Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 659)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 659)

زیادہ تعداد میں عورتوں کے دوزخ میں جانے کا ایک سبب حضور اقدسﷺ نے یہ بتایا کہ لعنت بہت کرتی ہیں، یعنی کو سنا پیٹنا، برا بھلا کہنا، الٹی سیدھی باتیں زبان سے نکالنا، یہ عورتوں کا ایک خاص مشغلہ ہے، شوہر، اولاد اور بھائی، بہن، گھر، جانور، چوپایہ،آگ پانی ہر چیز کو کوستی رہتی ہیں، اسے آگ لگے، وہ لگٹی لگا ہے، یہ ناس پیٹی ہے، اسے ڈھائی گھڑی کی آئے، وہ موت کالیا ہے، اس کا ناس ہو، اس طرح کی ان گنت باتیں عورتوں کی زبان پر جاری رہتی ہیں اس میں بددعاکے کلمات بھی ہوتے ہیں، گالیاں بھی ہوتی ہیں یہ بات اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ حضوراقدسﷺ نے اس کو دوزخ میں جانے کا سبب بتایا( لعنت کرنا یعنی یوں کہنا کہ فلاں پر لعنت ہے یافلاں ملعون ہے یا مردود ہے یا اس پر اللہ کی مار یا پھٹکار ہو ،بہت سخت بات ہے، اللہ کی رحمت سے دورہونے کی بددعا کو لعنت کہا جاتا ہے عام طور سے یوں تو کہہ سکتے ہیں کہ کافروں پر اللہ کی لعنت ہو اور جھوٹوں پر اور ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ،لیکن کسی پر نام لے کر لعنت کرنا جائز نہیں ہے جب تک یقین نہ ہو کہ وہ کفر پر مرگیا، آدمی تو آدمی ،بخار کو، ہوا کو، جانور کو بھی لعنت کرنا جائز نہیں۔

 ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ہوا پر لعنت کی۔ آپﷺ نے فرمایا: ہوا پر لعنت نہ کرو کیونکہ اللہ کی طرف سے حکم دی ہوئی ہے اور جو شخص کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو لعنت کی مستحق نہیں ہے تو لعنت اسی پر لوٹ جاتی ہے جس نے لعنت کی۔( ترمذی)

ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ بلاشبہ انسان جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو لعنت آسمان کی طرف بڑھ جاتی ہے وہاں دروازے بند کردئیے جاتے ہیں( اوپر کوجانے کا کوئی راستہ نہیں ملتا) پھر زمین کی طرف اتاری جاتی ہے، زمین کے دروازے بھی بندکر دئیے جاتے ہیں( کوئی جگہ ایسی نہیں ملتی جہاں وہ نازل ہو) پھر وہ دائیں بائیں کا رخ کرتی ہے جب کسی جگہ کوئی راستہ نہیں پاتی تو پھر اس پر شخص پر لوٹ جاتی ہے جس پر لعنت کی ہے، اگر وہ لعنت کا مستحق تھا تو اس پر پڑجاتی ہے، ورنہ اس شخص پر آکر پڑتی ہے جس نے منہ سے لعنت کے الفاظ نکالے تھے۔ ( ابو دائود) ایک حدیث میں ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی لعنت ایک دوسرے پر نہ ڈالو اور نہ آپس میں یوں کہو کہ تجھ پر اللہ کا غصہ ہو اور نہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے یوں کہو کہ جہنم میں جائے۔ ( ترمذی، ابو دائود)

حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی زبان سے ایک موقع پر بعض غلاموں کے بارے میں لعنت کے الفاظ نکل گئے، حضورﷺ وہاں سے گزررہے تھے، آپ ﷺ نے( کراہت اور تعجب کے انداز میں) فرمایا: لعانین وصدیقین کلا ورب الکعبۃ یعنی لعنت کرنے والے اور صدیقین( کیا یہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں) رب کعبہ کی قسم ! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا( کہ کوئی شخص صدیق بھی ہو اور لعنت کرنے والا بھی ہو)

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اس بات کا بہت اثر ہوا اور اس روز انہوں نے اپنے بعض غلام( بطور کفارہ) آزاد کردئیے اور بار گاہ رسالتﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اب ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔( بیہقی)

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے ارشاد فرمایا: بلاشبہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن کسی کے حق میں گواہ نہ بن سکیں گے اور نہ سفارش کر سکیں گے۔( صحیح مسلم)

دوسری بات حدیث میں یہ بتائی( جو دوزخ میں داخل ہونے کا باعث ہے کہ عورتیں شوہر کی ناشکری کرتی ہیں، ایک دوسری حدیث میں اس کی تشریح اس طرح وارد ہوئی ہے:

لواحسنت الی احدھن الدھر ثم رأت منک شیئا قالت مارأیت منک خیرا قط

یعنی اگر تم عورت کے ساتھ ایک عرصہ درازتک اچھا سلوک کرتے رہو پھر کبھی کسی موقعہ پر ذراسی کوئی بات پیش آجائے تو(پچھلا سب کیا دھراسب مٹی کردے گی اور) کہے گی میں نے تیری جانب سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی ہے۔( مشکوٰۃ: ص ۱۳۰ ازبخاری و مسلم)

درحقیقت حضورﷺ نے عورتوں کے مزاج اور اخلاق وعادات کا بہت صحیح پتہ دیا ہے، عورتیں واقعی عموماً اسی طرح سے شوہروں کے ساتھ برتائو کرتی ہیں۔

اس کے بعد آنحضرتﷺ نے عورتوں کی ایک اور عادت کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ ہے کہ بہت زیادہ ہوش مند مرد کو بالکل بے وقوف بنا کر رکھ دیتی ہیں ،ضد کر کرکے اور پٹی پڑھا پڑھا کر اچھے خاصے ہوش و گوش والے مرد کو بدھو بنا دیتی ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor