Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 662)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 662)

میںنے عرض کیا :مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ آپﷺ نے فرمایا: ہر گز کسی کو گالی مت دینا، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے بعد کبھی میں نے کسی آزاد کو یا غلام کو یا اونٹ کو یا بکری کو گالی نہیں دی( پھر تین نصیحتوں کے بعد فرمایا کہ) اگر کوئی شخص تم کو گالی دے اور تم کو اس چیز کا عیب لگائے جو تمہارے اندر ہے تو تم اسے اس چیز کا عیب نہ لگائو جو عیب اس کا تم اس کے اندر جانتے ہو۔( مشکوٰۃ المصابیح عن ابی دائود)

دیکھو اس حدیث میں کیسی سخت تنبیہ فرمائی کہ ہرگز کسی کو گالی نہ دینا، جن صحابی کو نصیحت کی تھی انہوں نے ایسی سختی کے ساتھ اس کو پلے باندھا اور ایسی مضبوطی کے ساتھ اس پر عمل کیا کہ کبھی کسی انسان کو یا حیوان کو گالی نہیں دی، اونٹ، بکری، گدھا، گھوڑا کبھی کسی کو گالی کا نشانہ نہیں بنایا۔

 قرآن مجید میں ارشاد ہے:ولا تسبواالذین یدعون من دون اللّٰہ فیسبوااللّٰہ عدوا بغیر علم

اور دشنام مت دوان کو جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ براہِ جہل حد سے گزر کر اللہ کی شان میں گستاخی کریں گے۔

 دیکھئے آیت شریفہ میں مشرکین کے بتوں کو گالیاں دینے سے بھی منع فرمایا اور وجہ یہ بتائی کہ جب تم ان کے بتوں کو گالی دوگے تو وہ تمہارے معبود برحق اللہ جلّ شانہٗ کی شان اقدس میں گستاخی کریں گے ،پس تم اس کا ذریعہ کیوں بنتے ہو؟

اسی طرح سے مسلمانوں کو آپس میں کسی کے خاندان کے بڑوں کو( خاندان نسبی ہو یا دینی یا علمی ہو)گالی دینے یا براکہنے سے پرہیز کرنا لازم ہے کیونکہ ایک فریق دوسرے فریق کے بڑوں کو براکہے گا تو دوسرا فریق بھی جواب میں برا کہے گا اور گالی دے گا، اگر کوئی شخص کسی کے باپ کو گالی دے تو جواب میں دوسرا شخص گالی دینے والے کے باپ دادا اور پردادا کو گالی دے گا اس میں بسااوقات ان لوگوں کو بھی گالی دینے کی نوبت آجاتی ہے جو دنیا سے گزرگئے ہیں ،مردہ لوگوں کو برا کہنے کی ممانعت خصوصیت کے ساتھ وارد ہوئی ہے، فرمایا حضوراقدسﷺ نے کہ جو لوگ مرگئے ان کو گالی نہ دو، یعنی برائی کے ساتھ یا د نہ کرو کیونکہ وہ ان اعمال کی طرف پہنچ گئے جو انہوں نے پہلے سے آگے بھیجے( بخاری)

ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ مردوں کو گالی نہ دو، جس کی وجہ سے تم زندوں کو ایذا ء دوگے۔( ترمذی)

یعنی جب مردوں کو گالی دوگے تو ان کے متعلقین جو زندہ ہیں ان کو تکلیف پہنچے گی اور اس سے دو ہرا گناہ ہوگا، ایک  اموات کو گالی دینے کا دوسرا ان کے متعلقین کا دل دکھانے کا۔

 ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کیا کرو اور ان کی برائیوں سے( زبان کو) روکے رکھو۔ ( ابو دائود، ترمذی) اسلام پاکیزہ دین ہے اس میں جانوروں کو گالی دینے تک کی بھی ممانعت کی گئی، ایک حدیث میں ارشاد ہے : مرغ کو گالی نہ دو کیونکہ وہ نماز کے لیے جگاتا ہے۔( ابو دائود)

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں: ایک شخص کو چیچڑی نے کاٹ لیا( یہ جوں سے ذرا سابڑا جانور ہوتا ہے جو اونٹ وغیرہ کے جسم میں ہوتا ہے) اس شخص نے چیچڑی کو گالی دے دی، حضور اقدسﷺ نے فرمایا: اس کو گالی نہ دے، کیونکہ اس نے اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی کو نماز کے لیے جگایا تھا۔( جمع الفوائد)

فائدہ:لفظ سب کا ترجمہ جگہ جگہ ہم نے گالی دینے سے کیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فحش، بازاری گالی دی جائے وہی گالی ہے بلکہ کسی بھی برے لفظ سے یاد کرنا بھی گالی میں شامل ہے، خوب سمجھ لیں ،اگر ماں بہن کی گالی نہ دی بلکہ بیہودہ ،گدھا، کمینہ کہہ دیا، یہ بھی ان احادیث کے مفہوم میں آتا ہے جن میں سب و شتم کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔

 کسی مسلمان کو فاسق یا کافر یا اللہ کا دشمن کہنے کا وبال

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے کسی آدمی کو کافر کہہ کر پکارا یا یوں کہا کہ اے اللہ کے دشمن اور وہ ایسا نہیں ہے تو یہ کلمہ اسی پر لوٹ جاتا ہے جس نے ایسا کہا۔ ( مشکوٰۃ المصابیح از بخاری ومسلم)

اس حدیث میں اس بات سے ممانعت فرمائی ہے کہ مسلمان کو کافر یا اللہ کا دشمن کہا جائے دوسری روایت میں ہے کہ جو شخص کسی کو فاسق یا کافر کہہ دے اور وہ ایسا نہیں ہے تو یہ بات اسی پر لوٹ آتی ہے جس نے زبان سے نکالی( بخاری) حضور اقدسﷺ نے ممانعت کا عجیب طرز اختیار فرمایا، آپﷺ نے فرمایا: جب کسی مسلمان کو کافر یا اللہ کا دشمن کہا اور وہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے تو جس نے کہا اس کی بات اس پر لوٹ آئے گی، بہت سے مرد اور عورتیں غصہ کے جنون میں آپس میں ایک دوسرے کو کافر یا اللہ کا دشمن کہہ دیتے ہیں، اس کا وبال بہت سخت ہے ۔بات وہی ہے کہ زبان پر ہر شخص کو سخت کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ذرا ذرا سے کلمہ میں کیا سے کیا ہوجاتا ہے اور انسان کو اس کا دھیان بھی نہیں ہوتا، یہ بات خوب خوب ذہن نشین کرلو۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor