Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 665)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 665)

غیبت زنا سے زیادہ سخت ہے

رسول اللہﷺنے فرمایا: غیبت زنا سے زیادہ سخت( گناہ اور وبال کی چیز ) ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! غیبت زنا سے زیادہ سخت کیسے ہے؟ارشاد فرمایا: زانی توبہ کرتا ہے خدا اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے اور غیبت والے کی اس وقت تک بخشش نہ ہوگی جب تک وہ شخص خود معاف نہ کردے جس کی غیبت کی ہے۔( مشکوٰۃ شریف)

غیبت کرنا مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے

 قرآن مجید میں ارشاد ہے:اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچا کرو کہ بعضے گمان گناہ ہوتے ہیں اور سراغ مت لگایا کرو اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کرے کیا تم سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تم ناگوار سمجھتے ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

 غور فرمائیں، قرآن مجید کی اس آیت میں غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر قرار دیا ہے پس جب کسی کی غیبت کی تو یہ ایسا ہی جیسے موت کے بعد اس کا گوشت کھایا، مطلب یہ ہے کہ جس طرح مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے طبعاً نفرت ہے ایسا ہی اس کی غیبت سے سخت نفرت ہونی چاہئے۔

 احیاء العلوم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضور اقدسﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے: جس نے( غیبت کرکے) دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھایا آخرت میں اس کا ( جسم والا گوشت) غیبت کرنے والے کے قریب کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کو کھالے، اس حالت میں کہ وہ مردہ ہے جیسا کہ تو نے اس کا زندگی کی حالت میں گوشت کھایا تھا، اس کے بعد وہ اس گوشت کو کھائے گا…اور چیختا جائے گا اور اپنا منہ بگاڑتا جائے گا۔

حضرت عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دوعورتوں نے روزہ رکھا تھا ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہاں دوعورتیں ہیں جنہوں نے روزہ رکھا ہے اور قریب ہے کہ وہ پیاس سے مرجائیں، یہ سن کر آپﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی وہ شخص دوپہر کے وقت پھر آیا اور عرض کیا: یانبی اللہ! اللہ کی قسم وہ مرچکی ہیں یا مرنے کے قریب ہیں ۔آپﷺ نے فرمایا: ان دونوں کو بلائو، چنانچہ دونوں حاضر ہوگئیں اور ایک پیالہ لایا گیا، آنحضرتﷺ نے ان میں سے ایک عورت سے فرمایا : قے کر چنانچہ اس نے قے کی، تو پیپ اور خون یا گوشت کے ٹکڑے نکلے، جس سے آدھا پیالہ بھر گیا پھر دوسری عورت کو قے کرنے کا حکم فرمایا چنانچہ اس نے بھی پیپ اور خون اور ادھ کچے گوشت وغیرہ کی قے کی یہاں تک کہ پورا پیالہ بھر گیا، آپﷺ نے فرمایا : ان دونوں نے حلال چیزوں کو ترک کرکے روزہ رکھ لیا اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام فرمائی تھیں ان کے چھوڑنے کا روزہ نہ رکھا( بلکہ اس میں مشغول رہیں) ان میں سے ایک دوسری کے پاس بیٹھی اور دوسروں کے گوشت کھاتی رہیں( یعنی غیبت کرتی رہیں)

حضرت ماعزاسلمی رضی اللہ عنہ ایک صحابی تھے ان سے ایک مرتبہ گناہ( یعنی زنا) صادر ہوگیا، انہوں نے بارگاہ رسالت میں آکر چار مرتبہ اپنے گناہ کا اقرار کیا ، ہر بار آپﷺ ان کی طرف سے بے توجہی برتتے رہے لیکن وہ برابر اقرار کرتے رہے پھر آپﷺ نے فرمایا کہ اس بات کے کہنے سے تمہارا کیا مقصد ہے؟انہوں نے عرض کیا: آپ مجھے پاک فرمادیں، اس پر آپﷺ نے ان کو سنگسار کرنے، یعنی پتھروں سے مارنے کا حکم دیا، چنانچہ ان کو سنگسار کردیا گیا۔

 اس کے بعد حضور اقدسﷺ نے اپنے صحابہ میں سے دو آدمیوں کی یہ بات سنی کہ ایک دوسرے سے کہہ رہا ہے کہ اس کو دیکھو ! اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی، پھر اس کے نفس نے اس کو نہیںچھوڑا یہاں تک کہ ( اس نے خود ہی آکر گناہ کا اظہار اور اقرار کیا اور) اس کو سنگسار کردیا گیا ،جیسے کتے کو سنگسار کیا جاتا ہے اس کی یہ بات سن کر اس وقت آپﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی، پھر تھوڑی دیر چلتے رہے یہاں تک کہ ایک مردہ گدھے پر گذر ہوا، جس کی ٹانگ اوپر کو اٹھی ہوئی تھی ،آپﷺ نے ان دونوں شخصوںکو بلایا( جنہوں نے مذکورہ کلمات کہے تھے) اور فرمایا کہ فلاں فلاں کہاں ہیں؟ان دونوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم حاضر ہیں فرمایا: تم دونوں اترو اور اس مردہ گدھے کی لاش میں سے کھائو، ان دونوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس میں سے کون کھائے گا؟ فرمایا: وہ جو تم نے ابھی اپنے بھائی کی بے آبروئی کی( یعنی غیبت کی اور براکہا ) وہ اس کے کھانے سے بھی زیادہ سخت ہے قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے بلاشبہ یہ شخص( یعنی ماعز رضی اللہ عنہ اپنی سچی توبہ اور ندامت کی وجہ  سے ) جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔( سنن ابی دائود)

  ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor