Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 661)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 661)

شاید کوئی عورت دل سے میں یہ سوال اُٹھائے کہ اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟خاص ایام کی مجبوری قدرتی ہے اور شریعت نے ان دنوں میں خود ہی نماز روزہ سے روکا ہے۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مجبوری اگر چہ فطری اور طبعی ہے اور شریعت نے بھی ان دنوں میں نماز روزے سے روکا ہے مگر یہ بات بھی تو ہے کہ نماز روزہ کی ادائیگی کی جو برکات ہیں ان سے محرومی رہتی ہے ،فطری مجبوری ہی کی وجہ سے تو یہ قانون ہے کہ ان ایام کی نمازیں بالکل معاف کردی گئی ہیں جن کی قضاء بھی نہیں اور رمضان کے روزہ کی قضا تو ہے مگر رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ اب اگر کوئی عورت یوں کہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ مجبوری کیوں لگائی ہے؟ تو یہ اللہ کی حکمت میں دخل دینا اور اس کی قدرت و مشیت پر اعتراض کرنا ہوا، یہ ایسی ہی بات ہے کہ جو شخص حج کرے گا اسے حج کا ثواب ملے گا جو نہ کرے گا اسے یہ ثواب نہیں ملے گا، جس کے پاس حج کرنے کا پیسہ نہیں ہے اگر وہ کہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے پیسہ کیوں نہیں دیا تو یہ اس کی بے وقوفی ہے اس کے کم عقل ہونے کی دلیل ہے، قرآن شریف میں ارشاد ہے:

ولا تتمنوا ما فضل اللّٰہ بہ بعضکم علی بعض

یعنی تم لوگ کسی ایسی چیز کی تمنا مت کرو جس میں اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے۔( النساء)

 گالی گلوچ سے پرہیز کرنے کی سخت تاکید

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:جو دو آدمی آپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دیں سب کا وبال اسی پر ہوگا جس نے گالی دینے میں پہلی کی ہے جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔( مشکوٰۃ المصابیح :ص ۴۱۱ از مسلم)

زبان کے گناہوں میں گالی دینا بھی ہے یہ بھی ایک ایسی بری چیز ہے جو کسی طرح سے بھی مومن کے شایان شان نہیں ہے، ایک حدیث میں ارشاد ہے:سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر

یعنی مسلمان کو گالی دینا بڑی گنہگاری کی بات ہے اور اس سے جنگ کرنا کفر کی چیز ہے۔( بخاری ومسلم)

 بہت سے مردوں اور عورتوں کو گالی دینے کی عادت ہوتی ہے اور بعض تو اس کو بڑا کمال سمجھتے ہیں حالانکہ یہ جہالت اور جاہلیت کی بات ہے اورا س میں سخت گناہ بھی ہے اور اس کی وجہ سے آپس میں تعلقات بھی خراب ہوتے ہیں اور گالی گلوچ کرتے کرتے مُردوں تک پہنچ جاتے ہیں ایک نے کسی کو گالی دی دوسرے نے اس کے باپ کو گالی دی، پھر پہلے والے نے جواب میں دوسرے والے کے باپ کے ساتھ باپ دادا کو بھی لپیٹ لیا، اس طرح سے اپنے ماں باپ کو گالیاں دلوانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

 حضور اقدسﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا :بڑے بڑے گناہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :یا رسول اللہ! کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دے گا؟آپﷺ نے فرمایا: ہاں! کوئی کسی آدمی کے باپ کو گالی دے تو وہ الٹ کر اس کے باپ کو گالی دے دے گا اور کسی کی ماں کو گالی دے گا تو وہ الٹ کر اس کی ماں کو گالی دے دے گا( بخاری ومسلم)

یعنی خود گالی نہ دی دوسرے سے گالی دلوادی اور اس کا سبب بن گیا تو وہ ایسا ہی ہوا جیسے خود گالی دے دی اور یہ بھی اس زمانے کی بات ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو تعجب ہوا کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو کیسے گالی دے گا آج کل تو بہت سے لوگ ایسے پیدا ہوگئے ہیں جو ماں باپ کو بالکل سیدھی صاف ستھری گالی دے دیتے ہیں، گالی یوں بھی کبیرہ گناہ ہے لیکن ماں باپ کو گالی دینا اور بھی شدید ہے اللہ تعالیٰ جہالت سے بچائے۔

 اگر کوئی شخص کسی کو گالی دے دے تو اچھی بات یہ ہے کہ جس کو گالی دی ہے وہ خاموش ہوجائے اور صبر کرے اور گالی دینے کا وبال اسی پر رہنے دے لیکن اگر صبر نہ کرے اور جواب دینا چاہئے تو صرف اسی قدر جواب دے سکتا ہے جتنا دوسرے نے کہا ہے، اگر آگے بڑھ گیا تو یہ ظالم ہوجائے گا حالانکہ اس سے پہلے مظلوم تھا، اسی کو حضور اقدسﷺ نے کہا کہ جب دو آدمی گالی گلوچ کررہے ہوں تو سب کا گناہ پہل کرنے والے پر ہوگا اور اگر مظلوم نے زیادتی کردی( جسے اولاً گالی دی تھی) تو پھر دونوں گناہ میں شریک ہوگئے۔

حضرت جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں آیا ، وہاں میں نے دیکھا کہ ایک بڑی شخصیت ہے کہ سب لوگ ان کی رائے پر عمل کرتے ہیں جو بھی کچھ فرمایا جھٹ لوگوں نے عمل کرلیا، میں نے لوگوں سے دریافت کیا: یہ کون ہیں؟لوگوں نے بتایا :یہ اللہ کے رسولﷺ ہیں ،میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: علیک السلام یا رسول اللہ! دو مرتبہ ایساہی کہا ، آپﷺ نے فرمایا: علیک السلام مت کہو کیونکہ علیک السلام (زمانہ جاہلیت میں) میت کے لیے کہا جاتا تھا، تم السلام علیک کہو، میں نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں؟فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، وہ اللہ ایسا صاحب قدرت ہے کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے پھر تم اس سے دعاء کرو تو تمہاری تکلیف رفع کردے اوراگر تم کو قحط سالی پہنچ جائے اور تم اس سے دعاء مانگو تو وہ تمہارے لیے( ضرورت کی چیزیں زمین سے) اُگا دے اور جب تم کسی چٹیل زمین میں ہو جہاں گھاس ،پانی اور آبادی نہ ہو اور ایسے موقع پر تمہاری سواری گم ہوجائے، پھر تم اس سے دعاء کرو تو تمہاری سواری تمہارے پاس واپس لوٹا دے۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor