Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 657)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 657)

معلوم ہوا کہ جس طرح غلط بات سے زبان جھوٹی ہوجاتی ہے، غلط کردار سے دیگراعضاء بھی جھوٹے قرار دے دئیے جاتے ہیں ۔حضوراقدسﷺ کے اس ارشاد سے ہر اس شخص کو نصیحت و عبرت حاصل کرنی چاہیے جو کسی چیز کا مالک نہ ہو اور ظاہر کرتا ہو کہ میں اس کا مالک ہوں، جیسے بہت سی خواتین مانگ کر بیاہ شادی کے موقع پرزیور پہن کر چلی جاتی ہے اور شیخی بگھارنے کے لیے یہ باور کراتی ہیں کہ یہ ہمارا زیور ہے ،شیخی بگھارنا یوں ہی برا ہے چہ جائیکہ دوسرے کے مال کو اپنا بنا کر فخر کیا جائے بعض لوگ حاجی نہیں ہو تے مگر لمبے کرتے پہن کر حاجی ہونا بیان کرتے ہیں، اسی طرح بہت سے لوگ مرشد و صوفی نہیں ہوتے لیکن اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں میں بڑا ظاہر کرنے کے لئے ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے ان کا صوفی اور پیر ہونا ظاہر ہوجائے، بہت سے لوگ ایسی ہی نیت سے مشائخ کا لباس پہن لیتے ہیں، ایسے لوگ بھی اس حدیث کے مضمون میں داخل ہیں ،یعنی بحکم حدیث سر سے پائوں تک جھوٹے ہیں بہت سے لوگ حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما یا کسی مشہور بزرگ کی نسل سے نہیں ہوتے، لیکن اپنے نام کے ساتھ صدیقی، فاروقی لکھتے ہیں یا چشتی، قادری، ہونے کے مدعی ہوتے ہیں، حالانکہ ان کو چشتیت قادریت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا، یہ لوگ بھی حدیث بالا کے ذیل میں آتے ہیں الغرض جس کا ظاہر باطن کے خلاف ہے اس کا ظاہر سراپاکذب اور جھوٹ ہے۔

 اعاذنا اللّٰہ تعالیٰ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا

سختی اور فحش کلامی پر تنبیہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ یہودیوں نے حضوراقدسﷺ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی اور اس موقع پر( دبی زبان میں انہوں) نے کہا السلام علیکم( یعنی السلام کے بجائے السام کہہ دیا، سلام سلامتی کواور سام موت کو کہتے ہیں، انہوں نے بددعا دینے کی نیت سے یہ سمجھ کر ایسا کہا کہ سننے والوں کی سمجھ میں نہ آئے گا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے سن لیا اور فوراً جواب دیا اور فرمایا:بل علیکم السام و اللعنہ بلکہ تم پر موت اور لعنت ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ! بیشک اللہ رحیم ہے ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتا ہے ۔تم کو اس طرح جواب نہیں دینا چاہیے تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے نہیں سنا، انہوں نے کیا کہا؟ آپﷺ نے فرمایا میں نے ان کو جواب میں وعلیکم کہہ دیا( یعنی ان کو موت کی بددعا دے دی، پس میری بددعا ان کے حق میں قبول ہوگی اور میرے حق میں ان کی بددعا قبول نہ ہوگی)( مشکوٰۃ المصابیح: ص ۳۹۸ از بخاری و مسلم

صحیح مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ اس موقع پر آپﷺنے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے فرمایا کہ تو فحش گومت بن ،کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش اور فحش اختیار کرنے کو پسند نہیں فرماتا۔

 یہودی بڑے شریر تھے ان کی شرارتیں آج تک کام کر رہی ہیں، حضورﷺکو اللہ کا نبی جانتے تھے اور واضح نشانیوں سے پہچانتے تھے لیکن مانتے نہیں تھے، حضور اقدسﷺ جب مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ میں جو یہودی رہتے تھے وہ آپ کے سخت دشمن ہوگئے حضور اقدسﷺ کو ایذاء دیا کرتے تھے بلکہ شہید کرنے اور اسلام و مسلمانوں کو مٹانے کے پروگرام اور تدبیر کیا کرتے تھے آپ کی مجلس میں بھی آتے تھے ،باتیں بھی پوچھتے تھے لیکن شرارتوں سے باز نہیں آتے تھے، انہی شرارتوں میں سے ایک یہ تھی کہ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو بجائے السلام علیکم کے دبی زبان میں السام علیکم کہتے تھے درمیان سے لام کو قصداً کھا جاتے تھے سلام بمعنی سلامتی ہے اور السام بمعنی موت ہے، یہودی اپنی خباثت اور شرارت سے بظاہر سلام کرتے تھے لیکن دبی زبان اور دل کے ارادہ سے موت کی بددعا دیتے تھے ایک مرتبہ جو آئے اور ایسی ہی شرارت کی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے سن لیا اور فوراً سخت الفاظ میں ان کو جواب دیا اور انہوں نے جو کچھ کہا تھا اس سے بڑھ کر بددعا دی ،یہودیوں نے تو صرف موت کی بددعا دی تھی،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا اور موت کی بددعا کے ساتھ ان پر لعنت بھی بھیجی اور اللہ پاک کا غضب نازل ہونے کی بھی بددعا دی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor