Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 660)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 660)

مثلاً مرد سے کہا: تمہاری آمدنی کم ہے سارے گھر کا گزارہ نہیں ہوتا ایسا کرو کہ ماں باپ سے علیحدہ ہوجائو،پھر ہمارا تمہارا گزارہ کشادگی کے ساتھ ہو سکے گا، ماں باپ کا فرمانبردار بیٹا اولاً تو کچھ دنوں تک دھیان نہیں دیتا مگر وہ اسے اتنا مجبور کرتی ہیں اور روزانہ اتنا سبق پڑھاتی ہیں کہ آخر وہ کسی دن ماں باپ سے جدا ہونے کا فیصلہ کر ہی لیتا ہے وہ شخص جو بڑے بڑے اداروں کو چلاتا ہے حکومت کے کسی اعلیٰ محکمہ کا افسر ہے اس کے ماتحت بہت سے آدمی کام کرتے ہیں باوجود اس بڑائی اور ہوشمندی کے اسے بھی سبق پڑھا پڑھا کر بالآخر اپنے ڈھب پر ڈال ہی لیتی ہے، اس کا سارا ہوش و گوش عورت کے سامنے کچھ کام نہیں دیتا، زیور اور کپڑے کے سلسلہ میں بھی شوہر کو مجبور کر کے اپنا مطلب پورا کر ہی لیتی ہیں محلہ کی کسی عورت نے ہار بنوالیا، بس خیال ہوگیا کہ میں پیچھے رہ گئی میرا بھی ہار بنے اور اسی ڈیزائن کا ہو اور کم سے کم اتنے ہی تولہ کا ہو جیسا کہ پڑوسن نے بنوایا ہے اب شوہر کے سر ہے کہ ابھی بنے اور آج ہی آرڈر دو، شوہر کہتا ہے کہ ابھی موقع نہیں ہے کاروبار مندہ ہے یا تنخواہ تھوڑی ہے، بس برس پڑیں، تم کبھی فرمائش پوری ہی نہیں کرتے، ہمیشہ حیلے بہانے کرتے ہو، کیا ضرورت تھی کسی کی بیٹی پلے باندھنے کی؟ خرچ نہیں چلتا ہے تو پاپ کاٹو،پہلی مرتبہ تو اتنی بات سن کر شوہر خاموش ہوگیا، رات کو جب گھر آیا تو پھر کان کھانے شروع کئے بیچارہ سمجھا بجھا کر کسی طرح سوگیا ،صبح اٹھ کر جب کام پر جانے لگا تو پھر ٹانگ پکڑی کہ آج ضروری تم کہیں سے رقم لے کر آئو شوہر نے کہا کہ آج کہاں سے لے آئوں گا، کیا کہیں ڈاکہ ڈالوں ؟فوراً کہیں گی ہم کچھ تمہیں نہیں جانتے ڈاکہ ڈالویا کچھ کرو رقم لانی ہوگی شوہر نے کہا میں تو رشوت بھی نہیں لیتا کہیں سے قرض ملنے کی بھی امید نہیں کہاں سے لائوں گا فوراً آڑے ہاتھوں لیا، ساری دنیا رشوت لیتی ہے ،تم بہت بڑی متقی بنتے ہو، ہم چارعورتوں میں بیٹھنے کے قابل بھی نہیں ، نہ ہاتھ میں چوڑی نہ گلے میں لاکٹ۔

 غرض کہ ضد کر کے پیچھے پڑکے زیور بنوا کر چھوڑتی ہیں، کپڑوں کے سلسلہ میں بھی یہی طرز عمل ہے،جب کوئی نیا کاٹ دیکھا ،نیا کپڑا بازار میں آیا یاجدید طرز کا فیشن چلا فوراً اسی طرح کا کپڑا بنانے کے لیے تیار ہو گئیں، شوہر کے پاس پیسہ ہو نہ ہو، موقع ہو نہ ہوبنانے کے لئے ضد شروع کردی اصرار کرتے کرتے آخر بنا کر چھوڑتی ہیں پھر عجیب بات یہ ہے کہ جو جوڑا ایک مرتبہ کسی شادی میں پہن لیا اب اسے آئندہ کسی تقریب میں پہننے کو عیب سمجھتی ہیں، نئی شادی کے لیے نیا جوڑا ہونا چاہیے پھر کا ٹ بھی نئی ہو،چھانٹ بھی ماڈرن ہو،انہی خیالات میں گم رہتی ہیں اور ان خواہشات کے پورا کرنے میں بہت سے گناہ خود ان سے سرزد ہوتے ہیں اور بہت سے گناہ شوہر سے کراتی ہیں شوہر اتنے اخراجات سے عاجز ہوتا ہے تو رشوت لیتا ہے یا بہت زیادہ محنت کر کے رقم حاصل کرتا ہے جس سے صحت پر اثر پڑتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ رشوت لینا حرام ہے اور یہ عمل دوزخ میں لے جانے والا ہے اور زیادہ محنت کرنے سے صحت پر برااثر پڑے گا ،اچھا خاصا ہوش مند آدمی بے وقوف بن جاتا ہے اور عورت کی ضد پوری کرنے کے لیے سب کر گزرتا ہے۔

 عورت کو زیور پہننا جائز تو ہے مگر اس جائز کے لیے اتنے بکھیڑے کرنا اور شوہر کی جان پر قرض چڑھانا اور اس کو رشوت لینے پر مجبور کرنا اور پھر دکھاوے کے لیے پہننا اسلام میں اس کی گنجائش کہاں ہے؟

بیاہ و شادی کے موقع پر عورتوں نے بہت سی بری رسموں کا رواج ڈال رکھا ہے جو غیر شرعی ہیں ان رسموں کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں مرد کیسا ہی علم دار اور دیندار ہو اس کی ایک نہیںچلنے دیتیں، آخر وہی ہوتا ہے جو یہ چاہتی ہیں۔

 مرنے جینے میں بھی بہت سی بدعات اور شرکیہ رسمیں نکال رکھی ہیں ان کی پابندی نماز سے بھی بڑھ کر ضروری سمجھی جاتی ہے، اگر مرد سمجھائے کہ یہ شریعت سے ثابت نہیں انہیں چھوڑو ایک نہیں سنتیں بالآخر مرد مجبورہو کر ان رسموں میں خرچ کرنے کو تیار ہوجاتا ہے۔

 یہ سب مثالیں ہم نے حدیث کا مطلب واضح کرنے کے لیے لکھ دی ہیں حضوراقدسﷺ کا یہ فرمانا کہ دین اور عقل میں ناقص ہوتے ہوئے بہت بڑے ہوش مند آدمی کو بے وقوف بنادیتی ہیں، بالکل حق ہے۔

حدیث کے آخر میں ہے کہ جب عورتوں نے یہ دریافت کیا کہ ہمارے دین اور عقل میں کیا کمی ہے؟تو آپﷺ نے فرمایا: عقل کی کمی تو اس سے ظاہر ہے کہ شریعت نے دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر شمار کی ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

ترجمہ:پھر اگروہ دوگواہ مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو تاکہ ان دونوں عورتوں میں سے کوئی ایک بھول جائے تو ان میں کی ایک دوسری کو یاددلادے۔

 اور عورت کے دین کا نقصان یہ ہے کہ ہر مہینہ جو خاص ایام آتے ہیں، ان میں نمازوں سے محروم رہتی ہیں اور ان ایام میں روزہ بھی نہیں رکھ سکتیں( اگر رمضان میں یہ دن آجائیں تو رمضان میں روزہ چھوڑدیں اور بعد میں قضا رکھ لیں)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor