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرتے ہیں اور دل کو سنوارنے کی فکر میں رہتے ہیں اور جو شخص گناہوں سے بچنے کی فکر نہیں کرتا اس کے دل کا ناس ہوجاتا ہے پھر اس کو نیکی بدی کا احساس نہیںرہتا اور گناہ پر خوش ہوتا ہے، دل کے اندر جو گناہوں کی وجہ سے ٹیس ہونی چاہیے وہ نہیں ہوتی۔

 اسی قلبی کھٹک اور چبھن نے اس صحابی خاتون کو مسئلہ معلوم کرنے پر مجبور کیا اور انہوں نے فخر کائناتﷺ سے بے تکلف نفس کا کھوٹ ظاہر کردیا اور عرض کیا: میرے دل میں اپنی سوتن کو جلانے کے لیے ایسا خیا ل آیا ہے اگر میں ایسا کروں تو کیا اس میں گنا ہ ہوگا؟

قربان جائیے سید عالمﷺ کے جواب میں کیا ارشاد فرمایا؟بہت پر مغزجملہ ارشاد فرمادیاجس سے اس مقدس خاتون کے جزوی سوال کا جواب بھی ہوگیا اور ایک مستقل قاعدئہ کلیہ امت کو مل گیا جو زندگی کے ہر شعبہ میں کام دے سکتا ہے اور ہر صاحب فہم اس کی روشنی میں سچائی کا پتلا بن سکتا ہے ارشاد فرمایا: جس کو کوئی چیز نہیں ملی اور اس کے باوجود جھوٹ کہتا ہے کہ مجھے ملی ہے وہ ایسا ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دوکپڑے پہن لیے۔

یعنی اس نے سر سے پائوں تک اپنے اوپر جھوٹ ہی جھوٹ لپیٹ لیا، کسی کی زبان جھوٹی ہوتی ہے لیکن یہ پورا کا پورا جھوٹا ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor