Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 664)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 664)

حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دل لوگوں میں سب سے زیادہ بدترین آدمی اس کو پائو گے جو (دنیا میں) دو چہرے والا ہے، ان لوگوں کے پاس ایک منہ سے آتا ہے اور اُن لوگوں کے پاس دوسرا منہ لے کر جاتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا میں جس کے دوچہرے تھے، قیامت کے دن اس کی آگ کی دوزبانیں ہوں گی۔( سنن ابو دائود)

دوچہرہ کایہ مطلب نہیں ہے کہ درحقیقت پیدائشی طور پر اس کے دومنہ تھے بلکہ چونکہ ہر فریق سے اس طرح بات کرتا تھا جیسے خاص اسی کا ہمدرد ہے، اس لیے ایسے شخص کو دو منہ والا فرمایا ۔گو یا کہ فریق اول سے جو بات کی وہ اس منہ سے کی اور دوسرے فریق کے ساتھ دوسرا منہ لے کر کلام کیا اور بات میں دوغلہ پن اختیار کیا،ایسے شخص کے ایک ہی چہرے کو دوچہرے قرار دیا گیا کیونکہ غیرت مند آدمی اپنی زبان سے جب ایک بات کہہ دیتا ہے تو اس کے خلا ف دوسری بات اسی زبان سے کہتے ہوئے شرم کرتا ہے ،بے ضمیر اور بے غیرت آدمی ایک چہرہ کو دوچہروں کی جگہ استعمال کرتا ہے چونکہ زبان کی الٹا پلٹی کی وجہ سے ایک چہرے کے دوچہرے قرار دئیے گئے اور ایک زبان سے دوشخصوں کا کردار ادا کیا اس لیے قیامت کے دن اس حرکت بد کی سزایہ مقرر کی گئی کہ ایسے دوغلے شخص کے منہ میں آگ کی دوزبانیں پیدا کردی جائیں گی، جن کے ذریعہ جلتا بھنتارہے گا اور اس کا یہ خاص عذاب دیکھ کر لوگ سمجھ لیں گے کہ یہ شخص دومنہ والا اور دوغلہ تھا ۔ اعاذنا اللہ من ذلک

بہنو! ایسی حرکت بد سے بچو، جن لوگوں میں رنجش اور پرخاش ہو ان سے ملنے میں تو کوئی حرج نہیں لیکن ہر فریق کو اس کی غلطی سمجھائو اور دونوں میں میل ملاپ کی کوشش کرو، ادھر کی بات ادھر پہنچا کر اور ہر ایک کی بات صحیح کہہ کر پیٹھ نہ ٹھونکو اور لڑائی کے بڑھانے کا ذریعہ نہ بنو، اور اللہ سے ڈرو جو علیم بذات الصدور ہے۔

 غیبت کسے کہتے ہیں؟ اور اس کا نقصان اور ضررووبال کیا ہے؟

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ( ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے ) فرمایا : کیا تم جانتے ہو، غیبت کیا ہے ؟عرض کیا :اللہ اور اس کا رسولﷺ ہی سب سے زیادہ جانتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا :( غیبت یہ ہے کہ تو) اپنے بھائی کو اس طریقہ سے یاد کرے جو اسے برا لگے، اس پر ایک صاحب نے عرض کیا کہ اگر وہ بات میرے بھائی میں موجود ہو جو میں بیان کررہا ہوں( تو اس کا کیا حکم ہے) اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر تو نے بھائی کا وہ عیب بیان کردیا جو( اس میں ہے) تب تو تونے اس کی غیبت کی اور اگر تونے اس کے بارے میں وہ بات کہی جو اس میں نہیں تو تو نے اسے بہتان لگایا۔ (مشکوٰۃ المصابیح :ص ۴۱۲ از مسلم)

اس حدیث مبارک سے معلوم ہوا کہ غیبت یہ ہے کہ کسی کا ذکر اس طرح کیا جائے کہ اسے ناگوار ہو، اس سے ان لوگوںکی غلطی بھی معلوم ہوگئی جو کسی کی برائی کرتے ہوئے یوں کہتے ہیں کہ ہم نے غلط تو نہیں کہاجو کچھ کہا ہے درست کہا ہے ،حضوراقدسﷺ نے فرمایا : جو کوئی برائی یا عیب کسی کے اندر موجود ہو پھر اس کو بیان کروگے تو غیبت ہوگی اور اگر اس کے اندر و ہ خرابی اور عیب و برائی نہیں ہے جو بیان کررہے ہو تو یہ تو بہتان ہوگا جو غیبت سے بھی زیادہ سخت ہے۔ بعض جاہل کہتے ہیں یہ میں اس کے منہ پر کہہ دوں گا کہ میں نے اس کے منہ پر کہا ہے پیٹھ پیچھے غیبت نہیں کی ہے، یہ دلیل شیطان نے سمجھائی ہے۔ اس دلیل سے غیبت کرنا جائز نہیں ہو جاتا نبیﷺ نے فرمایا: غیبت یہ ہے کہ کسی کا ذکر اسی طرح کیا جائے کہ اسے ناگوار ہو، معلوم ہوا کہ گناہ کی بنیاد دل دکھانے اور ناگوار ہونے پر ہے سامنے برائی کی نہ جائے تب گناہ ہے ،منہ پر کی جائے تب گناہ ہے۔

 کیا کیا چیز غیبت ہے:

علماء نے فرمایا کہ کسی کے گناہ کا ذکرکرنا، کپڑے میں عیب بتانا ،نسب میں کیڑے ڈالنا،بر ے القاب سے یاد کرنا، اس کی اولاد کوکالابے ڈھنگا بتانا اور ہر وہ چیز جس سے دل دکھے اس سب کا کرنا حرام ہے اور غیبت میں داخل ہے۔

 عورتوں میں یہ بڑا مرض ہے کہ بات بات میں نام دھرتی ہیں اور طعن و تشنیع کرتی ہیں جہاں دو چار مل کر بیٹھیں عیب لگانے شروع کردئیے، فلاں کالی ہے اور وہ پھوڑیا ہے اور وہ چندھی ہے، اسے خاندان کے رسم و رواج کا علم نہیں، کپڑے ڈھنگ کے نہیں پہنتی، نہ کپڑا سینہ جانتی ہے نہ کاٹنا، بس پان کھانے کے سوا کچھ نہیں جانتی، ایسی ہے ویسی ہے یہ سب باتیں سراسر غیبت ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor