Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں (شمارہ 668)

خواتین اسلام سے رسول اکرمﷺ کی باتیں

(شمارہ 668)

دوسری بات یہ کہ کسی کو کسی طرح سے بھی تہمت لگانے سے پرہیز کرنا واجب ہے۔ اگر کسی نے کسی کو تہمت لگا دی تو کوئی معمولی بات نہیں ہے اس کی وجہ سے قیامت کے دن بڑی مصیبت کھڑی ہوجائے گی۔ جس کسی کو تہمت لگائی تھی اس سے چھٹکارہ کرنا ضروری ہوگا، دوزخ کی پشت پر پل صراط قائم کی جائے گی، سب کو اس پر سے گزرنا ہوگا جو اس سے پار ہوتا جائے گا، جنت میں داخل ہوتا چلا جائے گا، تہمت لگانے والا شخص پل صراط پر روک لیا جائے گا اور جب تک تہمت لگانے کے گناہ سے پاک و صاف نہ ہوگاجنت میں نہ جائے گا، پاک صاف ہونے کے دو طریقے ہیں: یا تو وہ شخص معاف کردے جس کو تہمت لگائی یا اپنی نیکیاں اس کو دے کر اور اس کے گناہ اپنے سر لے کر دوزخ میں جلے، چونکہ وہاں بندے حاجت مندہوں گے اس لیے یہ امید تو بہت کم ہے کہ کوئی شخص معاف کردے، اب دوسری صورت یعنی دوزخ میں جلنا ہی رہ جاتا ہے، کسی کو ہمت ہے جو دوزخ میں جلنے کا ارادہ کرے، جب اس کی ہمت نہیں تو اپنے نفس اور زبان پر قابو پانا ضروری ہوا، بہت سی عورتیں اور مرد اس بات کا بالکل خیال نہیں کرتے کہ کسی کے حق میں کیا کہہ گزرے، کس پر کیا تہمت لگا دی اور کس کس بہتان سے نواز دیا، جہاں ساس بہوئوں میں لڑائی ہوئی جھٹ کہہ دیا کہ رنڈی ہے، سوکنیں لڑنے لگیں تو ایک نے دوسری کو بدکار کہہ دیا کہ شرابی ہے اور تہمت لگانے میں ان لوگوں تک کونہیں بخشا جاتا جن سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی، بلکہ جو لوگ مر گئے دنیا سے جا چکے ان پر بھی تہمتیں دھر دیتے ہیں، یہ بہت ہی خطرناک بات ہے، جس کی پاداش بہت سخت ہے۔

 جو لوگ دنیا میں کمزور ہیں یادور ہیں یا مر گئے ہیں، بدلہ لینے سے عاجز ہیں ان کے آگے یا پیچھے اگر ان کو کوئی تہمت لگادی اور وہ بدلہ نہ لے سکے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ معاملہ یہیں ختم ہوگیا، آخرت کا دن آنے والا ہے جہاں پیشی ہوگی، حساب کتاب ہوگا، مظلوموں کو بدلے دلائے جائیں گے، اس دن کیا ہوگا؟ اس کو غور کرنا چاہئے، عام لوگ تو پھر بھی کچھ نہ کچھ حیثیت رکھتے ہیں، اپنازرخرید غلام تو دنیا کے رواج میں کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتا، لیکن اگرکسی نے اپنے زر خرید غلام کو زنا کی تہمت لگا دی تو تہمت لگانے والوں پر قیامت کے دن حدقائم کی جائے گی، الّایہ کہ وہ تہمت لگانے میں سچا ہو( کمافی الترغیب و الترہیب عن البخاری ومسلم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: ہلاک کرنے والی سات چیزوں سے (خاص خصوصیت اور اہتمام کے ساتھ) بچو، حضرات صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ وہ سات ہلاک کرنے والی چیزیں کیا ہیں؟فرمایا:

۱) اللہ کے ساتھ شرک کرنا

۲)جادو کرنا

۳)اس جان کو قتل کرنا جس کا قتل اللہ نے حرام فرمادیا مگر یہ کہ حق کے ساتھ ہو( جس کو علماء اور شرعی قاضی جانتے اور سمجھتے ہیں)

۴) سود کھانا

۵) یتیم کا مال کھانا

۶)میدان جہاد سے پشت پھیر کر بھاگ جانا

۷)پاک باز مومن عورتوں کو تہمت لگانا( جو برائیوں سے ) غافل ہیں۔( بخاری و مسلم)

یعنی جو عورتیں پاکباز اور عصمت والی ہیں ان کو تہمت لگانا، ان بڑے بڑے گناہوں میں شامل ہے جو ہلاک کر دینے والے ہیں یعنی دوزخ میں پہنچانے والے ہیں۔ ان کو تہمت لگانا اس لیے سخت ہے کہ انہیں برائی کا دھیان تک نہیں ہے اور جنہیں زبان پر قابو نہیں مرد ہوں یا عورت وہ ان بیچاریوں پر تہمتوں کے گولے پھینکتے رہتے ہیں، اگر چہ کسی ایسی عورت پر بھی تہمت لگانا درست نہیں جس کا چال چلن مشکوک ہو۔

نقل اتارنے پر تنبیہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے (ایک مرتبہ کسی موقع پر) رسول اکرمﷺ سے عرض کردیا کہ صفیہ بس اتنی سی ہے( یعنی اس کے حسن وغیرہ کی کوئی مزید خامی بتانے کی ضرورت نہیں ہے پستہ قد ہونا ہی کافی ہے) یہ سن کر رحمۃللعالمینﷺنے فرمایا کہ تو نے ایساکلمہ کہا ہے کہ اگر اسے سمندر میں ملادیا جائے تو سمندر کو بھی بگاڑ ڈالے، یہ واقعہ بتا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ میں نے ایک مرتبہ حضور انورﷺ کے سامنے ایک آدمی کی نقل اتاری،اس پر سید المرسلینﷺ نے فرمایا کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ کسی کی نقل اتاروں اگر چہ مجھے ایسا کرنے پر( دنیا کی) اتنی اتنی دولت مل جائے۔(سنن ابو دائود: ص ۳۱۲ ج ۲ باب فی الغیبۃ کتاب الادب)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کے قدو قامت ،ہاتھ پائوں ،ناک کان وغیرہ کو عیب دار بتانا ( اگرچہ واقعتا عیب دار ہو) اور کسی کی بات یا چال ڈھال کی نقل اتاری جاتی ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں سمجھا جاتا، جس کی وجہ سے سخت گنہگار ہوتے ہیں ،چونکہ یہ بات حقوق العباد سے ہے اس لیے جب تک بندہ سے معافی نہ مانگی جائے توبہ سے بھی معاف نہ ہوگا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor